SONY کا بانی ’’مسارو‘‘ جو اپنی منزل مقصود کی طرف بڑھتا چلا گیا اور پھر… ٭… مسارو کے مطابق اگر آپ مارکیٹ میں آنا چاہتے ہیں تو ایسی اچھوتی اور منفرد پروڈکٹ مارکیٹ میں لائیں جو پہلے نہ ہو۔ اگر آپ نئی چیز نہیں بنا سکتے تو پہلے بنی ہوئی چیزوں کو دیکھ کر ان کا تجزیہ کریں

 


٭… مسارو کے مطابق اگر آپ مارکیٹ میں آنا چاہتے ہیں تو ایسی اچھوتی اور منفرد پروڈکٹ مارکیٹ میں لائیں جو پہلے نہ ہو۔ اگر آپ نئی چیز نہیں بنا سکتے تو پہلے بنی ہوئی چیزوں کو دیکھ کر ان کا تجزیہ کریں ٭

مسارو آئی بوکا (Masaru Ibuka) ایک جاپانی الیکٹرانکس صنعت کار اور SONY کمپنی کا بانی ہے۔ جس نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر کمپنی کے سفر کو کامیابی سے جاری رکھا۔ آج اس کمپنی کی مصنوعات دنیا بھر میں آپ کو نظر آئیں گی۔ SONY ایک ایسی کمپنی ہے جو بیک وقت عام صارفین اور پروفیشنل مارکیٹ کو اپنی الیکٹرانکس پروڈکٹ فراہم کر رہی ہے۔ یہ کمپنی Fortune Global 500 کی فہرست 2014 ء میں 105 ویں نمبر پر ہے۔

مسارو آئی بوکا (Masaru Ibuka) 11 اپریل 1908ء کو جاپان کے شہر نِکّو (Nikko) میں پیدا ہوا۔ بچپن سے ہی اسے مختلف چیزیں بنانے کا شوق تھا۔ اس میں تخلیقی صلاحیتیں بے پناہ پوشیدہ تھیں۔ اس کے والد نے اپنے بیٹے میں بر وقت ان صلاحیتوں کو جانچ لیا۔ اس نے اسے انجینئرنگ کی تعلیم دلوائی۔ اس کے باپ کی ہمیشہ یہی کوشش رہی کہ اس کا بیٹا پڑھ لکھ کر کسی بھی کام کو ہاتھ لگائے، وہ سونا بنتا چلا جائے۔ مسارو نے بھی اپنے والد کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے ساری توجہ پڑھائی پر مرکوز کر لی۔ یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس کے والدین کو اس کی وجہ سے پشیمانی اور شرمندگی اٹھانی پڑے۔ دورانِ تعلیم مسارو نے اپنا مقصد اور ہدف طے کر لیا کہ وہ الیکٹرانکس کے شعبے میں کام کرے گا، اور اسے ایک نئی راہ اور نیا رُخ دے گا۔ اس کے لیے اس نے Waseda ہائی اسکول سے میٹرک کیا اور اس کے بعد Waseda یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے لگا۔ 1933ء میں یہاں سے اس نے انجینئرنگ میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔

مسارو چاہتا تھا کہ عملی زندگی میں قدم رکھے۔ اس کے لیے سرمایے اور تجربے دونوں کی ضرورت تھی لیکن وہ دونوں اس کے پاس تھے نہیں۔ اسے ایک اور مسئلہ درپیش تھا کہ ڈگری اس کے پاس تھی، لیکن کام کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا تھا۔ وہ بہت پریشان ہوا کہ اس تعلیم کا کیا کیا جائے، جس سے کوئی کام نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک پریشانی اور مشکل تھی لیکن مسارو نے اسے اپنے ہدف کے حصول میں آڑے نہ آنے دیا۔

مسارو نے آخرکار ایک نئے عزم اور جذبے کے ساتھ فیصلہ کیا کہ کسی کے ساتھ رہ کر کام سیکھا اور تجربہ حاصل کیا جائے۔ اس نے ایک فوٹو کیمیکل لیبارٹری میں ریسرچ انجینئر کے طور پر ملازمت شروع کردی۔ یہ فرم متحرک تصویری فلم (Motion Picture Film) کو ریکارڈ وغیرہ کرنے کا کام کرتی تھی۔ اس فرم میں مسارو نے دلجمعی اور تن دہی کے ساتھ کام کیا اور ایک ہی سال میں اس کا پڑھا ہوا علم کام آگیا۔ اس نے پیرس نمائش میں لائٹ ٹرانسمشن میں بہتری لانے پر انعام حاصل کیا۔ اس ایوارڈ نے مہمیز کا کام کیا اور وہ مزید محنت اور تگ و دو کرنے لگا۔ اسے اپنا ہدف قریب ہوتا نظر آنے لگا۔ اس کا والد بھی اپنے بیٹے کی کاوشوں پر بہت خوش تھا، اسے اپنا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا دِکھنے لگا۔

مسارو نے چار سال اس فرم میں کام کیا۔ جب اس نے محسوس کیا کہ مزید کچھ سیکھنے کو یہاں نہیں ملے گا تو اس نے ایک دوسری کمپنی Optico.Acoustical انجینئرنگ کمپنی کو جوائن کر لیا۔ یہاں اس نے 1937 ء سے 1940ء تک جاب کی۔ اس کے بعد دوسری جنگ عظیم 1940ء سے 1945ء تک جاپان Measuring Instrument کمپنی میں منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف انجینئر کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپان کے دو شہر ناگا ساکی اور ہیروشیما کو امریکا نے بمباری کر تباہ کر دیے تھے۔ اس جنگ سے متأثر ہو کر مسارو نے ایمپلی فائر تخلیق کیا جو ایئر کرافٹ کی جگہ (Location) بتانے میں مدد کرتا تھا۔ اس کے علاوہ اس نے Heatseeking میزائل کی ریسرچ میں بھی اپنی خدمات فراہم کیں۔ اس جنگ کے دوران ایک فوجی آکیو موریتا ’’Akio Morita‘‘ سے ملاقات ہوئی۔ بہت جلد ان میں دوستی ہو گئی اور جنگ کے ختم ہونے پر دوبارہ ملنے کا وعدہ کیا۔

1946ء میں مسارو نے اپنی کمپنی ٹوکیو ٹیلی کمیونیکیشن ریسرچ لیبارٹریز کے نام سے بمباری سے متاثرہ ڈپارٹمنٹ اسٹور میں قائم کی۔ اب جنگ ختم ہوچکی تھی۔ موریتا بھی آ گیا اور دونوں نے مل کر کام کرنا شروع کیا۔ یہ دونوں 20 افراد کے ساتھ الیکٹرانکس کی ریپیئرنگ کا کام کرنے لگے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی پروڈکٹ بناتے، اس کے ساتھ یہ دونوں اُس وقت موجود ٹیکنالوجی پر مختلف طریقوں سے کام کر تے تھے اور ان سے ایک نئی چیز تخلیق کرنا چاہتے تھے اور وہ اس میں کامیاب ہو گئے۔ 1950ء میں دنیا کا پہلا ٹیپ ریکارڈر انہوں نے بنایا اور ایک نوڈل کمپنی کو فروخت کر دیا۔

جیسے جیسے بزنس بڑھنے لگا، مسارو نے اپنی کوششیں تیز کر دیں اور نئی نئی چیزیں تخلیق کرنے لگا۔ نت نئے ڈیزائن ترتیب دینے لگا۔ جس میں ٹرانسسٹر ریڈیو بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ دوسری الیکٹرانکس کی چیزوں کوبھی ایک نئی صورت (shape) دی۔

مسارو کے مطابق اگر آپ مارکیٹ میں آنا چاہتے ہیں تو ایسی اچھوتی اور منفرد پروڈکٹ مارکیٹ میں لائیں جو پہلے نہ ہو۔ اگر آپ نئی چیز نہیں بنا سکتے تو پہلے بنی ہوئی چیزوں کو دیکھ کر ان کا تجزیہ کریں۔ اس کی خوبیاں اور خامیاں نوٹ کریں اور سوچیں کہ اس میں کہاں کہاں اور کس طرح بہتری لائی جاسکتی ہے۔ اس طرح مارکیٹ میں اپنا نام بنا سکتے ہیں۔ ٭٭٭