شاید آپ کو یہ سوال پہلی نظر میں بچگانہ لگے، لیکن مختلف فنون کے ماہرین کے ہاں ا س کے جوابات مختلف ہو سکتے ہیں، مثلاً: انجینئر جو اعداد و شمار کی حساسیت کا قائل ہے وہ اس کا جواب یوں دے سکتا ہے: "4.00000approx"، اسی طرح وسائل کی کمیابی (Scarcity) سے پریشان اکنامسٹ اگر اس کا جواب سوچے تو شاید اس کا جواب 2 سے بھی کم یا منفی میں ہو۔ یہی سوال

اگر ایم بی اے سے پوچھا جائے تو وہ حقائق کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی عادت کے پیش نظر شاید 6 سے 8 تک جا پہنچے۔ جبکہ ریورس انجینئرنگ(Reverse Engineering)کا ماہر اکاؤنٹنٹ شاید یہ کہہ کر آپ کو حیران کر دے کہ آپ فرمائیے، آپ کیا جواب چاہتے ہو؟ یہ کہنے کو تو ایک لطیفہ ہے لیکن ایک بہت بڑی حقیقت کا غماز بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان جو تعلیم حاصل کرتا ہے اس کی صرف معلومات ہی نہیں، اس کا مزاج بھی انسان کی طبیعت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس تعلیم کے اثر سے ہمارا زاویہ نگاہ ہی تبدیل ہو کر رہ جاتا ہے۔ ذرا غور کیجیے کہ آج جبکہ دنیا کا ایک وسیع رقبہ غیر آباد ہے، بے شمار معدنی ذخائر کو ہاتھ بھی نہیں لگا اور تجارت و معیشت کے تصورات (Ideas) وافر مقدار میں موجود ہیں، آج کا انسان آبادی بڑھنے سے پریشان ہے، خوراک کی کمی سے گھبرا رہا ہے، پانی کے وسائل ختم ہو جانے کے ڈراوے دے رہا ہے۔ ظاہر ہے اس میں اکنامکس کے اس نظریے کا بڑا دخل ہے کہ وسائل ہمیشہ محدود ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ آیت ذہن سے نکل جاتی ہے کہ ہر ''مخلوق کا رز ق اللہ تعالی نے اپنے ذمے رکھا ہے۔''


ایک اور مثال سمجھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے ''ورلڈ فوڈز'' نے حال ہی میں خوراک کی کمی دور کرنے کے لیے یہ تجویز پیش کی ہے کہ کیڑے مکوڑوں کو خوراک کا حصہ بنانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک میں خنزیر کو پالنے اور اس کی فوڈ پروسیسنگ کے دوران آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ جبکہ کیڑوں کی افزائش میں ایسی کوئی خرابی نہیں

ایک اور مثال سمجھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے ''ورلڈ فوڈز'' نے حال ہی میں خوراک کی کمی دور کرنے کے لیے یہ تجویز پیش کی ہے کہ کیڑے مکوڑوں کو خوراک کا حصہ بنانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک میں خنزیر کو پالنے اور اس کی فوڈ پروسیسنگ کے دوران آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ جبکہ کیڑوں کی افزائش میں ایسی کوئی خرابی نہیں۔ یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ نئی نئی ڈشیں متعارف کرا کے لوگوں کی گھن دور کی جائے تاکہ ایشیا اور یورپ کے لوگ اسے خوراک بنانے پر تیار ہو سکیں۔ دیکھیے! خوراک کی فوری نہیں متوقع کمی کے بارے میں کیسی کیسی تجاویز سامنے آرہی ہیں۔ کیا اس میں ان کی تعلیم کا اثر واضح طور پر محسوس نہیں ہوتا؟
اسلام نے منصوبہ بندی سے منع نہیں کیا، لیکن جن چیزوں کی ذمہ داری اللہ تعالی نے خود لے لی ہو، اس میں منصوبہ بندی کتنی بے عقلی کی بات ہے۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی انسان اپنے قد کے بڑھنے کی منصوبہ بندی کرے۔ قدرتی طور پر جب اپنے مناسب وقت پر یہ کام خود بخود انجام پا جاتا ہے تو اس کی منصوبہ بندی کرنے کو وقت ضائع کرنے کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے؟ یا اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے سانس لینے کی یا پلکیں جھپکانے کی منصوبہ بندی کرے۔ کیا آپ ایسی محنت کو سراہنے کی غلطی کریں گے؟ بالکل اسی طرح اللہ تعالی نے اس دنیا کو جب تک قائم رکھنا ہے، اس وقت تک انسانی حیات کے وسائل اس زمین میں ودیعت کر دیے ہیں۔ اور ہر ذی روح کا رزق اپنے ذمے لے لیا ہے۔ اگر ساری دنیا مشترکہ وسا ئل اعتدال، سے خرچ کرے تو یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پوری انسانیت کے لیے کافی ہیں۔ ہاں! اگر ظلم کا بازار گرم ہو، امریکا میں اربوں کی زرعی اجناس افریقا کی بھوک مٹانے کے بجائے سمندر کی نذر کر دی جائے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں مصنوعی بحران ظاہر کر کے خوراک کو مہنگا رکھنے کی کوشش کریں، دواؤں اور کریموں کو نئی بیماریاں پیدا کرنے اور نئی پروڈکٹس بیچنے کا ذریعہ بنا لیا جائے تو ظاہر ہے ہزار سال کی منصوبہ بندی بھی ایسے مسائل کاکوئی حل پیش نہیں کر سکتی۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ یہ منصوبہ بندی کی صلاحیت قدرتی نظام کی اصلاح کے بجائے انسانی نظام کی خرابیوں کے دور کرنے میں خرچ کی جاتی۔ اسلام کی ہدایت کے مطابق غربت میں کمی کے لیے زکوۃ، عشر اور صدقات کے مالی نظام کو منظم کیا جاتا۔ بددیانتی، ذخیرہ اندوزی اور استحصال کے دروازے بند کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی جاتی تو خوراک کی کمی کے مسائل پیدا ہی نہ ہوتے۔ ان کاموں کو چھوڑ کر آبادی کے کنٹرول اور حرام خوراک کی ترویج میں وسائل خرچ کیے جارہے ہیں۔
میں نے عرض کیا کہ اس میں ٹھیٹ عصری تعلیم کے مزاج کا بڑا دخل ہے۔ بزنس یونیورسٹیوں کے اساتذہ سے درخواست ہے کہ اپنی ٹھیٹ عصری تعلیم کو شریعہ اسکین (Scan) سے ضرورگزاریں اور اپنے طلبہ کو ایسی تعلیم دیں جو ان کے دینی مزاج سے ہم آہنگ ہو، تاکہ وہ معاشرے کے لیے مفید ثابت ہو سکیں۔