٭…شریعت نے نفع کی متعین شرح مقرر کرنے کے بجائے اسے مارکیٹ کے حالات اور گاہک کی سمجھ پر چھوڑ دیا ہے، اسی کوطلب ورسد کا اصول کہا جاتا ہے
٭…اسلام نے مصنوعی طور پر قیمتوں کو بڑھنے سے روکنے کے لیے حکمت بھری رکاوٹیں کھڑی ہیں
ایک سوال اکثر پوچھا جاتاہے کہ اسلام میں جائز منافع کسے کہتے ہیں ؟یا نفع کتنے فیصد تک رکھا جا سکتا ہے؟

 اکثر پوچھنے والوں کے خیال میں زیادہ منافع …جس کا تعین وہ خود بھی نہیں کرسکتے… بہرحال حرام ہوناچاہیے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ زیادہ سے زیادہ نفع دس سے پندرہ فیصد ہوسکتاہے،اس سے زیادہ لیناجائز نہیں۔کچھ کا خیال ہے ساراسال نفع کی شرح ایک جیسی رہنی چاہیے،زیادہ رکھناناجائز ہوناچاہیے ۔اس طرح کے مضطرب خیالات آئے دن سننے کوملتے ہیں۔جب وہ جواب میں پہلا جملہ سنتے ہیں کہ اسلام نے نفع کی کوئی متعین حدبندی نہیں کی ہے توان کے خام خیالات کوسخت تکلیف ہوتی ہے اور وہ ہمارادوسراجملہ صحیح طورپر سمجھ ہی نہیں پاتے کہ ہاں کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یا مصنوعی طلب پیداکرکے یا رسد میں مصنوعی کمی ظاہر کرتے ہوئے قیمتوں کو بڑھا چڑھا کر وصول کرنا حرام ہے ۔آئیے! قیمتوں اور منافع کے بارے میں اسلا م کے فلسفے کا بغورجائزہ لیتے ہیں ۔


شریعت نے نفع کی متعین شرح مقرر کرنے کے بجائے اسے مارکیٹ کے حالات اور گاہک کی سمجھ پر چھوڑ دیا ہے، اسی کوطلب ورسد کا اصول کہا جاتا ہے

اسلام نے نفع کی مقدار یا قیمتوںکو متعین کرنے سے شعوری طور پر گریز کیا ہے۔ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مہنگائی کی وجہ سے بازار کے نرخ مقرر کرنے کی درخواست فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دو ،اللہ تعالیٰ ہی مالی تنگی اور وسعت پیداکرتے ہیں اوروہی قیمتوں کا تعین فرماتے ہیں ۔‘‘ یہاں یہ اصول واضح ہوا کہ اگر نارمل حالت ہو، مصنوعی طلب پیداکی جارہی ہو نہ مصنوعی قلت کا اظہا رہو تو قدرتی طوپر جو مارکیٹ میں ریٹ طے ہوگاوہی سب سے عادلانہ نرخ ہوگا ۔یہاں پر یہ زمینی حقیقت بھی ملالیں کہ کوئی دکاندار زیادہ نرخ لگاتو سکتاہے لیکن وہ زیادہ نرخ پر بیچ اسی وقت پائے گا جب گاہک بھی اس کے لیے تیارہو۔نیز اس طرح کوئی دکاندار ایک دوگاہکوں کو دھوکا تودے سکتاہے لیکن مستقل اپنا کاروبار نہیں چلاسکتا،کیونکہ جیسے ہی گاہکوں میں یہ شہرت ہوگی کہ فلاں دکاندار گاہکوں کو بازار سے زیادہ نرخ بتاتاہے تو وہ اس کے پاس جانے سے کترائیں گے ، یوں اس دکاندارکے لیے بازار میں رہنا دشوار ہوجائے گا۔خلاصہ یہ کہ عام طورپر نفع کی زیادہ شرح رکھ کر دکانداری جاری رکھنا بہت مشکل ہے، لہذا شریعت نے اس مسئلے میں نفع کی متعین شرح مقرر کرنے کے بجائے مارکیٹ کے حالات اور گاہک کی سمجھ پر چھوڑ دیا ہے۔ اسی کوطلب ورسد کا اصول بھی کہاجاسکتاہے لیکن جبکہ مکمل مقابلے کی فضاہو ۔
اب یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ وہ کون سی صورتیں ہوسکتی ہیں جس میں مکمل مقابلے کی فضاباقی نہیں رہتی۔شرعی ہدایات پر غور کریں تو خود احادیث نے اس قسم کی بہت سی صورتوں کو واضح کیاہے، چنانچہ احادیث میں اجارہ داری(Monopoly)کی شدیدممانعت ہے ۔کبھی یہ اجارہ داری ایک کمپنی یاتاجر کی شکل میں ہوتی ہے، مثلا: پورے ملک کی چینی کوئی ایک ادارہ یاخاندان فراہم کررہاہے ۔یاپورے ملک کا تیل ایک سرمایہ کار یانجی کمپنی فراہم کررہی ہے۔اب وہ جب چاہیں رسد کا بحران ظاہر کریں اور قیمتیں بڑھادیں ۔اسی طرح کبھی دوتین کمپنیاں ہوتی ہیں لیکن آپس میں مفاہمت کرلیتی ہیں کہ ہم فلا ں لیول سے قیمت نیچے نہیں لے جائیں گے ۔اب بظاہر تویہ مقابلہ ہے لیکن حقیقت میں نوراکشتی ہے۔
اسی طرح شریعت نے ذخیرہ اندوزی منع کی ہے جو رسد کی مصنوعی قلت ظاہر کرتی ہے اور اس سے قیمتیں بڑھ جاتی ہیں ۔اسی طرح احادیث میں تلقی بالجلب یا بیع الحاضر للبادی سے منع کیاگیاہے۔اول الذکر کامعنی ہے تجارتی قافلوں کے منڈی پہنچنے سے پہلے ہی سامان خرید لیاجائے ۔اور ثانی الذکر کا مفہوم ہے دیہاتی زمیندارکی فصل کو کوئی شہری بروکر اپنے گودام میں ذخیرہ کرکے آہستہ آہستہ فروخت کرے ۔ظاہرہے یہ ایک معروف تجارتی نظم میں دخل اندازی ہے جس سے کوئی منفی سوچ کا حامل قیمتوں پر اثرانداز ہوسکتاہے ۔ایسی تمام صورتیں جن میں قیمتیں رسدوطلب کے مصنوعی بحران پیداکرکے بڑھائی جاتی ہیں ،وہ ناجائز ہیں ۔اسی طرح کسی کی مجبوری سے ایسی قیمت پر مال خریدنا یا بیچناکہ بازارمیں ایسی قیمت لگتی ہی نہ ہوتو یہ بھی گاہک کی رضامندی مشکوک ہونے کی وجہ سے غلط ہے ۔آپ انداز ہ کرسکتے ہیں کہ جس طرح اسلام نے قیمتیں متعین نہ کرکے حکمت سے کام لیاہے ،بالکل اسی طرح مصنوعی طورپر قیمتوں کو بڑھنے سے روکنے کے لیے بھی حکمت بھری رکاوٹیں کھڑی کی ہیں ۔ اسلام کے قریب آ کر دیکھیے! ایک سمندر آپ کا منتظر ہے۔