اسلام ایک آفاقی مذہب ہے۔ اس کی دعوت عام ہے اور قیامت تک کے تمام زمانوں کو شامل ہے۔ یوں افراد، ازمان اور آفاق کے لحاظ سے یہ سب سے زیادہ عموم رکھنے والا دین ہے۔ یہیاایھاالناس کہہ کر لوگوں کو ایمان کی دعوت دیتا ہے اور یا ایھاالذین اٰمنوا کہہ کر ایما ن قبول کرنے والوں کی تربیت کرتا ہے۔ اس نے کسی خاص قوم تک آپ کو محدود نہیں رکھا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ

اس کی تعلیمات میں وسعت ظرفی خود بخود رچتی بستی چلی گئی۔ اس کے پہلے مخاطب کائنات کے افضل ترین لوگ صحیح، لیکن انہوں نے عرب و عجم، سیاہ و سفید اور امیر و غریب کی کسی تقسیم کو قبول نہیں کیا۔ انسانیت اور اسلام کے ناتے وہ ہر ایک سے ملتے رہے، دعوت دیتے رہے، جہاد کرتے رہے اور جسموں کے ساتھ دلوں کو بھی فتح کرتے رہے۔


رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم نے جہاد فی سبیل اللہ کو مسلمانوں کی سیاحت قراردیا ہے۔ اس سیاحت میں گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے اور قسم قسم کے معاملات سے پالا پڑنے کی وجہ سے ایک جانب ان حضرات کو انسانی نفسیات کے نشیب و فراز سمجھنے کا بہترین موقع ملا، دوسری جانب آئند ہ آنے والے کے لیے ایسا لاجواب ذخیرہ علم جمع ہوگیا جس سے ایک آفاقی مذہب کے اصول، اس کی رخصتیں اور رعایات سب سامنے آتی رہیں۔ ‘‘

چنانچہ ان عظیم نفوس کی قبریں ہمیں روس، چین، آذربائیجان، شمالی افریقہ چہار سو ملتی ہیں۔ رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم نے جہاد فی سبیل اللہ کو مسلمانوں کی سیاحت قراردیا ہے۔ اس سیاحت میں گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے اور قسم قسم کے معاملات سے پالا پڑنے کی وجہ سے ایک جانب ان حضرات کو انسانی نفسیات کے نشیب و فراز سمجھنے کا بہترین موقع ملا، دوسری جانب آئند ہ آنے والے کے لیے ایسا لاجواب ذخیرہ علم جمع ہوگیا جس سے ایک آفاقی مذہب کے اصول، اس کی رخصتیں اور رعایات سب سامنے آتی رہیں۔ یوں ایک عظیم الشان فقہی ذخیرہ تیا ر ہوا جو ایک وسیع رقبے پر نافذ ہوا۔ یہ آفاقیت کا نتیجہ تھا کہ مسلمان اپنی دعوت کو ہر افق تک پہنچانے کے لیے نہ صرف دعوت اور انسانی نفسیات کو سمجھتے رہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ اپنی تجارت کو بھی بڑھاتے رہے۔ کیونکہ یہ بات بہت واضح تھی کہ اس دین اور نظریے کو کیسے دنیا کے طول وعرض میں پہنچانا ہے۔ اس کے لیے بڑے بڑے اسفار اور غیر معمولی وسائل درکار ہوں گے۔

چنانچہ حضرت ابوبکر، حضرت عثمان، عبدالرحمن بن عوف سمیت بیسیوں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنھم ایسے تھے جو عین جہاد کے عروج کے زمانے میں بھی مسلسل تجارتی سفر فرمایا کرتے تھے۔ ان حضرات کو ا پنے ذاتی مال کمانے کی طمع نہ تھی۔ یہ تو امت مسلمہ کا خرچہ اٹھانے کی نیت سے بڑی بڑی تجارتی مہمات میں مشغول رہے۔ بعد میں ان کی اقتدا کرنے والے تابعین اور فقہا بھی تمام تردینی خدمات کے باوجود تجارتی خدمات میں سال کا ایک بڑا حصہ صرف کرتے تھے۔ امام ابوحنیفہ، امام محمد، امام مالک اورعبداللہ بن مبارک سمیت فقہا کی ایک بڑی تعداد تاجروں پر مشتمل تھی۔ اسی طرح ملائیشیا، انڈونیشیا، ہندوستان میں عرب تاجروں نے ہی اسلام کو متعارف کروایا تھا۔ ا س زمانے میں اتنے بڑے بڑے تجارتی اسفار پر روم و فارس کے ترقی یافتہ تاجر بھی جاتے ہوئے گھبراتے تھے، لیکن عرب کے بدو صحابی اپنے بلند مقاصد اور اسلام کی آفاقیت کے پیش نظر ملک ملک گھومتے رہے، جس سے اسلام بھی پھیلتا رہا، تجارتیں بھی پھیلتی رہیں اور ذاتی اموال اور ملکی خزانوںمیں بھی اضافہ ہوتا رہا۔
آج بھی مسلمان تاجر کو اسلام کی آفاقی دعوت کو اپنی تجارتی مہمات کا حصہ بنانا چاہیے۔ ا س سے تجارت بھی پھلے پھولے گی اور اسلام بھی پھیلے گا۔ دنیا اور آخرت کی تجارت ساتھ ساتھ ہو تو ا س سے بہتر کیا ہوسکتا ہے؟