تعارف پرسنل سیلنگ کامطلب فروخت کنندہ (Seller) کا گاہک کے ساتھ (اشیا کی خرید و فروخت کے لیے) زبانی (بالمشافہ ،بذریعہ ٹیلی فون، Skype وغیرہ) کے ذریعے گفتگو کرنا۔
مارکیٹنگ کے فنی ماہرین کاکہنا ہے کہ سیلز مین (Sales Man) بمقابلہ دیگر پروموشن ذرائع مثلاً: تشہیر وغیرہ کلائنٹ کی زیادہ توجہ

حاصل کر سکتا ہے۔ یہ بات بھی ہے کہ کسٹمر پروڈکٹ سے کس قدر مطمئن ہے۔ پرسنل سیلنگ (Personal Selling) کے ذریعے کمپنی کی کامیابی یاناکامی کادارومدار سب سے زیادہ انہیں لوگوں پر ہوتا ہے۔ آیا یہ کمپنی کے پرانے خریداروں کو برقرار رکھتے ہوئے نئے خریدار بنا پاتے ہیں یا پرانے خریداروں کے لیے بھی عدم اطمینان کا باعث بنتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے سیلز مین کے پاس فنی معلومات کا ہونا ضروری ہے۔ بحیثیت مسلمان اخلاقی دینی ہدایات کا بھی پیش نظررہنی چاہییں۔ یہاں دونوں کو ذکر کیا جاتا ہے۔


اچھے سیلز مین کی کوشش یہ نہیں ہونی چاہیے کہ وہ کسٹمر کو پروڈکٹ فروخت کرے، بلکہ وہ اپنی گفتگو میں خریدار کی ضروریات اور خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے پروڈکٹ کے فوائد وغیرہ پر اس طرح بحث کرے کہ خریدار خود خریدنے کے لیے تیار ہو جائے۔ ایسا کسٹمر کمپنی سے ہمیشہ کے لیے جڑ جاتا ہے۔

فنی نکات

1 اچھے سیلز مین کی کوشش یہ نہیں ہونی چاہیے کہ وہ کسٹمر کو پروڈکٹ فروخت کرے، بلکہ وہ اپنی گفتگو میں خریدار کی ضروریات اور خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے پروڈکٹ کے فوائد وغیرہ پر اس طرح بحث کرے کہ خریدار خود خریدنے کے لیے تیار ہو جائے۔ ایسا کسٹمر کمپنی سے ہمیشہ کے لیے جڑ جاتا ہے۔
2 سیلز مین کوکسٹمرسے گفتگو کرتے ہوئے یہ بات مدنظررکھنی چاہیے کہ وہ صرف پروڈکٹ فروخت کرنے والا نہیں، بلکہ پوری کمپنی کاترجمان ہے۔ لہذا اسے صرف پروڈکٹ بیچنے کے بجائے کمپنی کے اپنے خریداروں کے لیے کوششوں کا بھی تفصیلی ذکر کرنا چاہیے، مثلاً: وہ پروڈکٹ کو کسٹمر کے معیار کے مطابق بنانے کے لیے کمپنی کی پالیسیوں کا تذکرہ کر سکتا ہے۔
3 سیلز مین کمپنی اورکسٹمر کے درمیان واحد رابطہ ہوتا ہے۔ اس کا فرض ہے کہ کمپنی کی نیک نامی اور اچھی شہرت کا سبب بنے۔ ورنہ نامناسب گفتگو اور طریقہ کار کمپنی کو بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ اس کے نتیجہ میں کمپنی کی سیل (Sale)ختم ہوتی جائے گی جو منافع کی کمی کا سبب ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں اخراجات جوں کے توں ہوں گے۔
4 سیلز مین کو کسی بھی گاہک سے بات کرتے ہوئے تمام حساس معاملات کو مدنظر رکھنا چاہیے، مثلاً: علاقائی کلچر۔ ماہرین کا کہناہے کہ عرب ممالک میں دوران گفتگو کسٹمر سیلز مین کے بہت قریب ہو کر بات کرنا چاہتا ہے، جبکہ اس کے برخلاف جاپانی کلچر میں اس کو بہت معیوب سمجھا جاتا ہے۔ لہذا سیلز مین کو یہ انتظامی معلومات بھی ہونی چاہیں۔
5 سیلز مین کسٹمر سے گفتگو کے انداز کو بھی سمجھنا، بلکہ اس کی مشق کرنی چاہیے۔ الفاظ کے انتخاب میں مقام اور شخصیت کا بہت حد تک دخل ہے۔
اخلاقی ہدایات
1 گفتگو کاآغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کیا جائے۔
2 کسی کمپنی میں ملاقات کے لیے جانے سے قبل متعلقہ آدمی سے وقت لے کر جائیں۔ اور جتنا وقت ملے اسی میں اپنی بات پوری کریں۔
3 کام پر روانہ ہوتے وقت دورکعت نماز صلوٰۃ الحاجت ادا کر لی جائے تاکہ اللہ کی مدد شامل ہو جائے۔ 4 گفتگو بہت نرمی، شائستگی اور پیار و محبت سے کی جائے۔
5 اپنے سامان و مصنوعات کی خوبیاں جو حقیقی ہوں، بیان کرے۔ غیر ضروری مدح سرائی اور فرضی اوصاف کے بیان سے اجتناب کرے۔
6 اگر کلائنٹ کسی بات پر یا آپ کی پروڈکٹ یاطرز معاملہ پر کوئی اعتراض کرے تواس کے اعتراض کا شافی جواب دے، لیکن بات کو غیر ضروری بحث و مباحثہ میں نہ جانے دے۔
7 خوش خلقی اور خندہ پیشانی کا دامن تھامے رکھے۔
8 کلائنٹ کو قائل کرنے کے لیے ہدیہ لے جانابھی ایک مفید عمل ہے۔ (آج کل اس کے لیے سمپل دیے جاتے ہیں ۔)
9 دوران گفتگو جو باتیں طے ہو جائیں۔ انہیں تحریر کر لیا جائے کیونکہ بعد میں بھول جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ جو وعدے کی تکمیل میں رکاوٹ پیدا کر کے بدگمانی کاسبب بن جائے گا۔
10 کلائنٹ کی حیثیت اورفہم و فراست کے مطابق گفتگو کی جائے، حدیث مبارکہ میں ہے کہ لوگوں سے ان کی عقل کے بقدر گفتگو کرو۔
کمپنیز سیلز مینوں میں یہ خصوصیا ت پیدا کرنے کے لیے تربیتی نشستیں کرواتی ہیں، جو بہت مناسب اقدام ہے۔ بڑی کمپنیوں میں سیلز مین عموماً کمپنی کے خریداروں کے شعبہ (Purchasin Dept) سے رابطہ کرتے ہیں۔ ان کو اپنی کوٹیشنز فراہم کرتے ہیں۔ اس دوران بہت سے غیر شرعی اقدامات۔۔۔۔۔۔ مثلا ً: فیصدی کمیشن لے کر پرچیز منیجر کا سیلز مین کو آرڈر دینا، یا کمپنیز کا کمیشن لے کر Fack invoices کو منظور کرنا وغیرہ۔۔۔۔۔۔ ہوتے ہیں جو بسا اوقات آمدنی کے حرام ہونے کا سبب بھی بن جاتی ہیں۔ ان باریک مسائل میں دینی شرعی رہنمائی کو پیش نظر رکھیے۔ محض دنیاوی نفع کے لیے ایسا نہ ہو کہ آخرت داؤ پر لگ جائے۔