محترم تاجر ! جب کاروبار پھیلتا ہے تو جس طرح اس کے نفع آور ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں بالکل اسی طرح بلکہ اس سے کہیں زیادہ اس میں بد نظمی یا وسائل کے غیر مربوط استعمال کی وجہ سے نقصانات کے خدشات بھی پید ا ہوجاتے ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں، فارن ایکسچینچ اور منی مارکیٹ کے نظام میں جو انتہائی وسعت و پیچیدگی ہے اس کا تقاضا یہ تھا کہ کاروباری منافع کے ساتھ


مادہ پرست (Materialistic) تاجر وں کے لیے وقت بچانا انتہائی ضروری ہے۔ یہ وقت بچانا نہ صرف ان کے لیے پیشے کا تقاضا ہے بلکہ یہ ان کا مذہبی فریضہ بھی ہے۔ دیکھیے! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُہ‘ مَالَایَعْنِیْہِ ‘‘ یعنی مسلمان کے اسلام کی خوبیوں میں سے ہے کہ وہ غیر ضروری سرگرمیوں سے گریز کرے۔۔

ساتھ کاروباری مسائل بھی اسی حجم سے پیدا ہو جاتے۔ لیکن ایک مربوط نظام کے تحت اوقات، افرادی اور مالی وسائل کو نفع بخش بنالیا جاتاہے۔ جبکہ ملکی اداروں میں چاہے وہ گورنمنٹ کے ہوں یا پرائیویٹ سیکٹر کے ہمیں یہ صورتحال نظر نہیں آتی اور ہم جس قدر نفع کماسکتے ہیں، عملی طور پر اس سے کہیں کم پر اکتفا کیے بیٹھے ہیں۔

شاید بات کچھ پیچیدہ ہوگئی۔ چلیے! ایک عام مثال سے سمجھتے ہیں۔ مثلاََ ایک پین ہولڈر ہے جو عام طور پر تقریباََ 60 ڈگری کے زاویے پر بنا ہوتاہے۔ ایسا اتفاقی طورپر نہیں ہے بلکہ یہ انسان کے لکھنے کے عمل کو دیکھ کر سہولت اور وقت بچانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ لکھنے والا جب میز سے قلم اٹھا تا ہے تو پہلے مرحلے میں اسے60 ڈگری کا زاویہ بنا نا پڑتاہے اور پھر وہ لکھنا شروع کرتاہے۔ اسی طرح جب وہ رکھنا چاہتاہے تو رکھنے کے لیے وہ ایک مرتبہ پھر60 ڈگری کے زاویے کو ـ’’0‘‘ڈگری بناتاہے۔ یہی عمل وہ ہر مرتبہ لکھنے کے دوران دہراتاہے۔ اس سے اس کی روانی میں بھی خلل آتاہے۔ توانائی بھی زیادہ خرچ ہوتی ہے اور وقت جیسی قیمتی چیزبھی ضائع ہوتی ہے۔ اب پین کاؤنٹر بنانے والے نے تو بہت تحقیق کی، اسے عملی شکل دی اور وقت بچانے کے لیے ہمیں ایک آلہ عنایت کردیا۔ جو لوگ اس کے مطابق چلتے ہوں گے یقینا ان کے کئی منٹ یومیہ بچ جاتے ہوںگے۔ لیکن ہمارا قومی مزاج کیا ہے؟ جی ہاں! ہم قلم کاؤنٹر کو آلے کے طور پر استعمال ہی نہیں کرتے۔ ہم لکھنے کے دوران قلم میز پر رکھنے، کان پر رکھنے یا ’’کہیں‘‘ رکھ کر ڈھونڈتے رہنے کی سرگرمیوں میں مصرور ف رہتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے اوقات کم پڑ جاتے ہیں۔ اگر ہم ہر چیز کو جس طرح استعمال کرنا چا ہے یعنی منظم اور مربوط انداز میں، ویسا ہی استعمال کریں تو ہم بھی اپنے وقت کو بچا سکتے ہیں۔

الغرض! تاجر وں کے لیے وقت بچانا انتہائی ضروری ہے۔ یہ وقت بچانا نہ صرف ان کے لیے پیشے کا تقاضا ہے بلکہ یہ ان کا مذہبی فریضہ بھی ہے۔ دیکھیے! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُہ‘ مَالَایَعْنِیْہِ ‘‘ یعنی مسلمان کے اسلام کی خوبیوں میں سے ہے کہ وہ غیر ضروری سرگرمیوں سے گریز کرے۔

یہاں رسول اللہ ﷺ نے حرام سے یا مکروہ سے بچنے کی بات نہیں فرمائی بلکہ آپ کا کہنا ہے کہ جائز کاموں میں سے بھی صرف ضروری کام ہی کیا کرو۔ ظاہر ہے اگر کوئی حرام اور مکروہ تو پہلے ہی نہیںکرتا تھا اور اب و ہ غیر ضروری کام سے بھی بچنا شروع ہوگیا تو اس کے پاس وقت ہی وقت ہوگا۔

اب ذرا سوچیے! کہ غیر ضروری کام کیا ہوتے ہیں؟ مثلاً: ہم سمجھتے ہیں کہ تاجر اپنی دکان میں جو تجارتی سرگرمیاں کرتا ہے وہ تو بالکل غیر ضروری نہیں ہوتیں، بلکہ نیت اچھی ہو تو باعث ِ ثواب بھی ہے۔ لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ کیا تاجر صرف تجارتی سرگرمیوں میں وقت گزارتے ہیں؟ اس کے لیے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ تجارتی سرگرمیاں کسے کہتے ہیں۔ تجارتی سرگرمی ایک تو یہ ہوسکتی ہے کہ اپنی تجارت کی مارکیٹنگ یا خریداری کا کوئی منصوبہ بنایا جائے۔ ان کے مطابق عملی کام کیا جائے۔ گاہک سے ڈیل ہو یا حسابات رکھیں۔ اب دیکھیے! منصوبے روز روز نہیں بنتے، نہ روز روز پالیسیاں بدلنا مفید ہوتاہے۔ فی گاہک 5 منٹ بھی لگائیں تو بالعموم کئی گھنٹے روز بچ رہیں گے۔ حساب کتاب تو آخری آدھے گھنٹے کا کام ہے۔ اسی طرح خریداری بھی کبھی کبھی ہوتی ہے۔ لیکن ہم تو اپنے آپ کو بہت مصروف سمجھتے ہیں تو وقت جاتاکہاں ہے؟

یہ بہت اچھا سوال ہے۔ وقت دو جگہ ضائع ہوتا ہے:1۔ اپنے کاموں کو منظم نہ کرنے کی وجہ سے۔ 2۔ غیر تجارتی سرگرمیوں میں۔ مثلاً: مرضی کے خیالی پھلاؤ پکانے کے تصور میں کاروباری حریف کو شکست دینے یا ڈیبٹ گاہکو ں سے قرضے وصول کرنے میں۔ آپ ہی فیصلہ کیجیے کہ کیا یہ تجارتی سرگرمیاں ہیں؟ ظاہر ہے نہیں۔ لہٰذا آج ہی سے اپنے کاموں کو منظم کیجیے۔ غیر تجارتی سرگرمیوں سے جان چھڑائیے اور وقت کی وسعت کا بھر پور لطف اٹھائیے۔