وقت بچانا بھی ’’اسلامی فرض ‘‘ہے

محترم تاجر ! جب کاروبار پھیلتا ہے تو جس طرح اس کے نفع آور ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں بالکل اسی طرح بلکہ اس سے کہیں زیادہ اس میں بد نظمی یا وسائل کے غیر مربوط استعمال کی وجہ سے نقصانات کے خدشات بھی پید ا ہوجاتے ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں، فارن ایکسچینچ اور منی مارکیٹ کے نظام میں جو انتہائی وسعت و پیچیدگی ہے اس کا تقاضا یہ تھا کہ کاروباری منافع کے ساتھ

مزید پڑھیے۔۔۔

دینداری سے کاروبا ر میں ترقی ہوتی ہے

یہ اصول کئی آیات اور احادیث سے ثابت ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
آیت: وَمَن یَتَّق اللہَ یَجعَل لَہُ مَخرَجاََ ویَرزُقہُ مِن حَیثُ لاَ یَحتَسِب(سورۃ الطلاق آیت2،3)
ترجمہ:اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا، اللہ اُس کے لیے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے گا، اور اُسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اُسے گما ن بھی نہیں ہوگا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

صدقہ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا

جب کوئی کمزورانسان اپنے چھوٹے اورمحدود خزانے سے کسی کی مدد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی غیر ت کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے ناختم ہونے والے خزانے کے دروازے اس شخص کے لیے کھول دیں۔ لہٰذا کسی کی مدد کرنا نہ صرف یہ کہ صدقہ ہے بلکہ یہ اچھی بھلی سرمایہ کاری بھی ہے۔ یہ اصول ایک حدیث کا ترجمہ ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ’’مانقصت صدقۃ من مالٍ‘‘۔ تاہم انسانی عقل  کے لیے یہ تصور ہضم کرنا اتنا آسان نہیں کہ صدقہ یعنی کچھ مال اپنی ملکیت سے

مزید پڑھیے۔۔۔

تاجر زکوۃ کیسے ادا کریں؟

دارالافتاء برائے تجارتی ومالیاتی امور (SCS)

تجارت میں نت نئے طریقے روز بہ روز سامنے آ رہے ہیں۔ اربوں روپے کی تجارت اب لمحوں اور سیکنڈوں میں ہو رہی ہے۔ کراچی پاکستان کا تجارتی مرکز ہے اور یہاں قسما قسم کے کاروبار ہو رہے ہیں۔ کراچی بھر میں دارالافتا بھی موجود ہیں۔ مگر تجارتی پیچیدگیوں نے اب نت نئے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔ تاجر برادری بھی اس قدر مصروف ہوگئی کہ ا س کے لیے وقت نکال کر

مزید پڑھیے۔۔۔

اِسلامی معیشت اور حلال و حرام کا تصور

حلال و حرام کے دو اَساسی اُصول اِسلام میں حلال و حرام کو سمجھنے کے لیے دو چیزوں کو سمجھنا ضروری ہے:
1 حلال و حرام کا تعلق شریعت و قانون سازی کے اعتبار سے بھی اور اجر و ثواب یا گناہ و عقاب کے اعتبار سے بھی فقط اور فقط اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ حلال کمانے اور حرام سے بچنے کا اُس وقت تک کوئی فائدہ نہیں جب تک اللہ کی رضا حاصل کرنے کی خواہش اور اللہ کی ناراضگی سے بچنے کا خوف نہ ہو۔

مزید پڑھیے۔۔۔

معاملات کے بارے میں اسلام کا مزاج

اسلام کے قوانین معاشرے کے پورے وجود کا احاطہ کیے ہوئے ہیں، یہ ایک حقیقت ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی درست ہے کہ قانون کا مزاج خشک ہوتا ہے۔ ان دو اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے زندگی کے بے شمار شعبوں میں سے آج ہم معاملات کے بارے میں اسلامی قانون کے مزاج پر نصوص شرعیہ کی روشنی میں نظر ڈالتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ اسلام نے معاملات میں مصلحت عامہ اور انصاف کی رعایت کو بنیادی اہمیت دی ہے اور اسی کو معاملات سے متعلق تمام تصرفات کی بنیاد قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔