یہ اصول کئی آیات اور احادیث سے ثابت ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
آیت: وَمَن یَتَّق اللہَ یَجعَل لَہُ مَخرَجاََ ویَرزُقہُ مِن حَیثُ لاَ یَحتَسِب(سورۃ الطلاق آیت2،3)
ترجمہ:اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا، اللہ اُس کے لیے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے گا، اور اُسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اُسے گما ن بھی نہیں ہوگا۔

آیت: وَمَن یَتَّق اللہَ یَجعَل لَہُ مِن اَمرَہ یُسراََ (سورۃ الطلاق:آیت 4)

ترجمہ:اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا، اللہ اُس کے کام میں آسانی پیدا کردے گا۔

حدیث: تَعرّف اِلیَ اللہِ فِی الرَّخاء یَعرِفک َ فَی الشّدّۃِ(ریاض الصالحین :ج1 ص68)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کو خوش حالی میں یاد رکھو اللہ تعالیٰ تمہیں مصیبت میں یاد فرمائیں گے ۔

ان نصوص کے سامنے آنے کے بعد ایک مسلمان کے لئے یہ گنجائش ختم ہوجاتی ہے کہ وہ اس اصول کے بارے میں شک و شبہ کا شکار ہو۔ البتہ اپنے قلبی اطمینان اوردوسروں کو سمجھانے کی غرض سے اس اصول کی کسی قدر تفصیل کی جاتی ہے۔


کرکٹر محمد یوسف نے جب اسلام قبول کیا تو اس کے کھیل میں واضح طور پر آنے والی عمدگی کو ساری دنیا نے محسوس کیا۔ یہ بات جب اس سے پوچھی گئی تو اس کا کہنا تھا کہ اسلام سے پہلے میری بہت سی سرگرمیاں تھیں۔ اسلام نے میری غیر ضروری سرگرمیاں ختم کردیں جس کی وجہ سے اب ساری توجہ کرکٹ پر ہے۔

کرکٹر محمد یوسف نے جب اسلام قبول کیا تو اس کے کھیل میں واضح طور پر آنے والی عمدگی کو ساری دنیا نے محسوس کیا۔ یہ بات جب اس سے پوچھی گئی تو اس کا کہنا تھا کہ اسلام سے پہلے میری بہت سی سرگرمیاں تھیں۔ اسلام نے میری غیر ضروری سرگرمیاں ختم کردیں جس کی وجہ سے اب ساری توجہ کرکٹ پر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نہ صرف غلط کا موں سے روکتاہے، بلکہ غیر ضروری(لایعنی )کا موں پر بھی پابندی لگاتا ہے۔ یوں ایک دیندار مسلمان نہ صرف حرام سرگرمیوں سے بچتا ہے بلکہ غیر ضروری سرگرمیوں سے بھی گریز کرتا ہے۔ نتیجتاًََ وہ اپنے مقصودی کام (Core Business) میں ہی مصروف رہتاہے۔دیکھییے! اگر اسلام کسی کا لج کے لڑکے کو ہدایات دیتاہے تو کہتا ہے:

  1. دیانت داری سے اسباق میں حاضِرر ہو۔
  2. ہوم ورک خود کرو۔
  3. نظر نیچی رکھو
  4. امتحان میں نقل سے بچو۔
  5. جھوٹ سے گریز کرو۔ وغیرہ وغیرہ۔

کیا ان ہدایات پر عمل کرنے والے لڑکے کو تعلیم کے لیے بہت کشادہ وقت نہیں ملے گا ؟ ضرور ملے گا۔ اسی طرح دیانت کے تقاضے سے وہ پڑھا ئی پر توجہ دے گا اور بد نظری سے حفاظت کے نیتجے میں وہ ایسی طویل سرگرمیوں سے نجات پائے گا جن کا شکار ہو کر آج اکثر طلبہ پڑھائی میں پیچھے رہ جاتے ہیں ۔

اسی طرح جب اسلام کسی تاجر سے دینداری کا مطالبہ کرے گا تو اسے ظلم سے روکے گا۔ اسے حسد و بغض اور کینے سے بچنے کا کہے گا۔ غیبت سے منع کرے گا۔ سود اور جوے پر مبنی انعامی اسکیموں سے روکے گا وغیرہ۔ ان سب کا نتیجہ یہی ہوگا کہ تاجر صرف تجارتی سرگرمیوں اور ان کی منصوبہ بندی میں مصروف رہے گا۔ حریف تاجروں سے بد ظنی اور ان کے خلاف منصوبے بنانے سے گریز کرے گا۔ ان سے جلنے اور اپنا خون خشک کرنے کی بیماری سے دور رہے گا۔ مثبت ذہن کے ذریعہ صرف کاروباری بہتری کے لیے اچھی رائے قائم کرسکے گا۔ یہ سب باتیں کاروباری فائدے کی ہیں۔ انعامی اسکیموں میں سودی اور جوے پر مبنی ا سکیموں میں کیونکہ انعام دینا مقصد نہیں ہوتا بلکہ دھوکا کے ذریعہ گاہک سے مال سمیٹنا مقصود ہوتا ہے، لہٰذا ان کے حسابات بڑے پیچیدہ اور ٹیڑھے میڑھے بنائے جاتے ہیں تاکہ سامنے والا حقیقت تک نہ پہنچ سکے۔ لیکن اس گو رکھ دھندے میں خود تاجر کا دماغ بھی بے انتہااستعمال ہوتاہے جواس کے لیے جسمانی کے ساتھ ساتھ کاروباری نقصان بھی ہے۔ مارکیٹنگ کے لئے کوئی بھی مناسب انعام رکھا جاسکتاہے جس سے گاہک کوبھی اعتماد آئے اور تاجر بھی غیر ضروری افکار کا شکارہو کر ذہنی و قلبی بیماریوں میں مبتلا نہ ہو۔ اسی طرح دیندارآدمی اسراف اور فضول خرچی سے گریز کرتاہے۔ جس سے اس کا مال غیر ضروری خرچوں سے بچار ہتا ہے۔ یوں تھوڑے سے غورکرنے سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ دینداری سے کاروبار میں فائدہ ہی فائدہ ہے، تو آج ہی مکمل دیندار بننے کا تہیہ کرلیجئے۔