خرید و فروخت کے بنیادی اصول

پہلے یہ ذکر کیا گیا کہ عقد بیع کے بنیادی ارکان میں ایجاب (offer) اور قبول ) Acceptance ( کا عمل ہے۔ اس سے متعلق مزید چند مسائل ذکر کیے جاتے ہیں:
پہلا مسئلہ-مختلف طریقے:
شرعی لحاظ سے ایجاب(offer) و قبول ) Acceptance (کا کوئی خاص طریقہ اور الفاظ متعین ہیں نہ ہی ایجاب وقبول کے لیے کسی لفظ کا استعمال ضروری ہے،

مزید پڑھیے۔۔۔

ایجاب و قبول کا طریقہ کار

گزشتہ تحریر سے معلوم ہوا کہ خریدار اور فروخت کنندہ میں سے پہلے کی گفتگو کو ایجاب اور دوسرے کے کلام کو قبول کہا جاتا ہے ، نیز جن لمحات میں سودا طے پارہا ہو، اسے مجلس عقد کہتے ہیں۔ اسی اصول سے متعلق دو مزید وضاحتوں کے بعد ایجاب وقبول کے اہم مسائل ذکر کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خرید وفروخت کے احکام

      دو یا دو سے زیادہ افراد کے آپس میں مالی لین دین کی ایک اہم قسم خرید وفروخت ہے جس کے لیے فقہ کی زبان میں تجارت اور بیع وشراء کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ لغوی لحاظ سے بیع کے معنی ’’بیچنے‘‘ کے ہیں۔ بیچنے والے کو ’’بائع‘‘ اور جو چیز بیچی جائے اس کو’’ مبیع‘‘ کہا جاتا ہے، جبکہ شِرَاء کے معنی خریدنے کے ہیں اور خریدنے والے کو’’ مشتری‘‘ کہاجاتاہے۔ ہماری اس تحریر میں آسانی کی خاطر ’’بائع‘‘ کی جگہ ’’بیچنے والا‘‘ ’’فروخت کرنے

مزید پڑھیے۔۔۔

مسلمان تاجر کے لیے ’’مالیاتی فقہ‘‘ سے واقفیت۔ کیوں؟

دینِ اسلام کی جامعیت ہر مسلمان کے عقیدے کا حصہ ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں انسان کی ہر جائز ضرورت سے متعلق اسلام نے ایک آسان، معقول اور قابلِ عمل راستہ فراہم کیا ہے۔ اسلام کی اسی جامعیت کے پیشِ نظر تجارت کی اہمیت بھی شریعت کی نظرِ کرم سے پوشیدہ نہیں رہی۔ شریعت نے تجارت اور مالی معاملات کو انسانی معاشرے کی ایک اہم ضرورت قرار دیا ہے اور اس سے متعلق انسانوں کی عملی اوراخلاقی بلکہ ہر سطح پر رہنمائی بھی فرمائی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اسلام میں مینجمنٹ کا تصور

مینجمنٹ نام ہے وسائل کو بروئے کارلانے کا۔ انسانوں سے اچھی ڈیلنگ اور انفارمیشن کا۔ یہ کام اسی دن شروع ہو گیا تھاجب حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام دنیا میں آئے تھے۔ اس کا مطلب ہے مینجمنٹ کا تصور اتنا پرانا ہے جتنا انسان کا تصور۔اب یہ سوال کہ مینجمنٹ کا تصور اسلام میںہے یا نہیں؟ یہ حقیقت ہے کہ مینجمنٹ اس وقت سے ہے جب سے اس دنیا پر دین کا وجود ہے۔ یوں مینجمنٹ کا تصور ، مغرب نے اسلام سے ہی حاصل کیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ملازمین کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کیجیے

ملازم معاشرے کا ایک فرد ہوتا ہے اور معاشرے میں ہر فرد ایک وقار رکھتا ہے۔ اگر انسان کا وقار کسی جگہ مجروح ہو تو انسان ہونے کے ناطے اس کو برا محسوس ہوتا ہے۔ اور اگر کسی جگہ اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے تو اس کو قلبی طور پر سکون ملتا ہے۔
اسی طرح جب یہ شخص ملازم کی حیثیت سے کسی ادارے میں کام کرنے کے لیے جاتا ہے تو اس کے ساتھ قائم کیے جانے والے تعلقات

مزید پڑھیے۔۔۔