پاکستان میں امن وامان، ایندھن، افرادی قوت اور ٹیکنا لوجی کے مسائل سے لڑکر بمشکل نفع کمانے والا تاجر خودکشی کی طرف نہیں جاتا؟ ایسا عقیدے کی وجہ سے ہوتا ہےشکر کیجیے کہ آپ کے مذہبی رہنما آپ نقصان یا نفع ہر صورت میں اسلام کی زرین تعلیمات سے آگاہ رکھتے ہیںڈنکن شارپ برطانیہ کی سپورٹس وئیر کی سب سے بڑی چین(Chain)JJBsporatکا مالک ارب پتی تاجر تھا۔

 اس کے پاس دنیا کی ہر ممکنہ نعمت اور آسائش موجود تھی۔ مگر وہ اپنے گھر سے آدھے گھنٹے کی مسافت پر واقع ایک باغ کے درخت سے لٹکا ہوا پایا گیا۔ ان کے نفسیاتی معالج’’رچرڈ ہاسلامّ‘‘ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے تجارتی مسائل اور نقصانات سے پریشان تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اب زندگی میں کوئی مزہ باقی نہیں۔ ان کی بیوی کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر ذہنی طور پر اتنے منتشر ہو چکے تھے کہ ان کے پاس شاید اس کے سوا کوئی راستہ بھی نہ تھا۔


ارب پتی شخص کی خودکشی اور وہ بھی کاروباری مشکلات سے، ہمارے معاشرے میں یقیناً حیران کن خبر ہے، کیونکہ ہمارے تاجر مشکل ترین حالات میں بھی خودکشی جیسی حماقت نہیں کرتے، لیکن مغربی ممالک میں یہ کوئی انہونی بات نہیں۔

 ارب پتی شخص کی خودکشی اور وہ بھی کاروباری مشکلات سے، ہمارے معاشرے میں یقیناً حیران کن خبر ہے، کیونکہ ہمارے تاجر مشکل ترین حالات میں بھی خودکشی جیسی حماقت نہیں کرتے، لیکن مغربی ممالک میں یہ کوئی انہونی بات نہیں۔ امریکا سب سے زیادہ ارب پتی تاجروں کا ملک ہے لیکن… یہیں پر ارب پتی تاجروں کی خودکشی کی شرح بھی سب سے زیادہ ہے ۔ کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مغربی ممالک جہاں کاروباری رکاوٹیںکم سے کم، سہولیات زندگی غیر معمولی، امن و امان اور دیگر مسائل نہ ہونے کے برابر، جبکہ کاروباری نقصان بھی ان کے نزدیک درحقیقت نفع میں کمی ہی کا نام ہے، حقیقی نقصان نہیں ہوتا لیکن وہاں کا تاجر خودکشی کر بیٹھتا ہے، جبکہ پاکستان میں امن وامان، ایندھن، افرادی قوت اور ٹیکنا لوجی کے مسائل سے لڑکر بمشکل نفع کمانے والا یا کبھی کبھی نقصان میں چلا جانے والا تاجر خودکشی کی طرف نہیں جاتا؟ یہ جان لیجیے کہ ایسا عقیدے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ برطانیہ کا تاجر اس لیے خودکشی کرتا ہے کہ وہ نام کا عیسائی ضرور ہے،تاہم حقیقت میں وہ سیکولر، لبرل اور غیر مذہبی شخص ہے۔ جس کا اعتماد و اعتقاد روپے پیسے اور اسباب پر ہے۔ اس کا مذہب سے تعلق لینے کا نہیں، دینے کا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں مذہبی رہنما (پادری) اور مذہبی عبادت گاہ (کلیسا) پر خرچہ کر کے ان پر احسان کر رہا ہوں۔ پادری کے ذمہ ہے کہ وہ میرے گناہ معاف کروائے اور اپنا حصہ لے۔ گویا مذہب اس کا محسن نہیں، وہ اس کا محسن ہے۔ مذہب اس کے اعتقاد کا محور نہیں۔ چنانچہ اسے اللہ تعالی کی لا محدود طاقت رکھنے والی ذات کی معرفت نہیں ہوتی۔ وہ ہر کام اپنے وسائل کے زور سے کرتا ہے اور ہر شکست کو اپنی شکست سمجھ کر افسردہ ہو جاتا ہے۔ پھر یہ افسردگی کبھی اس کے قابو سے باہر ہو جاتی ہے تو خودکشی پر آمادہ ہوجاتا ہے۔

 دوسری طرف مسلمان تاجر دین پر خرچ کرنے کو اپنے کاروبار کی بقا اور پھلنے پھولنے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ مذہب اس کی عقیدت کا محور ہوتا ہے۔ وہ مولانا صاحب سے دینی رہنمائی لیتا ہے۔ وہ ان کی ہدیہ وغیرہ سے خدمت تو کرتا ہے، لیکن اس میں بھی محبت کا جذبہ موجود ہوتا ہے۔ وہ اسے معاوضہ نہیں سمجھتا۔ وہ اپنی کاروباری مہمات میں اللہ تعالی جیسی لا محدود خزانے اور طاقت کی حامل ذات پر بھروسہ کرتا ہے۔ خدانخواستہ اسے نقصان ہو جائے تو وہ اس نقصان پر ’’انّا للہ‘‘ پڑھتاہے کہ کوئی فکر نہیں، یہ سب مال اللہ تعالی ہی کا دیا ہوا تھا، اس میں سے کچھ اللہ تعالی نے واپس لے لیا۔ میرا اپنا تو تھا نہیں جو بہت زیادہ ٹینشن لوں۔ یوں وہ ایک بڑے صدمے سے محفوظ رہتا ہے۔ اسی طرح اس کی بیوی بھی اسے تسلی دیتی ہے۔ وہ اس کے بارے میں ایسا بیان دینے کاسوچ بھی نہیں سکتی کہ ’’میرے شوہر کے لیے خودکشی کے سوا کوئی راستہ نہ تھا۔‘‘ اس کے دوست احباب ایک ماہر نفسیات سے زیادہ بہتر انداز میں اس کے حوصلے میں اضافہ کرتے ہیں۔

شکر کیجیے کہ آپ مسلمان تاجر ہیں۔ اللہ تعالی کی ذات کے ماننے والے اس پر توکل کرنے والے، تقدیر پر راضی رہنے والے۔ شکر کیجیے کہ آپ کے احباب اور اہل و عیال آپ سے اللہ تعالی کے لیے محبت کرتے ہیں۔ آپ کے نقصان پر آپ سے تعزیت کرتے اور حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ شکر کیجیے کہ آپ کے مذہبی رہنما آپ کو تجارت سے پہلے اور بعد، نقصان کی حالت میں یا نفع کی حالت میں، ہر صورت میں اسلام کی زرین تعلیمات سے آگاہ رکھتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو’’خودکشی‘‘ کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔ ثابت ہوا کہ تجارت میں عقیدے کا بے انتہا عمل دخل ہے۔