ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ جتنے لو گ اس وقت سود سے منسلک ہیں، ان کو سود کی ضرورت کم اور اسٹیٹس کا مسئلہ زیادہ ہے۔ مگر یہ کیسا ’’اسٹیٹس‘‘ جو اللہ سے جنگ مول لے کر اختیار کیا جارہا ہے الحمد للہ ! ہم نے کبھی انشورنس بھی نہیں کروائی۔ انشورنس بھی ’’اوپر والے‘‘(اللہ پاک)کی ہی رکھی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے الحمد للہ ! کبھی نقصان نہیں ہوا میں اپنے تاجر بھائیوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ سودی معاملات سے یکسر الگ ہوجائیں۔ یہ سراسر اللہ کے ساتھ جنگ ہے اور جب آپ جدا ہوجائیں تو عزم وہمت اور اللہ پر مضبوط بھروسہ کریںچھ وقت آزمائش کا ضرور گا مگر زیادہ طویل نہیں

 تقریباً 90 فیصد تاجر سودی معاملات کرتے ہیں۔ ہمار اتجربہ ہے کہ جو تاجر بھی ’’اُور ٹریڈنگ ‘‘کرتا ہے وہ ضرور نقصان اٹھاتا ہے۔ ہمار ے چچا کہا کرتے تھے کہ بینک کے سہارے تجارت کرنے والا تاجر کبھی چالیس سال سے زیادہ ٹھہر نہیں سکتا۔

ہمارا امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار تھا۔ دنیا بھر سے ہم چیز منگواتے اور بھیجتے تھے۔ بینکوں سے سودی معاملات کرتے تھے۔ سود کے حوالے سے بینکوں نے ہمیں بے شمار سہولیات دے رکھی تھیں۔ ان کا ہم سے کوئی مطالبہ نہ تھا۔ بینک نے خود ہمیں اوور ڈرافٹ (overdraft) کی سہولت دے رکھی تھی۔ ایل سی (letter of credit) وغیرہ کی سہولیات ہمیں میسر تھیں۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار سہولیات انہوں نے ہمیں دیں۔ کئی بینکوں نے ہمیں ترغیب بھی دی کہ آپ کاروبار کرتے جائیں ہم آپ کا تعاون کریں گے۔


ہمار اصول ہے 30 دن سے زیاد پر کسی کو کوئی بھی چیز نہیں دیتے۔ اس میں ہمیں اللہ تعالیٰ کی پوری پوری مدد حاصل ہے۔ بڑے ٹھاٹ سے تجارت کرتے ہیں۔ ہمارا کوئی بھی سیلز مین آج تک نہیں ہے۔ ہم یہ سارا کام اپنی ٹیبل پر بیٹھ کر کررہے ہیں۔’’بس! آؤ! اور لے جاؤ!‘‘سارا کاروبار نقد کی بنیاد پر چلتا ہے۔ دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں، سامنے کی کرسی پر بیٹھتے ہیں اور ہم سے معاملہ کرکے چل دیتے ہیں۔

ہم ایل سی (لیٹر آف کریڈٹ)استعمال کرتے تھے۔ اس حوالے سے ہم پر کوئی بندش وغیرہ نہیں تھی۔ کاغذات یا دیگر شرائط کا بھی ہم سے کوئی مطالبہ نہ تھا۔ ان میں بہت سی رعایتیںتو ہماری وضع قطع کو دیکھتے ہوئے کی گئی تھیں۔ انہیں ہم پرخیانت اور نقصان کا شبہ نہیں تھا۔ ہمیں کروڑوں روپے کی حد تک بینک کا کیش استعمال کرنے کی بھی اجازت تھی۔ اسی طرح ایل سی میں بھی دیگر لوگوں سے خاص طور سے ہمیں زیادہ چھوٹ دی گئی تھی۔

ہم رفتہ رفتہ بینکوں کے جال میں پھنستے جارہے تھے۔ بینک جو بھی قرضہ دیتا اس کی ادائیگی ہمیں سود کے ساتھ کرنا پڑتی۔ ہم پر کاروبار بڑھانے کی دھن سوار تھی۔ رفتہ رفتہ ہم چھوٹے چھوٹے قرضوں میں پھنستے چلے گئے۔ پھر ایک وقت آیا کہ ہم نے کچھ قرض لے رکھے تھے اور دوسری طرف ایک بڑا نفع والا سودا بھی نظر آرہا تھا۔ اپنے پاس تو سرمایہ نہیں تھا، ہم پر سودی قرضے کا دباؤ آگیا۔ کیونکہ بڑے کاروباری معاملات میں بارہا ایسا ہوتا رہتا ہے کہ آدمی کے پاس کیش ختم ہوجاتا ہے۔ بڑی سطح کی ادائیگیوں کو پورا نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا سودی قرضے کے بغیر چارہ نہیں رہتا۔ تاہم وہ سودی قرض ہمارے قابو سے باہر نہیں تھا۔

بینک نے ہمیں پانچ لاکھ درہم تک کی ’’کیش فیسلٹی‘‘دی تھی۔ یعنی اتنی رقم ہم بینک سے لے سکتے تھے۔ یہ معاملہ ہمار ا کسی ایک بینک سے نہیں تھا۔ کئی بینکوں سے تھا۔ بینک خود ہمیں پیش کش کرتے تھے کہ آپ ہمارے واسطے سے تجارت کریں۔ ہر ایک کہتا تھا کہ ہمیں آپ سے کچھ نہیں لینا۔ آپ بس ہمارے ساتھ ’’ٹریڈ ‘‘کریں۔ اسی دوران ہم نے پاکستان میںکاروبار بہت پھیلالیا۔ ہم نے غیر ملکی کمپنیوں کی ایجنسیاں حاصل کرلیں۔ اچانک ایسا ہوا کہ ان غیر ملکی کمپنیوں کو ادائیگی کرنا تھی۔ بہت سے قرضے حاصل کرلیے، ان کا بوجھ بہت بڑھ گیا۔ اسی دوران اللہ تعالی نے دل میں یہ بات ڈالی کہ یہ کیسی مسلمانی ہوئی؟ ہم پانچ وقت کی نمازیں بھی پڑھ رہے ہیں، روزے بھی رکھتے ہیں، صدقہ خیرات بھی کرتے ہیں، مگر دوسری طرف اللہ تعالی سے جنگ بھی مول لے رکھی ہے۔ دراصل کاروباری قرضے میں پھنسنا ہمارے لیے باعث رحمت بن گیا تھا۔ جونہی ہم اس میں پھنسے، اپنی حالت پر غور کیا اورسود سے مکمل کنارہ کش ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
یہ فیصلہ کرتے ہی تمام ایل سی بند کروادیں۔ اس کے بعد آج تک گیارہ سال ہوگئے ہیں،کبھی کسی قرضے میں پھنسے ہیں نہ ہی ہمارا کوئی لیٹر آف کریڈٹ ہے۔ سود سے چھٹکارے کے بعد ہم نے اپنے کاروبار کی پالیسی ’’نقد‘‘معاملات پر رکھی۔

چنانچہ ہمارے کاروبار کا طریقہ کار یہ ہے کہ ہم اپنے بائع فریق(سیلر)کو آرڈر دیتے ہیں۔ اس معاملے میںواحد معاون، ہمارا آپس میںاعتماد ہے۔ اسی ’’گڈول‘‘ کی بنیاد پر ہی سارے معاملات چلتے ہیں۔ مال لوڈ کرنے کے بعد ہمیں متعلقہ دستاویزات فیکس یا میل کرتے ہیں۔ اُن کو دیکھ کر ہم جلد سے جلد’’ادائیگی‘‘کردیتے ہیں۔ جونہی ہم ادائیگی کرتے ہیں۔ اس کے ’’اوریجنل ڈاکومنٹس‘‘ ہمیں مل جاتے ہیں۔ ہم ادائیگی کرنے میں جلدی اس لیے کرتے ہیں تاکہ سامان پر کسی آفت وغیرہ کا شکار ہونے کی صورت میں ہمارے دل میں یہ فتور نہ آجائے کہ ہمیں مال نہیں ملا۔ الحمد للہ ! ہم نے کبھی انشورنس بھی نہیں کروائی۔ انشورنس بھی ’’اوپر والے‘‘(اللہ پاک)کی ہی رکھی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے الحمد للہ !کبھی نقصان نہیں ہوا۔ اگر تھوڑا بہت ہوا بھی تو ایسا نہیں تھا کہ انشورنس کے بغیر ہم اس کی تلافی نہ کرسکتے ہوں۔
توبہ کرنے کے بعد بہت سے مواقع ایسے بھی پیش آئے کہ ہمیں زیادہ شرح سود کے ساتھ ادائیگی کی پیشکش کی گئی۔ ایک بار ایک ملین کا آٹا خریدنے پر فی من ایک روپیہ سود ادا کرنے کا کہا گیا، ہم بینک سے پیسے لے کر آٹا خریدسکتے تھے اور اتنا بڑا نفع کما سکتے تھے، مگر ہم نے پختہ عزم کر رکھا تھا کہ دوبارہ اسی لعنت کو گلے سے نہیں لگانا۔ لہذا ہم نے قرض نہ لیا۔ اس طرح یہ سودا ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔ وہی آٹا ایک اور کمپنی نے خریدا اور اس سے ہم نے کم نفع پر خریدا۔ مگر ہوا ایسے کہ اصل پارٹی بھاگ گئی اور اس کے ساتھ معاملہ کرنے والوں کے پیسے پھنس گئے۔ ہم سود سے بچنے کی وجہ سے محفوظ رہے۔ اگر ہم نفع کے لالچ میں سود لے لیتے تو بڑے برے پھنستے۔

ہمار اصول ہے 30 دن سے زیاد پر کسی کو کوئی بھی چیز نہیں دیتے۔ اس میں ہمیں اللہ تعالیٰ کی پوری پوری مدد حاصل ہے۔ بڑے ٹھاٹ سے تجارت کرتے ہیں۔ ہمارا کوئی بھی سیلز مین آج تک نہیں ہے۔ ہم یہ سارا کام اپنی ٹیبل پر بیٹھ کر کررہے ہیں۔’’بس! آؤ! اور لے جاؤ!‘‘سارا کاروبار نقد کی بنیاد پر چلتا ہے۔ دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں، سامنے کی کرسی پر بیٹھتے ہیں اور ہم سے معاملہ کرکے چل دیتے ہیں۔ بسا اوقات ہمیں پتا تک نہیں ہوتا کہ کون تھا؟کہاں سے آیا تھا؟ یہ جتنی بھی کامیابیاں اور فوائد ہمیں حاصل ہوئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محض سود چھوڑنے کی برکت ہے۔ ہمیں الحمد للہ! کبھی بھی نقصان نہیں اٹھانا پڑا۔

جب ہم سودی معاملات کرتے تھے تو ہمارا کاروبار’’بھوسے ‘‘کا تھا۔ ہم اس وقت دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ کرے! بارش بالکل ہی نہ ہو، تاکہ لوگ اپنے جانوروں کے لیے ہم سے بھوسہ خریدنے پر مجبور ہوں،کیونکہ اگر بارش ہوجائے تو بھوسہ ہر جگہ اُگ آجاتا ہے۔ اس قسم کی خراب نیت کے ساتھ ہم دعا کیا کرتے تھے۔ ہم اس وقت یہ سمجھتے تھے ہم بڑا نفع کا کاروبار کر رہے ہیں، حالانکہ معاملہ اس کے برعکس تھا۔ ہم یہ تو دیکھتے کہ ہمیں دو، تین روپے کانفع زیاد ہ آرہا ہے، مگر اس طرف توجہ نہیں کرتے تھے کہ ہم اسی کے برابر سود بھی تو ادا کررہے ہیں۔ جتنا آرہاتھا اس سے زیادہ جا بھی رہا تھا۔ بس اللہ نے عقل دے دی ہم نے صرف بھوسے کا کاروبار چھوڑا ہے۔ باقی جتنے کاروبار بھی پہلے سے چل رہے تھے۔ اب اس سے بھی بہتر حالت میں جاری ہیں۔
سود چھوڑنے کا ایک بہت بڑا فائدہ ہمیں یہ بھی ہوا کہ اس سے قبل ہما رے رشتہ داروں میں باہم رنجشیں تھیں۔ ہر ایک، دوسرے سے کِھنچاہوا رہتا تھا۔ کاروباری اختلافات بہت تھے۔ سود چھوڑنے کے بعد الحمد للہ! محبتیں بڑھ رہی ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے قریب آگئے ہیں۔ اسی سود سے چھٹکارے کاایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ ہم بسا اوقات کسی بڑے پروجیکٹ پر کام شرو ع کرتے ہیں۔ ظاہری اسباب بھی پورے نہیں ہوتے۔ اللہ کا نام لے کر شروع کردیتے ہیں۔ اللہ تعالی اس کے اسباب پیدا فرمادیتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ اس منصوبے کی وجہ سے پہلے جا ری کسی پراجیکٹ میں بھی فرق نہیں آتا۔ ہم سمجھتے ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا انعام ہے۔

اس وقت ہر بڑا تاجر بینکوں سے وابستہ ہے۔ اس کے بغیر اس کے لیے ایک قدم اٹھانا بھی محال ہے۔مگر المیہ یہ ہے کہ تقریبا90فیصد تاجر سودی معاملات کرتے ہیں۔ہمار اتجربہ ہے کہ جو تاجر بھی ’’اُور ٹریڈنگ ‘‘کرتا ہے ،وہ ضرور نقصان اٹھاتا ہے۔ہمار ے چچا کہا کرتے تھے کہ بینک کے سہارے تجارت کرنے والا تاجر کبھی چالیس سال سے زیادہ ٹھہر نہیں سکتا۔ چالیس سال بعد وہ ضرور تباہ ہوگا۔ ہمارے چچا نے کتنی ہی کمپنیوں کو اپنے سامنے ابھرتے ہوئے اور ڈوبتے ہوئے دیکھا تھا۔

یہ بھی ہمارے طریقہ کا ر کا حصہ ہے کہ ہمارا ایک امیر ہوتا ہے۔ جس کے فیصلے کی ہم قدر کرتے اور اس کا احترام کرتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے ہمیں اپنے ’’امیر‘‘کی رائے پر پوری طرح اطمینان نہیں ہوتا ،مگر ماننے کی برکت سے اسی کام کے بھر پور نتائج حاصل ہوتے ہیں اور سب مطمئن ہوجاتے ہیں۔
میں اپنے تاجر بھائیوں کو وصیت کرتا ہوں کہ سودی معاملات سے یکسر الگ ہوجائیں۔ یہ سراسر اللہ کے ساتھ جنگ ہے،اور جب آپ جدا ہوجائیں تو عزم وہمت اور اللہ پر مضبوط بھروسہ کریں۔ کچھ وقت آزمائش کا ضرور گا،مگر زیادہ طویل نہیں۔پھر جونہی آپ سود کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کریں گے ،آپ کو طرح طرح کے لالچ دیے جائیں گے۔جن چیزوں کی کبھی ہم آرزو کیا کرتے تھے ،وہ ڈھیروں کے حساب ہمارے پاس چل کر آئیں گی۔مگر یہی وقت استقامت اور ہمت کا ہوگا۔

اس کے ساتھ ساتھ آپ کو ابتداًء بہت سے کام ناممکن اور مشکل نظر آئیں گے،ہمیں بھی اس ضرورت حال کا سامنا کرنا پڑا،مگر بہت جلد اس کی برکات انسان کو چاروں طرف سے اپنی حفاظت میں لے لیتی ہیں۔ہم لوگ اس کی زندہ مثال ہیں۔ہم جب سودی معاملات سے الگ ہورہے تھے ہمارے رشتہ داروں نے ہمیں بہت دھمکایا۔ ایک نے کہا تم بغیرسود کے چل ہی نہیں سکتے ،دوسرے نے کہا:تین سال سے آگے نہیں جاسکتے۔ کسی نے کہا زیادہ سے زیادہ چارسال کے اندر تمہارے حصے بخرے ہوجائیں گے۔ آج پانچواں سال ہے الحمد للہ! بہت کامیابی سے چل رہے ہیں۔ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ جتنے لو گ اس وقت سود سے منسلک ہیں،اس میں ضرورت کم اور اسٹیٹس کا مسئلہ زیادہ ہے۔مگر یہ کیسا ’’اسٹیٹس‘‘ جو اللہ سے جنگ مول لے کر کیا جارہا ہے۔میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں جو شخص سود سے پاک معاملات کر رہا ہے ،اس کو خواہ کتنا بھی بڑا نقصان کیوں نہ ہو جائے ،اس کی چادر کے اند ر ہی رہے گا۔ناقابل برداشت حد تک نہیں جائے گا۔

خاص طور اپنے پاکستانی تاجردوستوں اور عوام الناس سے درخواست کروں گا کہ خدارا !ملک عزیزکی حفاظت پر خصوصی توجہ دیں۔ آپ کو احساس نہیں کہ جب پاک وطن میں کسی مسجد یا مدرسے میں بم پھٹتا ہے یا ایک ایک دن رات میں کئی لاشوں کی خبر پوری دنیا میں پھیلتی ہے تو دیگر ممالک میں رہائش پذیر پاکستانیوں کو کیسے کیسے طعنے دیے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے تم تو وہ بد نصیب لوگ ہو جہاں کی مساجد بھی پر امن نہیں۔ یہ طعنے ہم لوگوں کے لیے ناقابل برداشت ہوتے ہیں۔ اس لیے یہاں کے باسیوں کو چاہیے کہ وطن عزیز کو ہر قسم کے فتنے سے محفوظ فرمائیں۔ ایک مثال دے کر بات کو ختم کرتا ہوں کہ جب ملک میں ایٹمی دھماکہ ہواتھا تو دوسرے ممالک میں رہنے والے پاکستانیوں کو لوگ جھک کر سلام کرتے تھے۔دیگر ممالک کے پاکستانی آفیسروں کے لیے مسلم ممالک کے بڑے سربراہان اپنی جگہ چھوڑ دیتے تھے کہ ان کا تعلق اس ملک سے ہے جہاں غیرت مند اور جرأت مند لوگ رہتے ہیں۔وہ کہتے ہیں :کوئی توہے جس پر ہم بھروسہ کر کے فخر کرسکیں گے۔