٭۔۔۔۔۔۔ آج کتنے لوگ ہیں جو اسلام کی زریں ہدایت کو غیر ضروری سمجھ کر اپنے ایمان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں جامعۃ الرشید کی حدود میں داخل ہوتے ہی ایک متفکر چہرہ اپنی جانب توجہ کھینچ رہا تھا۔ یہ کلیۃ الشریعہ کے پہلے بیچ کا ایک طالب علم تھا۔ گریجویٹس کو عالم بنانے کا یہ سلسلہ نیا نیا شروع ہوا تھا۔ اس لیے ہمیں جامعہ کے سرپرستوں کی جانب سے ہدایت تھی کہ

ان ''بچوں'' کا خصوصی خیال رکھا جائے ۔ میں نے سبق میں تاخیر کے امکان کے باوجود اس متفکر نوجوان سے دعا سلام مناسب سمجھی ۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ برخوردار نے کوئی فقہی باب پڑھا ہے جس میں بار بار خرید و فروخت کے ''باطل'' یا ''فاسد'' ہونے کا ذکر آتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ تشویش کا شکار ہیں کہ یہ کیسی فقہ ہے جس میں چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے سودا خراب ہو جاتا ہے۔ بندہ نے ان سے کہا: اچھا آپ بتائیے کہ اگر ٹریفک سگنل ہٹا دیا جائے تو کیا ہر گاڑی کو حادثہ پیش آئے گا؟ انہوں نے کہا: نہیں ۔ میں نے کہا: اچھا اکثر گاڑیوںکو حادثہ پیش آئے گا؟کہنے لگے: نہیں بلکہ ہو سکتا ہے کسی بھی گاڑی کو حادثہ نہ ہو۔ میں نے پوچھا: تو سگنل لگائے کیوں جاتے ہیں؟انہوں نے کہا: ممکنہ حادثے سے بچنے کے لیے۔ میں نے کہا : دیکھو! اس تمثیل سے تم فقہ کا حسن سمجھ سکتے ہو۔اسلام کہتا ہے کہ کاروباری سودوں میں کوئی بات مبہم نہ ہو۔اب ایسا نہیں کہ ہر مبہم بات پر تنازع کھڑا ہوجاتا ہے، لیکن بہرحال امکان تو ہوتا ہے۔ لہذافقہ جو اسلامی قانون ہے اس میں اس ٹریفک سگنل کی طرح کچھ علامات طے کر دی گئی ہیں کہ جب بھی یہ پائی جائیں تو تم رک جاؤ ۔ تمہیں اس سے بحث نہیں ہونی چاہیے کہ ہر ہر سودے میں جھگڑا ہوا یا نہیں۔ اسلام نے یہ ہدایت جھگڑوں کے امکان کو ختم کرنے کے لیے دی ہے کیونکہ ایسے بیسیوں سودوں میں کسی نہ کسی میں جھگڑا ہونے کا قوی امکان بہرحال ہے۔ 


آج کتنے لوگ ہیں جو اسلام کی زریں ہدایت کو غیر ضروری سمجھ کر اپنے ایمان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں جامعۃ الرشید کی حدود میں داخل ہوتے ہی ایک متفکر چہرہ اپنی جانب توجہ کھینچ رہا تھا۔ یہ کلیۃ الشریعہ کے پہلے بیچ کا ایک طالب علم تھا۔

یہ بات سن کر متفکر چہرے پر ایک بار پھر اسلام اور فقہ پر غیر متزلزل اعتماد کی رونق بحال ہوتی نظر آئی۔ آج کتنے لوگ ہیں جو اسلام کی ان زریں ہدایت کو غیر ضروری سمجھ کر اپنے ایمان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اسلام بزرگوں کے خوابوں یا فلسفیوں کی دانش کا نام نہیں جو کسی زمانے کا ساتھ دینے سے قاصر ہو جائے ۔ یہ تو احکم الحاکمین کے احکامات کا مجموعہ ہے۔ کمزوری مأخذ Source کی نہیں ہمارے فہم کی ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں عقل سلیم سے نوازے ۔
ساری دنیا کے طبیبوں کا اتفاق ہے کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے ۔ سارے دنیا کے انجینئر اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بھی پروجیکٹ کو احتیاطوں کے ساتھ بنانا بہتر ہے، بنسبت اس کو جیسے تیسے بنا کر اس کی مرمت Repairing کرتے رہنے سے۔ذرا سوچئے کیا Feasibility Report کا ایک ایک حکم لازمی ہوتا ہے؟ نہیں! بالکل نہیں! بلکہ اس کا اکثر حصہ احتیاطوں پر مبنی ہوتا ہے ۔ تاکہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی پروجیکٹ ضائع نہ ہو ۔ کاروباری معاملات میں بھی یہی اصول ہونا چاہیے کہ اتنی احتیاط سے سودا ہو کہ اس پر کوئی تنازعہ کھڑا نہ ہو سکے۔ جب ہر چیز تحریری اور واضح ہو تو بلا وجہ تنازع پیدا کرنے والے کی کون سنے گا ۔ لیکن اگر کچھ واضح ہی نہ ہو تو ہر شخص آزاد ہے کہ کسی طرح اپنی چالاکی کے بل پر تنازع پیدا کرے ۔ معلوم ہوا کہ اسلام کی ہدایات تو انتہائی پیشہ ورانہ انداز کی ہیں، مغرب سے مرعوبیت نہ ہو تو اسلام سے کوئی شکوہ نہ کرے ۔