یاسر پاکستانی کی کہانی خود ان کی زبانی میرا تعلق گوجر خان (جہلم) پاکستان سے ہے۔ میں آج سے25 سال قبل یعنی 1987ء میں یہاں اپنی کزن سے شادی کرنے کیلئے منگیتر بن کر آیا۔ میں سب سے پہلے گلاسگو آیا۔ کیونکہ میرے انکل اور ان کی فیملی یہاں 1958ء سے رہ رہی تھی اور میں ان کے پاس ہی آیا تھا۔

 اس وقت میرے انکل ڈورٹو ڈور بزنس کیا کرتے تھے۔ میں نے سب سے پہلے نیوز پیپر کارنر شاپ کیپر کے طور پر کام کیا جو کہ میرے انکل کا فیملی بزنس تھا۔ ایک سال تک ان کے ساتھ کام کیا اس کے بعد میں نے اپنی کارنر شاپ کھول لی جہاں میرے لئے زبان کا بہت بڑا مسئلہ تھا۔ میں نے انگلش سیکھنے کیلئے کالج میں داخلہ لیا اور تھوڑی بہت انگلش سیکھنے کے بعد اپنی دکان کھولی۔ پھرایک دکان کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری دکان کھولتا چلا گیا۔ میں نے جب بھی نئی دکان کھولی، خالی دکان ہی کھولی کیونکہ میری کوئی گڈول نہ تھی اور نہ ہی کوئی فیملی۔جب میں یہاںآ یا تو اس وقت میری جیب میں صرف5 پونڈ تھے جو کہ میرے ایک انکل نے یہاں آتے وقت مجھے دیئے تھے۔اس کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں تھا، لیکن اس دور میں یہاں بینک بہت مدد کرتے تھے۔ میں نے ایک پراپرٹی لی۔ یہاں میں بتاتا چلوں کہ ایک محاورہ ہے جو یہ کہ (پہلا تاثر آخری تاثر ہوتا ہے) میں نے جو پہلی پراپرٹی خریدی۔ اس کی قیمت37ہزار پونڈ تھی جو میں نے65 ہزار پونڈ میں بیچ دی۔ اس کے بعد میں مزید پراپرٹیز خریدتا رہا اور ان کو کرائے پر چڑھاتا رہا۔ میں نے پہلی پراپرٹی1987ء کے آخر میں خریدی۔ اس بارے کسی نے کوئی مشورہ نہیں دیا کیونکہ میرے انکل کی فیملی اور دوسری تمام مسلمان کمیونٹیز اس وقت کارنر شاپس کے کام کر رہی تھیں میں نے سوچا کہ کچھ مختلف کام کیا جائے۔ اس لئے میں سٹوروں کے کاروبار کی طرف آیا اور خالی دکانیں لینے کے بعد انہیں سٹورز کی شکل میں ڈھالتا چلا جاتا۔ میں نے اپنے سٹورز کا اس وقت کے بڑے سٹوروں کے ساتھ جائزہ لیا اور میں نے ویسے ہی ان کو چلانے کی کوشش کی۔ میں پہلا پاکستانی تھا جس کے اتنے بڑے اپنے سٹور تھے باقی آپ اپنے دوسرے لوگوں کے سٹورز دیکھیں۔ ان کے سائز اور ٹرن آؤٹ وغیرہ چیک کریں۔ اس وقت جتنی ہماری ٹرن آؤٹ ہے، پورے سکاٹ لینڈ میں کسی پاکستان کی نہیں۔ اس وقت سکاٹ لینڈ میں ہمارے6بڑے سٹور چل رہے ہیں جہاں تمام کمیونٹیز کے لوگ خریداری کرتے ہیں اور کوئی آپ کو ایسا شخص نہیں ملے گا جو یہ کہہ سکے کہ یہ کسی ایشین کا سٹور ہے اور اب ہمیں نیسا کمپنی کے ساتھ مل کر کاروبار چلا رہے ہیں۔


میں اللہ کے فضل وکرم کے سائے تلے، اپنی محنت اور سخت محنت پر ایمان رکھتا ہوں اور اسی پر عمل کرتے ہوئے میں نے یہ ترقی کی۔ جب میں نے شروع شروع میں خالی دکانیں لینے کے بعد کھولنا شروع کیں تو لوگ کہتے تھے یہ کام نہیں چلے گا، کیونکہ گوروں نے اپنی دکانیں بند کیں، لیکن میں نے محنت کی اور اس کا پھل بھی پایا۔

میں اللہ کے فضل وکرم کے سائے تلے، اپنی محنت اور سخت محنت پر ایمان رکھتا ہوں اور اسی پر عمل کرتے ہوئے میں نے یہ ترقی کی۔ جب میں نے شروع شروع میں خالی دکانیں لینے کے بعد کھولنا شروع کیں تو لوگ کہتے تھے یہ کام نہیں چلے گا، کیونکہ گوروں نے اپنی دکانیں بند کیں، لیکن میں نے محنت کی اور اس کا پھل بھی پایا۔ 2000ء میں پرانے سٹور کوئیک سیو کا سٹور جو آگ لگنے سے کمپنی نے بند کر دیا تھا، میں نے اسے ڈھائی ملین پونڈ میں خریدا اور اس پر ایک ملین پونڈ مزید خرچ کر کے نئے سرے سے تعمیر کیا۔ اس سے تقریباً 5 ملین پونڈ کا منافع کمایا، یعنی اس طرح میں رِسک لیتا رہا لیکن اللہ تعالی کا کرم میرے ساتھ شامل حال رہا اور میں ترقی کرتا رہا۔
آئیڈیاز تو اللہ کی مہربانی سے دماغ میں آتے رہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ لوکل سپلائیرز نے بھی مدد کی اور ہمیں مال مہیا کیا اور ہم محنت کر کے آگے بڑھتے رہے۔ میں بینک آف سکاٹ لینڈ اور اپنے وکیل کے بارے میں بتاتا ہوں جو انہوں نے مجھے2004ء اور 2008ء کو لکھا جس میں میرے کاروبار کی مالیت بتائی گئی ہے اور ان کے بقول میرے کاروبار کی مالیت اس وقت10 ملین پونڈ سے زیادہ کی ہے۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت پہلا پاکستانی کارنر شاپ کیپر ہوں گا جس کے پاس اتنی مالیت کے اثاثے ہیں۔ میں دوسرے لوگوں کی بات نہیں کر رہا صرف کارنر شاپس والوں کی بات کر رہا ہوں۔ اس کے علاوہ شیر برادرزوالے یا پھر محمد سرور (سابق ایم پی) ہیں لیکن ان کا کاروبار کیش اینڈ کیری کا ہے، کارنر شاپس کا نہیں۔ اسی طرح لیبر پارٹی کی ایک میٹنگ میں شریک تھا جہاں محمد سرور نے مجھے کہا کہ میں اپنا تعارف کراؤں تو میں نے اس وقت بھی اپنا تعارف امین مرزا کارنر شاپ کیپر کے طور پر کرایا۔ میں کارنر شاپس کے علاوہ پراپرٹی کا کاروبار بھی کرتا ہوں اور میرے پاس اے ایچ وائی لمیٹڈنامی کمپنی ہے جس کے تحت ہم کمرشل پراپرٹیز کا لین دین بھی کرتے ہیں۔

ہم تین بھائی ہیں امین، حنیف اور یاسر۔ یہ میرے سگے بھائی ہیں۔ پہلے ہم مل کر کام کرتے تھے لیکن2004ء کے بعدانہوں نے اپنا علیحدہ کاروبار شروع کر لیا۔ اب میرے کاروبار کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں۔ میں نے اپنے جو اثاثے آپ کو بتائے ہیں وہ صرف میرے ہیں اور میرے بھائیوں کے علیحدہ اپنے اثاثے ہیں۔ میں اپنے بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں اور میری ساری فیملی یعنی میرے بیوی بچے یہاں ہی سیٹل ہیں۔ میرے تمام بچے اس وقت یہاں ہیں اور پرائیویٹ سکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔ میرے بڑے بیٹے نے بزنس میں لاء کیا ہوا ہے اور وہ میرے ساتھ بزنس کی طرف آرہا ہے۔ آپ کو تو معلوم ہی ہے کہ اس وقت یہاں کاروباری حالات کیا ہیں؟ جابز حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔ اگر کوئی جاب مل جائے تو اس میں اتنی تنخواہ نہیں ملتی کہ بچے اپنے اخراجات پورے کر سکیں۔ آج کل کاروبار کے جو حالات ہیں وہ تو آپ کے سامنے ہی ہیں، لیکن پاکستانیوں کے مسائل میں جابز نہ ملنا خاص کر پاکستانی طالبعلم جو یہاں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں اور اپنے اخراجات کے لئے چھوٹے چھوٹے کام تین، تین پونڈ فی گھنٹہ کے حساب سے کام کرتے ہیں۔۔۔۔ تو بہت دکھ ہوتا ہے اس کے علاوہ بینکنگ میں آپ کو پتہ ہی ہے کیا حالات ہیں۔ اگرپراپرٹی کی قیمتیں بڑھنا شروع ہو جائیں تو پاکستانی بھی اس کاروبار میں اپنا حصہ حاصل کر سکتے ہیں۔

یہاں ایسی تمام شخصیات کے بارے میں یہ کہوں گا کہ جن کو بھی میں جانتا ہوں وہ پاکستانیوں اور پاکستان کے لیے ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں۔ میں کسی اور کی بات نہیں کرتا، چوہدری محمد سرور (سابق ایم پی)اور اپنی بات کرتا ہوں، جب کوئی آفت پاکستان پر آئی ہم نے بڑھ چڑھ کر پاکستان کی مددکی۔کچھ عرصہ پہلے جب پاکستان میں سیلاب آیا تو میں خود پاکستان گیا اور تقریباً تین ملین پونڈ اکٹھے کئے۔ یہ سب میں نے جمعیت المسلمین اور دوسرے لوگوں کے تعاون سے اکٹھے کئے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ گورنمنٹ کی طرف سے گرانٹ بھی ملی۔ یہ سب حاصل کرنے کے لیے آپ کو محنت کرنا پڑتی ہے۔ اس میں چوہدری محمد سرور کی بہت محنت ہے۔ ویسے بھی جب کبھی کوئی ایسا وقت آیا ہے تو گلاسگو میں تمام پاکستانی کمیونٹی اکٹھی ہو جاتی ہے۔ اس وقت تمام کمیونٹی میں اتفاق ہے۔ گلاسگو کے علاوہ آپ کو یہ اتفاق کہیں اور کم ہی نظر آئے گا۔ اس کی سب سے بڑی مثال چوہدری محمد سرور کی ہے جن کو پہلا پاکستانی ایم پی یہاں کی کمیونٹی نے ہی بنایا تھا اگر برمنگھم یا بریڈ فورڈ کی کمیونٹی میں اتفاق ہوتا تو وہاں سے پہلا پاکستانی ایم پی ہوتا ۔ گلاسگو میں اس وقت 35 ہزار کے قریب پاکستانی کمیونٹی ہے۔ اس وقت میرے انڈر6 سپر مارکیٹیں کام کر رہی ہیں اور یہ تقریباً 16 گھنٹے کام کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ میں پراپرٹی کا کام کر رہا ہوں۔ سپرمارکیٹس میں میرا تمام سٹاف مختلف کمیونٹیز پر مشتمل ہے جس میں گورے، کالے اور ایشین سبھی شامل ہیں اور کبھی اس بارے میں کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہوئی کہ یہ کسی ایشین یا مسلمان کی سپرمارکیٹ ہیں صرف مینجمنٹ کا کام کرتا ہوں۔ سکاٹ لینڈ کے لوگ بہت اچھے ہیں میں نے اپنی زیادہ تر شاپس ایسے ایریاز میں کھلیں جہاں لوگوں کے مطابق نسل پرستی بہت تھی لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ایسی کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ ماسوائے چھوٹے چھوٹے واقعات کے۔

میں سمجھتا ہوں کہ بنیادی طور پر میری کامیابیاں صرف میرے والدین اور ایسے غریبوں کی دعاؤں کا نتیجہ ہیں جن کی میں مشکل حالات میں مدد کرتا رہا۔ میرا اس بات پر یقین واثق ہے کہ اللہ تعالی آپ پر اپنی جو بھی عنایات فرماتا ہے، اس میں غریبوں کا بھی حصہ ہوتا ہے۔ آپ ان بے کس لوگوں کی مدد کرکے ان پر کوئی احسان نہیں کرتے، بلکہ یہ آپ کا فرض ہے۔ باقی اللہ تعالی نے مجھے بچپن سے ہی کاروبار کا نہ صرف شوق بلکہ تھوڑی سی سوجھ بوجھ بھی عطا کی ہوئی تھی۔ سکول کے زمانے میں والدین نے مجھے موٹر سائیکل لے کر دی ہوئی تھی۔ جسے میں نے خوب اچھی طرح سجا کر رکھا ہوا تھا۔ اس کی خوبصورتی دیکھ کر مجھے ایک شخص نے پوچھا کہ اسے بیچو گے، میں نے اسے کئی گنازیادہ قیمت بتائی اور خلاف توقع وہ راضی ہوگیا۔ بس پھر کیا تھا، انہیں پیسوں سے میں نے موٹر سائیکل خریدنے اور بیچنے کا کاروبار شروع کردیا اور میں نے اچھے بھلے پیسے بنانے شروع کردیے۔

جب شادی کے بعد برطانیہ آیا تو شروع کے چند ماہ اپنے انکل کی دوکان پر کام کیا اور پھر اپنی دکان خریدی۔ میں نے حالات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ مختلف بڑے کاروباری لوگوں کی سوانح عمری پڑھی کہ وہ کیسے اتنے بڑے بزنس مین بنے؟ میری خصوصی توجہ گروسری کے کاروبار پر تھی۔ میں نے دیکھا کہ بڑے سٹورز والے کوئی گڈول نہیں دیتے۔ بس کوئی مناسب خالی جگہ دیکھتے ہیں اور پھر وہاں اپنا سٹور قائم کرلیتے ہیں۔ ان کی کامیابی کا راز صفائی، اچھی ڈیکوریشن، اچھی سروس اور زیادہ سے زیادہ آئٹم کو ایک جگہ اکٹھا رکھنے اور مناسب قیمت پر بیچنے میں ہے۔ جب آپ بڑی تعداد میں کوئی آئٹم خریدتے ہیں تو وہ آپ کو خاصی سستی مل جاتی ہے، اس طریقے سے آپ اس کو سستا بیچ کر بھی خاصا منافع کما لیتے ہیں۔

چنانچہ میں نے بھی یہی طریقہ کار شروع کردیا۔ میں نے جتنے بھی سٹور بنائے ہیں وہ سب خالی عمارتیں تھیں۔ بس محنت، کام سے لگن اور ایمانداری سے کام کیا اور اللہ تعالی نے بھی اپنی کرم نوازی کی اور میں نے ان کے لئے قطعاً کوئی گڈول نہیں دی تھی۔ میں نے ایک بات نوٹ کی تھی کہ سارے ایشین لوگوں کی دکانوں میں صفائی نہیں ہوتی تھی۔ ان کی شیلف اور دیگر اشیاء بھی پرانی ہوتی تھیں۔ میں نے اس کے برعکس وہی سٹینڈرڈ رکھا جوکہ بڑی سپر مارکیٹس، مثلاً آسدا، سینسبری اور ٹیسکو وغیرہ کا ہوتا ہے۔ جیسے کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے کہ چیرٹی میرے ایمان کا حصہ ہے اور ہمارا مذہب اسلام اس پر بہت زیادہ زور دیتا ہے۔ میں نے اس سلسلہ میں اپنے فرائض پورے کرنے کی مقدور بھر کوششیں کی ہیں۔ پاکستان میں بے شمار لڑکیوں کی شادیاں کروائی ہیں، بیوہ عورتوں کیلئے ماہانہ وظیفے مقرر کر رکھے ہیں۔ چوہدری محمد سرور کی چیرٹی یو کیئر کے ساتھ بھی منسلک ہوں اور سیلاب زدگان کی مدد کیلئے کئی بار ان کیساتھ جا چکا ہوں۔ زلزلے کے بعد میں نے کشمیر کے علاقے میں خاصی تعداد میں مختلف اشیاء بھجوائیں، اب میں اپنے آبائی شہر گوجر خان میں کوئی بڑا پروجیکٹ شروع کرنے پر غور کررہا ہوں اور وہاں ایک ویلفیئر سوسائٹی کا سرپرست اعلی ہوں۔ سعیدہ وارثی کے سویرا فاونڈیشن کے ساتھ بھی کام کررہا ہوں۔