''جناب ایک سوال زور و شور سے اٹھایا جاتاہے کہ اسلامی بینکنگ میں جو اضافہ دیکھنے میں آیا ہے وہ اس کی اپنی بنیادوں پر نہیں بلکہ مغرب میں معاشی بحران کے نتیجے میں ہے۔ جب معاشی بحران کی کیفیت پیدا ہوئی تو اسلامی بینکنگ کو ایک بوسٹBoostملا۔ آپ اس نقطئہ نظرسے کس حد تک متفق ہیں؟'' میزبان کا سوال کافی مشکل معلوم ہورہاتھا۔

سامنے ایک پینل کی صورت میں مختلف اسلامی بینکوں کے شریعہ ایڈوائزر اور پروڈکشن ہیڈز بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک نوجوان شخصیت نے مائیک ہاتھوں میں لیا اور کہا: ''میرے خیال میں یوں کہنا ٹھیک نہیں ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اسلامی بینکنگ پہلے سے چل رہی تھی۔ معاشی بحران آیا اور گزر گیا۔ اسلامی بینکنگ سے جڑے اداروں میں استحکام رہا جبکہ مروجہ بینکنگ کے بڑے بڑے ستون زمین بوس ہوگئے۔ اس سے ثابت ہوا کہ وہ نظریات جن کا اسلام دعویدار ہے کہ کرنسی کے لین دین کو تجارت سے بدلا جائے۔ مصنوعی تجارت سے گریز کیا جائے۔ معدوم کی خریدوفروخت سے دورر ہا جائے۔ مصنوعی طور پر طلب و رسد پیداکرنے یا کم کرنے کی سعی مذموم ترک کی جائے۔ جوئے اور سٹے کی طرز کی لین دین transaction بند کی جائیں۔ اسلام کے یہ وہ بنیادی اصول ہیں جن کو نظریاتی طورپر سمجھایا جاتا تھا لیکن ان کو ٹیسٹ کرنے کی کوئی لیبارٹری نہ تھی۔ معاشی بحران نے وہ لیبارٹری فراہم کردی جس سے ان تصورات کو حقائق اور اصول کا درجہ مل گیا۔'' یہ نوجوان میزان بینک کے شریعہ پروڈکشن ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ احمد علی تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل میں برکت دے ۔ انہوں نے مختصر سی گفتگو میں بہت سے پہلوؤں پر کافی حد تک روشنی ڈال دی ہے۔


میرے خیال میں یوں کہنا ٹھیک نہیں ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اسلامی بینکنگ پہلے سے چل رہی تھی۔ معاشی بحران آیا اور گزر گیا۔ اسلامی بینکنگ سے جڑے اداروں میں استحکام رہا جبکہ مروجہ بینکنگ کے بڑے بڑے ستون زمین بوس ہوگئے

یہ میریٹ ہوٹل میں اسلامی فائنانس کانفرنس کے دوسرے دن کے ایک سیشن کا واقعہ ہے۔ یہ وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ اسلامی بینکوں میں موجود جزوی خرابیوں سے بحث نہیں کی جارہی۔ ایسی خرابیاں تو ہر ادارے میں ہوتی رہتی ہیں اور ان کی اصلاح کا سلسلہ بھی جاری رہنا چاہیے لیکن بالعموم اسلامی بینک کے جتنے بھی معاملات ہیں مثلاً مرابحہ، سلم، استصناع، شرکت متناقصہ اور اجارہ یہ تمام کے تمام اثاثہ جات کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ صرف کرنسی کا ہیر پھیر کردیا جائے۔ اس طرح ڈپازٹ سائیڈ پر ہمیشہ مضاربہ یا مشارکہ ہوتا ہے اور یہ دونوں فائنانس کے مثالی طریقے ہیں۔ پھر اسلامی بینک کو کریڈٹ کارڈ جاری کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اسے اسٹاک ایکسچینج میں ''بدلے'' اور آپشن کی اجازت نہیں ہوتی۔ کموڈٹی مرابحہ جس میں بعض ناگزیر مسائل کی وجہ سے اسلامی بینک پھنسنا شروع ہوگئے تھے، اس پر اسی اسلامی فلسفے کے تحت تنقید کی گئی تو اس کا دائرہ کار سمٹنا شروع ہوگیا۔ کرنسی کے کاروبار میں مخصوص شرائط اور انتظار کے بعد ہی اسلامی بینک کا ٹریژری ڈپارٹمنٹ کچھ خرید یا بیچ سکتا ہے۔

ان تمام باتوں میں سودی بینک آزاد ہوتا ہے لہذا سودی بینک کمانے میں اسلامی بینک سے بہت آگے ہوتا ہے لیکن جب وہ معاشی بحران میں پھنستا ہے تو اسے زمین بوس ہوتے دیر نہیں لگتی۔ اسلامی بینک کماتا تو محدود پیمانے پر ہے لیکن اس کے بزنس کا رسک شرعی ہدایات کی وجہ سے کم سے کم ہوجاتا ہے۔ چنانچہ معاشی بحران کی صورت میں اسلامی معاشی فلسفے کی حقانیت پر ہم سب کو بحیثیت مسلمان پہلے سے یقین ہے کیونکہ یہ ہمیں اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پتہ چلی۔ ظاہر ہے معلومات کے یہ ذرائع بیسیوں معاشی بحرانوں سے زائد یقین پیدا کرنے والے ہیں۔ البتہ معاشی بحران کے تجربے سے اس یقین کے ساتھ قلبی اطمینان بھی حاصل ہوگیا۔ اب ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ اسلامی معاشی ہدایات ہی اس معاشی طورپر لاغر اور بیمار دنیا کا واحد علاج ہے۔