سعید انتہائی نیک نوجوان ہے ۔ اپنے نام کی طرح وہ نیک بخت ہی نظرآتاہے ۔ایک زمانے میں وہ ویڈیوکی دکان چلاتا تھا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اسے توفیق دی اور وہ دیندار بن گیا ۔اس نے نہ صرف اپنا حرام کاروبار تر ک اور حرام مال صدقہ کردیا، بلکہ اس نے اپنی بقیہ زندگی علمِ دین حاصل کرنے میں لگا کر اپنی زندگی کا رخ ہی بدل لیا، لیکن … وہ اب بھی

کبھی کبھی بہت پریشان نظر آتا ہے ۔وہ اپنے آپ سے نفر ت کرنے لگتا ہے ۔اسے لگتا ہے کہ وہ ہر وقت گناہوں میں ملوث ہے ۔آپ جانتے ہیں ایسا کیوں ہے ؟دراصل اس نے توبہ کرکے گناہ تو دھلوالیے، لیکن اپنے حافظے سے ان ہزاروں گانوں اورفلمی مناظر کی یاد وں کو نہ نکلواسکا جو کئی سال اس کا مشغلہ رہے تھے۔اب وہی محفوظ یادیں اس کے لاشعور سے شعورمیں آآکر اس کے لیے تشویش کا باعث بنتی ہیں ۔ظاہر ہے سعید کو ان غیر اختیاری یادوں پر کوئی گناہ تو نہیں ، البتہ وہ ان کے اثرات سے متاثر ضرورہوتا ہے۔


بعض اعمال ایسے ہیں کہ جن کے منفی اثرات توبہ سے بھی ختم نہیں ہوتے۔ حرام خوری بھی اس قسم کا عمل ہے ۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’جوجسم حرام مال سے پلابڑھا ہو،وہ ا س بات کے لائق ہے کہ آگ میں جلے۔‘‘

اس تمثیل سے یہ اصو ل واضح ہوتا ہے کہ بعض اعمال ایسے ہیں کہ جن کے منفی اثرات توبہ سے بھی ختم نہیں ہوتے۔ حرام خوری بھی اس قسم کا عمل ہے ۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’جوجسم حرام مال سے پلابڑھا ہو،وہ ا س بات کے لائق ہے کہ آگ میں جلےــ۔‘‘

ذرا الفاظ پر غور کیجئے ۔حرام کمانے کا یہاں کوئی ذکر نہیں۔ہوسکتا ہے کمایا کسی اور نے ہو اور اس نے صرف کھایا ہو، لیکن حدیث کے مطابق حرام غذا کے جسم کا حصہ بننے کے بعد اس بات کے امکانات بڑھ جائیں گے کہ یہ شخص حرام خواری کے زیراثر گناہوں میںملوث ہوکر جہنم کا مستحق ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حفظ وامان میں رکھے۔یہاں سے ہمیں بعض لوگوں کی اس غلط فہمی کا جواب مل گیا جو سمجھتے ہیںکہ وقتی مصلحت سے حرام کھانے میں حرج نہیں ، پھر صدقہ کردیں گے ۔شاید اسی لیے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مشتبہ لقمہ حلق سے اتر جانے پر حلق میں انگلی ڈال کر قے کی تھی کہ کہیں معدے میں پہنچنے والی خوراک جزوِ بدن نہ بن جائے ۔حرام ما ل کے اس اثر کو ہم حسی مثال سے بھی بآسانی سمجھ سکتے ہیں ۔مثال کے طور پر اگر کسی شخص کو فو ڈ پوائزنگ ہوجا ئے تو یہ ضروی نہیں کہ اس نے وہ مال خود کمایا بھی ہو۔ بس غلط قسم کے مال کے معدے میں پہنچنے سے خود ہی اثرات پڑنا شروع ہوجاتے ہیں ۔کچھ یہی معاملہ حرام غذا کا ہے۔ نہ اس کاکمانا شرط ہے اور نہ اس کا ملکیت میں ہونا ضروری ہے۔ معدے میں جاتے ہی اس کی خرابی کے امکانات پیدا ہوجاتے ہیں۔یہی وجہ ہے اس حدیث کی روشنی میں حرام مال سے زیرکفالت اہل و عیال کے بارے میںبھی یہ خد شہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر چہ انہیں حرام کھانے کا گنا ہ نہ ہو لیکن حرام کے اثرات ان پر پڑسکتے ہیں۔
یہیں سے یہ مسئلہ بھی سمجھ میں آگیا کہ حرام خواری کے گنا ہ سے خصوصیت سے کیو ںروکا جاتا ہے ؟بات یہ ہے کہ بقیہ گناہ کا اثر دیر پا نہیں ہوتالیکن حرام خوری کا اثرجزوِ بدن بننے کی وجہ سے دیر پا رہتا ہے۔ لہٰذا اسے دیگر گناہوں پر قیاس کرکے غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے ۔بتدریج گناہوں کو ترک کرنے میں اسے اپنی پہلی ترجیح بنانا چاہیے ۔شاید اسی کا اثر ہے کہ حرام خواری میںملوث لوگ اکثر مختلف توجیہات کر کے عذر از گنا ہ بد تر از گناہ کا مصداق بنے رہتے ہیں۔یہ بھی شاید اسی کا اثر ہوکہ بعض ناداں مسلمان سمجھتے ہیںکہ’’سود‘‘کے بغیر تجارت نہیں چل سکتی ۔بعض کا خیال ہے بہنوں کی شادی پر خرچ کرنے سے میراث ادا ہوجاتی ہے۔ کچھ لوگ ٹیکس یا بجلی چوری کرکے حکومتی مظالم کا خوب’’بدلہ ‘‘لینا چاہتے ہیں، وغیرہ … یہ اور اس قسم کے واضح طور پر غلط خیالات کی وجہ سے اس کے سواکیا سمجھا جائے کہ حرام خواری سے پرورش پانے والا دل و دماغ عقلسلیم کی رائے تسلیم کرنے سے انکاری ہے، مگر جسے اللہ توبہ اور رخ بدلنے کی توفیق دے دیں تو اور بات ہے ۔

خلاصہ یہ کہ آج تک جو ہوا سو ہوا ۔اب مزید تاخیر کیے بغیر خود کو، اپنے اہل و عیال کو اور اپنے کاروبار کو حرام سے پاک کرنے کا ارادہ کیجیے۔SCS دارالافتاء برائے مالیاتی و تجارتی امور میں آپ کے ایسے ارادوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا ہمہ وقت جہت نظام موجود ہے ۔آپ ارادہ کیجیے ۔ہم آپ کو مایوس نہ کریں گے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں حرام سے بچنے اور اس کے اثرات سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائیں۔