ایلی بروڈ (Eli Broad) ایک امریکی بزنس مین اور سماجی شخصیت ہے۔ 2011ء تک یہ واحد آدمی تھا جو بیک وقت Fortune 500 کمپنیوں میں سے دو کمپنیوں کا مالک تھا جو دو مختلف انڈسٹریز سے تعلق رکھتی تھیں۔ ایلی کی کہانی اسی کی زبانی سنتے ہیں۔ اگر مجھے میرے بچپن میں کوئیکہتا کہ میں بڑا ہوکر دو بڑی کمپنیوں کا مالک بنوں گا تو میں اس پیشن گوئی کو مذاق گردانتا اور یہ حقیقت تھی، کیونکہ بظاہر ایسے اسباب نہیں تھے جو اس مقام پر مجھے لا کھڑا کرتے، لیکن قدرت کی مہربانی سے یہ سب کچھ ممکن ہوا۔


٭…1999ء میں سن امریکا کو 18 ارب ڈالر میں امریکن انٹرنیشنل گروپ کو بیچ دیا اور اپنی تمام تر توجہ رفاہی اور سماجی کاموں پر صرف کرنے لگا،ہم میاں بیوی دونوں نے مل کر دو فاؤنڈیشن بھی بنائے ٭

میری پیدائش 6 جون 1933ء کو Bronx، نیویارک میں ہوئی۔ میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ میرے والدین لیتھونیا سے ہجرت کرکے یہاں آئے تھے۔ والد رنگریزی کا کام کرتے تھے اور میری ماں کپڑے وغیرہ سیا کرتی تھی۔ اس طرح ہمارا گزر بسر ہورہا تھا۔جب میں چھ سال کا ہوا تو ہم Detroit، مشی گن میں آگئے۔ یہاں آکر والد صاحب یونین آرگنائزر بن گئے اور اپنی دکان بھی کھول لی، جس سے گھر میں تھوڑی سی خوشحالی دکھائی دینے لگی۔ میں نے ڈیٹروئٹ پبلک اسکول میں پڑھنا شروع کر دیا اور 1951ء میں ڈیٹروئٹ سنٹرل ہائی اسکول سے گریجویشن کرلی۔ اس کے بعد Michigan اسٹیٹ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے لگا۔ اکاؤنٹنگ اور اکنامکس میرے پسندیدہ مضامین تھے۔ 1954ء میں میں نے یہاں سے تعلیم مکمل کرلی۔

کالج میں پڑھنا شروع کیا تو اپنا چھوٹا موٹا بزنس کرنے لگا، کیونکہ اپنے تعلیم کے اخراجات کا بوجھ والدین پر نہیں ڈالنا چاہتا تھا، نیزمیں اس کو بھی مناسب نہیں سمجھتا کہ آپ کالج میں پڑھ رہے ہوں اور والدین آپ کے اخراجات اٹھا رہے ہوں۔ آپ کو خود کمانا چاہیے۔ یہی دن عملی زندگی میں قدم رکھنے کے ہوتے ہیں، ورنہ عملی زندگی میں قدم رکھنے سے آپ ہمیشہ گھبرائیں گے۔ دورانِ تعلیم جوتوں کا بزنس شروع کر دیا۔ اس سے نہ صرف اپنی تعلیم کا خرچ نکل آتا، بلکہ دھیرے دھیرے میں اپنے والدین کا مالی بوجھ بھی سہارنے لگا۔ جوتوں کے کاروبار کے ساتھ گھر گھر جا کر کوڑا دان فروخت کرتا۔ یہ کام عام طور پر حقیر سمجھا جاتا ہے، لیکن میں نے اس کی پروا نہیں کی۔ اس معمولی بزنس نے لوگوں کے مزاج سمجھنے میں میری بہت مدد کی۔ اگر یہی کام میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد کرتا تو مجھے لوگوں کے مزاج اور نفسیات سے آگاہی کے لیے چار سال کا عرصہ چاہیے ہوتا، لیکن میں اپنی عمر کا قیمتی حصہ اس میں ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد Pakard motor میں ڈرل آپریٹر کے طور پر کام کرنے لگا۔ ہمیشہ نیک نیتی، دیانت اور لگن کے ساتھ کام کیا۔ اس طرح آپ اپنی صلاحیتوں کو صحیح معنوں میں پالش کرسکتے ہیں اور لوگ بھی آپ کو پسند کرنے لگتے ہیں۔ دو سال میں نے اکاؤنٹنٹ کے طور پر بھی کام کیا۔ 1956ء کو ڈیٹروئٹ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں اسسٹنٹ اکاؤنٹنگ پروفیسر کے طور پر نائٹ کلاسز کو پڑھاتا رہا۔

جب میں اکاؤنٹنٹ کے طور پر جاب کر رہا تھا تو میرے اکثر کلائنٹ کنسٹرکشن سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ آپس میں تعمیرات کی باتیں کرتے۔ ان کی باتیں سن سن کر میں بھی شعبہ تعمیرات میں دلچسپی لینے لگا۔ میں بھی ان سے گپ شپ کرتا اور اس کام کے بارے میں معلومات لینے لگا۔ ان کی باتوں سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ بزنس کسی کی توجہ کا منتظر ہے، کیوں نہ میں اس میں گھس جاؤں۔ 1957ء میں ڈیٹروئٹ میں ڈونالڈ کاف مین کے ساتھ مل کر ایک ہوم بلڈنگ کمپنی شروع کر دی۔ ہم نے اپنی کمپنی کا لمبا چوڑا نام Kaufman & Broad ہوم کارپوریشن رکھا، جو اب مختصر ہو کے KB Home ہو گیا ہے۔

اس بزنس کے ہر پہلو کا جائزہ لیا۔ اس کے ماہرین سے ملاقاتیں کیں تو میں اس نتیجے پر پہنچا کہ شعبہ تعمیرات میں تخلیقی کاموں کی ضرورت ہے اور وہ میں نے پوری کرنی ہے۔

ہم دونوں نے مل کر ایک نئی ہاؤسنگ اسکیم متعارف کروائی، جو نئی نسل کو اپنی طرف کھینچتی تھی۔ ہم نے یہ کام کیا کہ لوگوں کو قسطوں پر گھر بنا کر دیتے۔ قسط بھی اتنی معمولی ہوتی جو ایک عام آدمی بھی بآسانی ادا کر سکتا تھا۔ ہم نے دو کمرے پر مشتمل مکان کے ماہانہ کرایے سے بھی کم پیسوں کی قسط مقرر کی۔ اس طرح ہمارا بزنس دنوں میں ترقی کرنے لگا۔ بزنس بڑھنے کے ساتھ ہمیں سرمایے کی اشد ضرورت تھی۔ میں بینک سے رقم لینے کی حق میں بالکل نہیں تھا کیونکہ بینک سے قرض لے کر آپ اس کے غلام بن جاتے ہیں، اپنی مرضی کا کام نہیں کر سکتے۔ میں نے اس کا حل یہ سوچا کہ کمپنی کو پبلک کمپنی بنا دیتا ہوں۔ اس کے شیئرز بیچنے سے سرمایہ آ جائے گا تو پھر کاروبار مزید پھیلاتے چلے جائیں گے۔ 1961ء میں ہماری کمپنی امریکن اسٹاک ایکسچینج میں پبلک کمپنی ہو گئی۔ 1969 ء میں نیو یارک اسٹاک ایکسچینج میں یہ ’’دی فرسٹ ہوم بلڈر‘‘ کے طور پر درج ہو گئی۔ جب میں نے فیصلہ کیا کہ کمپنی کو پبلک کمپنی بنایا جائے تو کاف مین نے میری مخالفت کی اور یہاں ہماری راہیں جدا ہو گئیں۔ کاف مین کو میرے درست ہونے کا بعد میں یقین ہوا جب KB ہوم روز بروز ترقی کرتی جا رہی تھی۔ 1971ء میں Sunlife انشورنس کمپنی آف امریکا خرید لی۔ اس کمپنی میں ضروری ترامیم کی گئیں۔ میں نے اس کو Sun Life سے ریٹائرمنٹ سیونگ پاور ہاؤس سن امریکا میں تبدیل کیا۔

اب دو کمپنیوں کا مالک بن چکا تھا۔ میں نے سوچا کہ دنیا اب بہت کمالی ہے۔ کچھ ایسا کام کر جاؤں جو بعد میں آنے والی نسل کے کام آئے اور مجھے یاد رکھا جائے۔ 1999ء میں سن امریکا کو 18 ارب ڈالر میں امریکن انٹرنیشنل گروپ کو بیچ دیا اور اپنی تمام تر توجہ رفاہی اور سماجی کاموں پر صرف کرنے لگا۔ مختلف اسکول بنوائے۔ ہم میاں بیوی دونوں نے مل کر دو فاؤنڈیشن بھی بنائے۔ اب یہی مشغلہ ہے، اپنی قوم کی خدمت کرنا۔