’’…اور پھر میں میدان جنگ میں زخمی ہو کر گر پڑا۔ چاروں طرف ہر چیز گھومتی نظر آئی اور پھر مجھے ہوش نہ رہا اس کے بعد کیا ہوا۔ جب میری آنکھ کھلی تو میں نے اپنے آپ کو ایک ہسپتال میں پایا۔ میں نے حرکت کرنے کی کوشش کی، لیکن زخمی ہونے کی وجہ سے ہل نہ سکا۔ علاج ہونے سے رفتہ رفتہ افاقہ ہونے لگا اور ایک دن میں اپنے پاؤں پر چلنے لگا۔ ایک دن ڈاکٹروں کی آپس میں ہونے والی کھسر پسر سے میں چونک گیا۔ ان کے مطابق میں کسی کام کا نہ رہا تھا۔‘‘ یہ گفتگو ہے ’’ٹارگٹ‘‘ کے بانی ڈوگلس کی۔ وہ تفصیل بتاتے ہوئے کہتا ہے:


٭…ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم گاہکوں کو لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ہم کم قیمت پر چیز بیچیں تو ہماری چیزیں زیادہ فروخت ہوں گی ٭

’’کچھ یوں ہوا کہ بلیک اسکول سے گریجویشن کے بعد Amherst College چلا گیا۔ 1943 ء میں فوج میں ملازمت اختیار کر لی۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران انفنٹری ڈویژن میں ایک سارجنٹ کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ فوج کی نوکری ایک کٹھن مرحلہ تھا۔ اس مشکل مرحلے میں زخمی ہو گیا اور ڈاکٹروں کے بقول میں اب کوئی جسمانی کام نہیں کر سکتا تھا اور مجھے اسی وجہ سے فوج سے رخصت ہونا پڑا۔ بظاہر یہ میری زندگی کا تاریک دن تھا جب میں زخمی ہوا، لیکن قدرت کے احسان سے یہی میری زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوا۔ یہاں سے رخصت ہوتے ہی میں نے ہمت ہارنے کے بجائے خاندانی پیشے میں لگ گیا۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں فوج میں اس وجہ سے چلا گیا کہ میرے پانچ بھائی ہیں، وہ والد کے کاروبار میں ہاتھ بٹائیں گے اور میں نے کچھ تعلیم حاصل لی تھی تو فوج میں چلا گیا۔ کئی سالوں سے ہمارے خاندانی بزنس میں کوئی خاص تبدیلی نہ آئی تھی۔ میں چاہتا تھا اس میں کوئی نمایاں اور منفرد فرق لاؤں تاکہ بزنس ایک جگہ پر ٹھہرے رہنے کے بجائے ترقی کرے اور پھلے پھولے۔ اس کے لیے میں نے سخت کوشش شروع کر دی۔

میرے داد جان جارج ڈیٹن بھی ایک بزنس مین تھے، جنہوں نے ایک بینک بنایا اور اس کے بعد ایک مالیاتی ادارہ ’’منسوٹا لون اینڈ انویسٹمنٹ کمپنی‘‘ کی بنیاد رکھی۔ اس کے ساتھ ان کا ایک مذہبی پس منظر تھا، وہ مذہبی اصول پسند تھے۔ وہ اس بزنس کو زیادہ توجہ دینے کے بجائے سماج کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے لگے۔ 1902 ء میں میرے دادا اور والد یعنی باپ بیٹا مل کر Minneapolis میں ایک زمین کا ٹکڑا خریدا اور Datyton's Dry Goods اسٹور کھولا۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ Dayton's ڈپارٹمنٹ اسٹور بن گیا۔ دادا کے بعد میرے ابو اور چچا نے اس بزنس کو آگے بڑھایا لیکن اس میں کوئی خاص ترقی کے آثار نظر نہ آئے۔ 1948ء میں ہمارے والد نے یہ بزنس ہمارے حوالے کر دیا اور ہم سب بھائیوں نے مل کر کام کرنا شروع کر دیا۔ چھ سال کے بعد 1954 ء کو اس کا ذیلی اسٹور کھول دیا اور پھر اس کی شاخیں بڑھاتے گئے اور میں وائس پریذیڈنٹ کی حیثیت سے خدمات سر انجام دینے لگا۔ اس کے علاوہ مرچنڈائز وائس پریذیڈنٹ کے طور پر بھی کام کیا۔

میں چاہتا تھا کہ ہمارا بزنس تیزی سے ترقی کرے۔ اس کے لیے ہر وقت غور و فکر کرتا رہتا۔ اس جیسے دوسرے بڑے بزنس کا مطالعہ بھی کرتا رہتا کہ وہ کس طرح ترقی کی منزلیں طے کر رہے ہیں۔ مسلسل غور و فکر اور مختلف کمپنیوں کے مطالعے کے دوران میرے علم میں Kmart کمپنی آئی جو ان دنوں عروج پر تھی اور روز بروز ترقی کرتی جا رہی تھی۔ اب میں نے تہیہ کر لیا کہ ہم بھی ایک ڈسکاؤنٹ چین بنائیں گے جو اپنے حریفوں کو مات دے دے گی اور ہم اس میں کامیاب ہو گئے۔

1960ء میں ایک دوست کی مدد سے ’’Target‘‘ کمپنی لانچ کی۔ جہاں ہمارا مقصد یہ تھا کہ یہ ایک بڑے پیمانے پر ڈسکاؤنٹ اسٹور ہو گا۔ اپنے کسٹمر کو ہر طرح کی چیزیں اور نمایاں ڈسکاؤنٹ کے ساتھ مہیا کریں گے۔ دو سال کے بعد 1962ء میں اس کا پہلا ایک ذیلی اسٹور کھولا جو ہمارے لیے قرعہ فال ثابت ہوا اور سالانہ ایک ارب کی سیل ہونے لگی۔ اس سیل پر میرے بھائی اعتماد کرنے کو تیار نہ تھے، لیکن 1968ء میں یہ حقیقت ثابت ہو گئی۔ Kmart تو اس سے بھی زیادہ تیزی سے ترقی کر رہی تھی، ہمارا بھی اپنا ایک وژن اور مشن تھا۔ جس سے ہم سرِمو انحراف نہیں کرنا چاہتے تھے۔ یہاں پر ہمیں استقلال کی ضرورت تھی اور ہم اس پر قائم رہے۔

1969ء میں Hudson Datyton's کمپنی کے ساتھ مل گیا اور میں نے Target کمپنی کو چھوڑ دیا، لیکن میرے دل میں ایک دکھ تھا کہ اپنے لگائے ہوئے پودے کو کسی دوسرے کے سہارے پہ کیوں چھوڑ دیا۔ "Hudson"کمپنی کی انتظامیہ کے ساتھ میری بنتی نہیں تھی۔ 1972ء میں اسے چھوڑ کر دوبارہ Target میں آ گیا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے Target کمپنی اپنے ٹارگٹ کی طرف بڑھتی چلی گئی۔ ایک کے بعد دوسرا اسٹور کھولتے گئے اورہمیشہ اپنے مشن اور وژن کو سامنے رکھا۔ مشکل حالات میں بھی اپنے کاروباری اصولوں پر سختی سے کاربند رہے اور کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا۔ جس کی وجہ سے آج یہ کمپنی دنیا کی دوسری بڑی ڈسکاؤنٹ ریٹیلر کمپنی ہے۔ اس کی ملازمین کی تعداد پونے تین لاکھ ہے اور ایک رپورٹ کے مطابق یہ کمپنی ایک ارب، ایک کروڑ کسٹمرز پر اثر انداز ہوتی ہے۔‘‘

یہ ایک شخص کی داستان ہے جو فوج سے اس وجہ سے رخصت کر دیا جاتا ہے کہ اب یہ کام نہیں کر سکے گا، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔ اللہ تعالی نے ہر انسان کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوزا ہے۔ اگر ہم ان صلاحیتوں کو درست استعمال کریں تو کوئی کام ہمارے لیے مشکل نہیں ہے۔ دوسری بات ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم گاہکوں کو لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ہم کم قیمت پر چیز بیچیں تو ہماری چیزیں زیادہ فروخت ہوں گی۔ اس طرح ہمیں زیادہ نفع حاصل ہو گا۔