اگر ''دیانت'' کی تعریف(Definition) کسی سے پوچھی جائے تو شاید اسے بتانے میں مشکل ہو کیوں کہ یہ ایک فطری بات ہے اور ہر ایسی چیز کی تعریف کرنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ ایسی چیز ہے کہ فطرت سلیمہ کو اس حوالے سے کبھی ابہام پیدا ہی نہیں ہونا چاہیے۔ یہی حال ''بدعنوانی'' یا ''کرپشن'' کے لفظ کا ہے۔ یہ ایسی چیز ہے کہ بہت واضح ہونے کی وجہ سے اس کی کوئی لگی بندھی

تعریف کرنا مشکل ہے۔ جو شخص جانتا ہے کہ کالا اور سفید رنگ جدا ہوتے ہیں وہ یہ بھی جانتا ہے کہ سچ اور جھوٹ میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ جو شخص مشرق اور مغرب کا امتیاز رکھتا ہے وہ دیانت اور بدعنوانی کے فرق کو بھی خوب سمجھتاہے۔ یہی وجہ ہے عام طور پر قرآ ن و حدیث میں ان الفاظ کی وضاحت و تشریح کے بجائے صرف ان کے احکام و نتائج بتا ئے گئے ہیں۔
دوسری جانب بازار میں بددیانتی اور کاروباری جھوٹ کا ایسا رواج پڑ گیا ہے کہ یہ عادت ِبد تاجروں اور ملازم پیشہ حضرات کے ہاں طبیعت ثانیہ یا پیشہ ورانہ ضرورت بن گئی ہے۔ یہی وجہ ہے لوگوں کو ایسی فطری بات کے فوائد و نقصانات سمجھانے اور اس کی توضیح کی ضرورت پڑتی ہے۔ توجہ دلانے کے باوجود بھی محض بعض سلیم الفطرت لوگ ہی مان پاتے ہیں۔ آیئے! ''دیانت'' کے تصور کو ذہن میں تازہ کر کے بازار کا ایک چکرلگائیں۔ زبیر ایک ملازم پیشہ نوجوان ہے۔ وہ اپنے کام کے اوقات میں مستقل آن لائن رہتا ہے۔ غور کیجئے جو آدمی کسی بھی کام کے دوران 20،25 آدمیوں سے تبادلہ خیال بھی کیا کرتا ہو، اس کی اپنے کام پر توجہ کس معیا ر کی ہوگی؟ کیا کام میں یہ عدم دلچسپی یا معیار پر سمجھوتہ دیانت کے خلاف نہ ہوگا ؟


٭۔۔۔۔۔۔ دیانت کا تقاضا صرف یہ نہیں کہ آپ اپنے دل کو مطمئن کرلیں، بلکہ دوسرے تاجروں کی خیر خواہی بھی دیانت کا حصّہ ہے

حمزہ بھی ایک کمپنی کا ملازم ہے۔ یہ اکثر سیلز کا کام کرتا ہے اور آؤٹ ڈور رہتا ہے۔ حمزہ کو یہ شرعی مسئلہ پتہ ہے کہ کسی کا فون آئے تو اٹھانا واجب نہیں۔ اب حمزہ یہ سوچتا ہے کہ اگر کمپنی سے فون آیا تو اٹھاؤں گا تو کوئی نیا کام ذمے لگ جائے گااور اگر نہ اٹھاؤں تو اٹھانا تو واجب نہیں۔ بہتر ہے نہ ہی اٹھاؤں۔ کمپنی والے سمجھیں گے رش میں پھنسا ہو گا۔ گھنٹی کی آواز نہ آئی ہو گی۔ یو ں عزت بھی رہ جائے گی اور کام سے بھی بچ جاؤں گا۔ کیا خیال ہے حمزہ کا یہ عمل دیانت کے خلاف نہیں؟
ہوٹل کے مالک لالہ خان کو پتہ چلا کہ قریب میں ایک اور چائے کا ہوٹل کھلنے والا ہے جس کا معیار اور صفائی ان سے بہتر ہونے کا امکان ہے۔ انہیں خطرہ ہوا کہ ان کے گاہک ٹوٹ نہ جائیں۔ اس کا حل لالہ خان نے یہ کیا کہ اپنے نرخ بہت ہی کم کردیے، نئے ہوٹل والے کو مجبوراً اس سے کم کرنا پڑا۔ اس نقصان کو وہ برداشت نہ کر سکا اور اسے بھاگنا پڑا۔ اس کے بعد ہوٹل کے داخلے کی جگہ پر دوبارہ پرانے نرخ آویزاں نظر آنے لگے۔ کیا خان لالہ کا گاہکوں اور اپنے کاروباری حریف کے ساتھ یہ رویہ دیانت کی کسی تشریح کے تحت داخل ہو سکتا ہے؟
اعظم صاحب امپورٹر ہیں۔ انہیں اس کی بہت فکر رہتی ہے کہ کاروبار میں جھوٹ نہ بولنا پڑے۔ ان کا موبائل کا کام ہے۔ China سے بنوانے کے باوجود وہ گاہک کو بتانا چاہتے ہیں کہ یہ Original ہے۔ اس کے انہوں نے بہت سے حل تلاش کیے۔ کچھ عرصہ وہ دبئی کے ذریعہ امپورٹ کرتے رہے تاکہ گاہک کو بتایا جائے کہ دبئی سے منگوایا ہے تو Original ہی ہوگا۔ کچھ عرصہ انہوں نے Made in Germany لکھی ہوئی پلاسٹک شیٹ کو خصوصی طور پر جرمنی سے بنوا کر موبائل پر چپکایا، تاکہ گاہک کو بتایا جاسکے کہ یہ (یعنی شیٹ)جرمنی کا ہے یا یہ کہنا ممکن ہوکہ آپ خود ہی پڑھ لیں ہم بتائیں گے تو آپ کو شبہ ہو گا۔
چودھری فواد نے اسلامی بینکوں سے مرابحہ (Financing)کی درخواست کی۔ ان کا کاروبار پورے ملک میں پھیلا ہوا تھا۔ انہوں نے ایک پورا گودام سیکورٹی کے طور پر ہی رکھوایا، لیکن انہوں نے ماہانہ قسطیں ادا کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیا۔ اس کے ساتھ ہی وہ غلط معلومات دے کر جواز کا فتویٰ حاصل کر کے عمرے پر تشریف لے گئے۔ چوہدری صاحب کی دینی دیانت کے بارے میں آپ کا فیصلہ کیا ہے؟
آپ نے کچھ اندازہ لگایا کہ لوگ دین کے کسی ایک پہلو پر عمل کر کے، صریح جھوٹ سے اپنے آپ کو بچا کر یا ذومعنیٰ تعبیرات کا سہارا لے کر دل ہی دل میں مطمئن ہوجاتے ہیں کہ ہم نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ حالانکہ دیانت کا تقاضہ صرف اتنا نہیں بلکہ خیرخواہی سے بھی ہے۔ یعنی تجارتی سرگرمیوں میں آپ دوسرے فریق کے خیرخواہ ہوں۔ اپنے تجارتی فائدے کو ضرور مد نظر رکھیں، لیکن اپنے بھائی کو نقصان پہنچانے یا اس کا کاروبار بند کرانے کے درپے ہرگز نہ ہوں۔
(نوٹ: مضمون میں تمثیلی واقعات فرضی ناموں سے لکھے گئے ہیں)