جب کوئی کمزورانسان اپنے چھوٹے اورمحدود خزانے سے کسی کی مدد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی غیر ت کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے ناختم ہونے والے خزانے کے دروازے اس شخص کے لیے کھول دیں۔ لہٰذا کسی کی مدد کرنا نہ صرف یہ کہ صدقہ ہے بلکہ یہ اچھی بھلی سرمایہ کاری بھی ہے۔ یہ اصول ایک حدیث کا ترجمہ ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ’’مانقصت صدقۃ من مالٍ‘‘۔ تاہم انسانی عقل  کے لیے یہ تصور ہضم کرنا اتنا آسان نہیں کہ صدقہ یعنی کچھ مال اپنی ملکیت سے

بلا کسی عوض کے نکال دینے سے اصل مال میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ بلکہ اسی حوالے سے اگر قرآن کریم سے رہنمائی لی جائے تو اس کا دعوی ٰاس سے بھی بڑھ کر ہے:ویربی الصدقات’’اور اللہ تعالیٰ صدقات کو بڑھاتے ہیں‘‘ دوسری جگہ تو صدقہ کرنے والوں کو مال بڑھانے کا ماہر قرار دیا ہے: اُولئک ہم المُضعفُون’’یہی ( زکوٰۃ دینے والے ) لوگ ہی مال بڑھانے کے ماہر ہیں۔‘‘


) انسان کے اندر دو طرح کی قوتیں ہیں:1۔ نفس جو مادیت اور لذت کا دلدادہ ہے2۔ فطرت جو عقل سلیم اور وحی کی روشنی میں صحیح اورغلط، حق اور ناحق میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مروّجہ معاشی نظام، انسان کی نفسانی خواہشات اور رویے کو دیکھ کر ترتیب دیا گیا ہے۔ یہاں خوبصورت تعبیرات کا سہارا تو لیا جاتا ہے لیکن عملاطاقت ور کی بات چلتی ہے مال کی قوت سے اپنی بات منوائی اور دوسرے کا حق ضائع کیا جاتاہے۔

اصل بات یہ ہے کہ ایک مسلمان صاحب ِثروت کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے واضح ارشاد کے بعد اپنی عقل لڑانے کی کوئی گنجائش نہیں البتہ اپنے یقین کو مزید تقویت دینے کے لیے چندعقلی نکات پیش کیے جاتے ہیں:
1۔ اللہ تعالیٰ تمام خزانوں کے مالک او ر انتہائی غیور ہیں۔ جب کوئی کمزور انسان اپنے چھوٹے اور محدود خزانے سے کسی کی مدد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی غیر ت کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے ناختم ہونے والے خزانے کے دروازے اس شخص کے لیے کھول دیں۔ لہٰذا کسی کی مدد کرنا نہ صرف یہ کہ صدقہ ہے بلکہ یہ اچھی بھلی سرمایہ کاری بھی ہے۔
2۔حدیث کے مطابق صدقہ کرنے سے سے ’’حادثات‘‘ ٹل جاتے ہیں۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اس کا مال حادثا ت کی Recovery میں ضائع ہونے سے بچ جاتا ہے۔ ظاہر ہے جب بیماریاں، حادثات اور غبن وغیرہ سے مال بچا رہے گا تو مال زیادہ ہونا ہی ہے۔
3۔ جس طرح تشہیر (Marketing) پر خرچ ہونے والا پیسہ ایک تاجر کی نظر میں نفع بڑھانے والا ہے، گووہ بظاہر کم ہورہا ہوتا ہے۔ اسی طرح زکوٰۃ و صدقات کے ذریعہ بھی کاروبار کا نفع بڑھتا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ کاروبار کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ امن قائم ہو، لوگ دل لگا کر کام کریں، آ پ کے ملازم آپ کے کاروباری سفیر کے طور پر لوگوں کو اچھی رائے پیش کریں۔ اگر تنخواہ کے علاوہ دیگر طریقوں سے مستحق ملازمین اور علاقے کے غریبوں کی مدد کی جائے تو یہ سب فوائد از خود حاصل ہوجاتے ہیں۔ اگر صدقہ میں بخل کیا جائے تو محروم طبقہ اپنی ضروریات مالداروں سے چھین کر پوری کرتاہے جس سے مال بھی جاتا ہے اور بد امنی کی وجہ سے کاروبار بھی بیٹھ جاتا ہے۔
4۔صدقہ کرنے سے غریبوں کا امیروں سے خیر خواہانہ رشتہ قائم ہوتاہے۔ وہ امیر سے حسد کرنے کے بجائے دعا کرتے ہیں کہ اسے زیادہ مال ملے تاکہ ہمیں اسی تناسب سے زیادہ صدقہ ملے۔ سرد جنگ، حسد، بغض اورکینہ سب ختم ہوجاتے ہیں اور Friendly Environment تشکیل پاتاہے جو کام کی کوالٹی اور Efficiency بڑھانے میں مدد گار ہوتا ہے۔
5۔ صدقہ کرنے سے انسان کا دل نرم ہوجاتا ہے۔ اس میں عجب وکبر پید ا ہونے کے امکان کم ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ Social اور ملنسا ر ہوجاتا ہے۔ یہ صفات کامیاب کاروباری مہم جو کے لیے لازمی قرار دی جاتی ہیں، ورنہ وہ اپنے خول میں بند رہ کر کاروبار کے بہت سے تقاضوں سے غافل رہتا ہے یہ اور اس طرح بیسیوں نکات پیش کیے جاسکتے ہیں۔ ان پر ذرا غور کیجیے دل سے آواز آئے گی کہ ’’صَدَقَ اللّٰہ و رسولُہ‘‘ (اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ ہی کہا ہے)

انسان کے اندر دو طرح کی قوتیں ہیں:1۔ نفس جو مادیت اور لذت کا دلدادہ ہے2۔ فطرت جو عقل سلیم اور وحی کی روشنی میں صحیح اورغلط، حق اور ناحق میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مروّجہ معاشی نظام، انسان کی نفسانی خواہشات اور رویے کو دیکھ کر ترتیب دیا گیا ہے۔ یہاں خوبصورت تعبیرات کا سہارا تو لیا جاتا ہے لیکن عملاطاقت ور کی بات چلتی ہے مال کی قوتسے اپنی بات منوائی اور دوسرے کا حق ضائع کیا جاتاہے۔ غریب کو دوسرے درجے کا انسان سمجھا جاتا ہے۔ اس نظام کو فطرت سلیمہ کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ ذرا سا ’’زاویہء نگاہ‘‘ تبدیل کیا جائے تو بس بات سمجھ میں آنے لگے گی۔