سے16 سال مادیت پر مبنی نصاب پڑھنے کے بعد روحانی حقائق کا فوری ادراک ایک مشکل امر بن جاتا ہے۔ چنانچہ جب اسلام کی تعلیمات میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ سودی مال کی وصولی کے باوجود مال کم ہو جاتا ہے اور زکوۃ میں کچھ مال نکال دینے کے باوجود مال بڑھ جاتا ہے، تو سادے جمع تفریق سے اسے سمجھنا کافی مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک راسخ العقیدہ مسلمان کے لیے تو اس بات پر یقین کرنا کچھ مشکل نہیں،البتہ مادیت زدہ مسلمانوں کے لیے چند مثالیں ذکر کی جا سکتی ہیں جس سے بات سمجھنا شاید آسان ہو جائے۔

دیکھیے! مارکیٹنگ پر ہر کمپنی بے تحاشا خرچ کرتی ہے۔ کیا یہ خرچہ نہیں؟ ظاہر ہے یہ خرچہ ہی ہے اور ٹھیک ٹھاک خرچہ ہے۔ لیکن اس امید سے کر دیا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے پورے کاروبار کو کئی سال فائدہ ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بعض’’ خرچے‘‘ ایسے ہوتے ہیں جو مفید ہوتے ہیں۔ ان سے مال کی قدر (Value)بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح مینٹیننس کے خرچے کو مثال بنایا جا سکتا ہے۔ دیکھنے میں خرچہ ہے لیکن اگر فلیٹ کی انتظامیہ اس کے ذریعے فلیٹوں کی دیکھ بھال نہ کرے تو کچھ دن میں انسانی آبادی جنگل لگنے لگے۔ یہ بھی ایسا ہی خرچہ ہے جو دیکھنے میں مال میں کمی کا باعث ہے لیکن حقیقت میں مال کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔


٭…مارکیٹنگ پر ہر کمپنی بے تحاشا خرچ کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بعض ’’خرچے‘‘ مفید ہوتے ہیں ٭… رسول اللہ کے تجویز کردہ حفاظتی طریق کار یعنی زکوۃ کی ادائیگی سے نہ جانے ہم لوگ کیوں غافل ہیں؟

اب آئیے !زکوۃ کو دیکھتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس نے اپنے مال سے زکوۃ نکال دی۔اس نے اپنے مال کو محفوظ کر لیا۔ اسی طرح دوسری حدیث میں وضاحت سے مذکور ہے کہ جس نے اپنے مال میں زکوۃ کو چھوڑے رکھا تو یہ اس مال کو ختم کر کے چھوڑے گا۔ سوچیے! اگر کوئی شخص مال میں کمی کے ڈر سے مینٹیننس پر خرچ نہ کیا کرے تو اس کے اصل مال کا کیا ہو گا؟ ظاہر ہے کہ وہ مال اپنی اصل قدر کھونا شروع کر دے گا۔ کوئی گاڑی اگر سروس کے بغیر ہی چلتی ہے تو کچھ عرصے کے بعد کباڑیا بھی اسے لینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرے گا۔ اگر دفتر کی صفائی کے لیے نظم نہیں بنے گا تو وہ کچھ ہی عرصے میں کاغذ کا گودام نظر آنے لگے گا۔ اگر لان کی گھاس وقت پر نہ کٹے گی تو خوبصورت سبزہ زار ویران ہو کر سانپوں اور حشرات الارض کا مسکن بن جائے گا۔ اگر گھر میں ایک کمرہ فالتو سامان کے لیے مصروف نہ کیا جائے گا تو سارا گھر ہی اسٹور کی شکل اختیار کر لے گا۔ یہ اور اسی قسم کی کتنی ہی مثالیں ذہن میں آتی جا رہی ہیں جن سے یہ روحانی حقیقت سمجھنا چنداں مشکل نہیں کہ واقع میںکچھ اموال (سود کی طرح) ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی وصولی سے اصل مال ہی ضائع یا بے قدر ہو جائے اور کچھ اموال (زکوۃ کی طرح) اگرچہ بظاہر خرچ کیے جاتے ہیں لیکن ان سے اصل اموال کی حفاظت رہتی ہے۔
ہر شخص اپنے مال کی حفاظت کی پوری فکر رکھتا ہے اور کوئی لاکر بنواتا ہے،کوئی سیکورٹی گارڈ رکھتا ہے، کوئی تکافل کرواتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے تجویز کردہ حفاظتی طریقے کار یعنی زکوۃ کی ادائیگی سے سے نہ جانے ہم لوگ کیوں غافل ہیں؟ آئیے ! اپنے اموال کو اللہ تعالیٰ کی خصوصی حفاظت میں لانے کے لیے زکوۃ کی ادائیگی کا اہتمام آج ہی سے شروع کریں۔ SCSکے تحت آج کل عشرہ آگاہی زکوۃ منایا جا رہا ہے۔ آپ زکوۃ کے بارے میں ہر قسم کی رہنمائی کے لیے کے 08:00تا12:00کے درمیان کبھی بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔

{fcomment lang=en_GB}
[module-214]