شریعہ کمپلائنس کا اور اس کے تقاضے:

شریعہ کمپلائنس کا مطلب:
عہد حاضر میں دین کے مختلف حصوں میں فکر مند مسلمان اپنے کاروبار کو شریعت کے مطابق بنانے کے لیے مختلف سطح پر کوششیں کر رہے ہیں اور اس کے لیے کئی جگہوں پر انفرادی و اجتماعی نوعیت کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ کاروبار کو شریعت کے مطابق بنانے کے لیے عموماً ’’شریعہ کمپلائنس‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ اگرچہ اس کا غالب استعمال اسلامی مالیاتی اداروں میں کیا جاتا ہے۔ جہاں اس کا Scope یا دائرہ کار محض سرگرمیوں کو شریعت کے مطابق بنانے تک محدود ہوتا ہے جو اس ادارے کا اصلی بزنس ہوتا ہے۔ مثلاً کسی اسلامی بینک میں ’’شریعہ کمپلائنس‘‘ کا مطلب مختصراً یوں ہو گا: ’’اس بینک میں انجام پانے والے تمام اسلامی تمویلی طریقے درست طور پر شریعت کے اصولوں کی روشنی میں انجام پائیں اور ان میں کوئی خلاف شریعت بات پیش نہ آئے۔‘‘ چنانچہ ان اداروں کے لیے مرکزی بینک کی طرف سے جاری کی جانے والی ’’شریعہ کمپلائنس گائیڈ لائن‘‘ بھی انہی حدود کے اندر رہ کر بات کرتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نیٹ ورک مارکیٹنگ

نیٹ ورک مارکیٹنگ جس کو ملٹی نیشنل لیول مارکیٹنگ بھی کہا جاتا ہے۔ اردو میں اسے آسانی کی خاطر ’’جعل نما‘‘ تجارت بھی کہا جاتا ہے۔ چونکہ اس میں کام کرنے والے مختلف سطح کے لوگ ہوتے ہیں، اوپر سے لے کر نیچے تک سیکڑوں سطحیں بنتی ہیں ، اس لحاظ سے اس کو ’’مختلف السطح‘‘ تجارت بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس کے تین چار مشہور مراحل ہیں جن سے یہ متعارف ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

قسطوں پر خرید و فروخت حقیقت ۔خدشات۔تجاویز

ضرورت ایجاد کی ماں ہے جس کی وجہ سے نت نئی مصنوعات، معاملات کی جدید رائج ہوتی گئیں۔ انہیں نئے مروج معاملات میں ادھار خریدوفروخت کی وہ صورت ہے جسے عربوں میں بیع بالتَّقسیط اور پاکستان میں قسطوں میں خرید وفروخت ،برطانیہ میں ہائرپرچیز (Hire purchase)، ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں انسٹالمنٹ کریڈٹ (Installment Credit)، انسٹالمنٹ بائنگ (Installment Buying) سے پہچانا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خرید وفروخت کی اہم شرائط

بیچنے والے کو اثاثے کی سپردگی کا اختیار ہونا:
یہ بھی ایک ضروری امر ہے کہ اثاثہ بیچنے والا اس پر قادر ہو کہ خریدار کو وہ اثاثہ سپرد کر سکے جو اسے بیچا گیا تھا، اگر بیچنے والے کو یہ قدرت و اختیار حاصل نہ ہو، (خواہ اس کی وجہ کوئی بھی ہو، مثلاً وہ چیز کسی اور کے ناجائز قبضے میں ہو اور ذاتی یا عدالتی طاقت استعمال کیے بغیر اس کا قبضہ ختم کرانا ممکن نہ ہو یا مثلاً مچھلی فروخت کر دی جبکہ پانی سے اس کا نکالنا ممکن نہ ہو) تو ایسی صورت میں اگرچہ فروخت کرنے والا اس چیز کا مالک ہو، تب بھی اس چیز کا بیچنا اس وقت تک ممنوع رہے گا، جب تک فروخت کرنے والا آسانی کے ساتھ اس چیز کی سپردگی پر قادر نہ ہو جائے اور اس چیز کی سپردگی میں جو رکاوٹیں ہیں وہ ختم ہو جائیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

قابل فروخت اور ناقابل فروخت

گذشتہ تحریر میں یہ بات شروع کی گئی تھی کہ خرید و فروخت کے کچھ شرائط ہیں۔ ان کی عدم موجودگی میں ’’سودا‘‘ فاسد یا باطل قرار پاتا ہے۔ پہلی شرط تین وضاحتوں کے ساتھ بیان ہوئی۔ موضوع کا اگلا حصہ ملاحظہ فرمائیے۔ شرط2- شریعت اور عرف کے لحاظ سے مالیت کا حامل ہونا:

خرید و فروخت کے لیے پیش کیے جانے والے سودے کے بارے میں یہ یقین دہانی ضروری ہے کہ وہ مال کی تعریف کے تحت شامل ہے، کیونکہ معاملے کی درستی کے لیے یہ ایک بنیادی شرط ہے۔ اب کون سی چیز شرعی نقطہ نظر سے مال ہے اور کون سی نہیں؟… اس سوال کے جواب کے سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ شرعی نقطہ نظر سے مالیت کے لحاظ سے اشیا کی چار قسمیں ہیں۔ ان چار قسموں کو درج ذیل عنوان کے تحت ذکر کیا جاتا ہے اور اسی ضمن میں دو فقہی اصطلاحات یعنی ’’مال‘‘ اور ’’مال متقوم‘‘ کی اصطلاحات (Terms) کی وضاحت بھی ہو جائے گی۔ مالیت کے لحاظ سے اشیا کی چار قسمیں: 1 اشیا کی ایک قسم تو وہ ہے جن میں مالیت کی صفت بالکل نہیں ہوتی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

معدوم چیزوں کی خرید وفروخت

فروخت کی جانے والی چیز سے متعلق شرائط
مبیع اور ثمن میں فرق سے متعلق مذکورہ بالا ضابطہ ملاحظہ کرنے کے بعد، مبیع ( یعنی وہ چیز یا اثاثہ جو فروخت کیا جا رہا ہو) کی شرائط کی ضروری تفصیل ملاحظہ ہوں۔ ان شرائط کا پایا جانا خرید و فروخت کے معاملے کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے۔ اگرکسی معاملے میں ان شرائط میں سے کوئی ایک شرط نہ پائی جائے تو وہ معاملہ فاسد یا باطل قرار پاتا ہے، جس سے اجتناب شرعاً لازم ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں پہلے ان شرائط کی تفصیل پیش کی جائے گی، اس کے بعد فاسد و باطل معاملات کی وضاحت ذکر کر دی جائے گی۔

مزید پڑھیے۔۔۔