دو منزلہ بلڈنگ، خوبصورت دکان اور جگمگاتے سائن بورڈ کو دیکھ کر آپ کے ذہن میں یہ تصور کبھی نہیں آئے گا کہ اس دکان کا آغاز کس طرح ہوا تھا۔ کہانی کا آغاز 2002ء میں ہوا۔ سلمان بشیر کے والد نے ارادہ کیا کہ بیٹوں کو ’’کریانہ اسٹور‘‘ بنا کر دیں۔ اس کریانہ اسٹورکے لیے بازار میں دوکان کرایہ پر لی گئی۔ ماہانہ کرایہ چار ہزار روپے طے ہوا۔ 

 

 دوکان پر سامان دینے، صفائی کرنے اور بوریاں اٹھانے کے لیے دو ملازم رکھے گئے۔ ماہانہ خرچ عمومی طور پر 25000 کے لگ بھگ تھا۔ پہلے سال کے اختتام پر اندازہ لگایا گیا تو سال بھر میں صرف پندرہ ہزار روپے کا خسارہ ہوا۔ گویا پہلے سال کی آمدن تقریباً تین لاکھ کے لگ بھگ رہی۔ اس کے بعد تو اللہ تعالی نے رحمت و برکت کے دروازے کھول دیے۔ آج دکان کھولے بارہ سال کا عرصہ گزر گیا ہے۔ ان بارہ سالوں میں ماہانہ اخراجات بڑھ کر ساٹھ ہزار تک پہنچ گئے ہیں۔ دکان سے حاصل ہونے والا نفع ایک کروڑ روپے سے بھی تجاوز کرچکاہے۔ جس بازار میں کرایہ کی دوکان میں آئے تھے وہاں اب 50 لاکھ کی نئی دوکان خرید لی ہے۔ یہ سب کا سب اسی ایک لاکھ روپے سے بنا۔ اس میں کوئی نیا پیسہ انویسٹ نہیں کیا گیا۔


اسی طرح میں نے جب یہ حدیث سنی کہ ’’جو شخص صبح پہلے نماز کی طرف گیا اس کے ہاتھ میں رحمن کا جھنڈا ہوتا ہے اور جو شخص پہلے تجارت کی طرف گیا اس کے ہاتھ میں شیطان کا جھنڈا ہوتا ہے‘‘۔ اس حدیث کے سننے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ کبھی بھی صبح کی نماز پڑھے بغیر دوکان نہیں گیا۔

جہاں تک کاروباری اصول کا تعلق ہے تو وہ بہت سادہ ہے۔ پہلے دن سے ہی ہم نے فیصلہ کیا کہ کبھی بھی دو نمبر چیز کو ایک نمبر کہہ کر نہیں بیچنا۔ اس کا نتیجہ پہلے سال تو مایوس کن تھا، مگر اگلے سال سے یہ ہماری پہچان بن گیا۔ پہلے سال جب ہم اپنے گاہک کو کہتے کہ یہ چیز اعلیٰ نہیں، ذرا کم معیار کی ہے تو وہ کبھی ہماری دکان سے چیز ہی نہ خریدتا۔ مگر اگلے سال سے لوگ ہماری بات پر اندھا اعتماد کرنے لگے اور سب کو معلوم ہوگیا کہ ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم نے یہ اصول بھی اپنایا کہ جب گاہک ہم سے کسی ایسی چیز کا پوچھتا جو ہمارے پاس نہ ہوتی تو ہم اس چیز کو اپنے پاس لکھ لیتے۔ اس کے بعد ڈیلر سے رابطہ کرتے اور دو تین جگہ سے چیز دیکھ کر اور ریٹ لگوا کر ہم اس چیز کو اپنی دکان میں لے آتے۔ اس طرح رفتہ رفتہ گاہک کو ہماری دکان سے تمام ضرورت کی چیزیں ملنے لگیں۔ نئی چیز کے بارے میں بھی ہمارا یہ اصول تھا کہ جیسے ہی ہماری دکان پر کوئی نئی چیز آتی ہم اس کی قیمت بہت کم رکھتے۔ گاہک کو وہ چیز پسند آتی اور اس چیز کے لیے لوگ ہمارے پاس آنے لگتے تو پھر ہم اس چیز کی قیمت مارکیٹ ریٹ کے مطابق کردیتے۔ اس طرح رفتہ رفتہ ہمارے گاہک بھی بڑھتے۔

گاہک کا زیادہ سے زیادہ اعتمادحاصل کرنے کے لیے ہم نے یہ اصول بنایا کہ کبھی بھی گاہک کو غلط نہیں کہا۔ اگر گاہک سو فیصد غلط بات بھی کر رہا ہو تو ہم نے اس سے کبھی بھی بحثا بحثی نہیں کی۔ اسی طرح میں نے ایک عالم دین سے سنا کہ جب گاہک کو آتا دیکھیں تو الحمد للہ کہیں، کیونکہ گاہک کا آنا بھی اللہ کی نعمت ہے۔ اسی طرح جب کبھی گاہک کو چیز پسند نہ آئے اور وہ بلا خریداری واپس جارہا ہو تو استغفر اللہ پڑھیں کیونکہ گاہک جیسی نعمت آپ سے روٹھ گئی ہے۔ اس اصول کو ہم نے اپنایا تو زندگی بھر فائدہ ہوا۔

اسی طرح میں نے جب یہ حدیث سنی کہ ’’جو شخص صبح پہلے نماز کی طرف گیا اس کے ہاتھ میں رحمن کا جھنڈا ہوتا ہے اور جو شخص پہلے تجارت کی طرف گیا اس کے ہاتھ میں شیطان کا جھنڈا ہوتا ہے‘‘۔ اس حدیث کے سننے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ کبھی بھی صبح کی نماز پڑھے بغیر دوکان نہیں گیا۔ اگر کبھی فجر کی نماز باجماعت نہ بھی پڑھ سکا تو دکان پر جانے سے پہلے میں مسجد میں جاتا اور اس کے بعد دکان کھولتا۔ اس کی وجہ سے سار ادن برکت محسوس ہوتی۔ اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ ’’صبح کے اوقات میں برکت رکھی گئی ہے‘‘ اس لیے ہم نے بھی صبح دوکان جلد کھولنے اور رات جلد بند کرنے کا اصول بھی اپنایا۔ اس کی برکت سے ہماری تجارت میں دن بہ دن ترقی ہوتی گئی۔

جہاں تک ڈسٹری بیوٹر سے تعلق کا معاملہ ہے تو عمومی طور پر مارکیٹ میں ایسا ہوتا ہے کہ ڈسٹری بیوٹر کمپنی سے ہرچیز نقد پر خریدتا ہے۔ اس لیے ڈسٹری بیوٹر کی کوشش ہوتی ہے کہ سب سے پہلے اس دکان والے کو مال سپلائی کرے جو فوری طور پر پیسے بھی ادا کردے۔ اس لیے ہم نے اصول بنایا کہ فوری طور پر پیمنٹ کردی جائے گی۔ اس لیے ہمارے پاس کبھی کوئی چیز کم نہیں پڑی۔ ہر ڈسٹری بیوٹر ہمیں سب سے پہلے چیزیں بھیجتا ہے۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر آپ ڈسٹری بیوٹر کو فوری پیمنٹ کرتے ہیں تو وہ آپ کو نفع بھی کئی فیصد زیادہ دیتا ہے۔ ہمارے ہاں عمومی طور پر جو دکان دار فوری پیمنٹ کردے اس کو دوسرے دوکان داروں کی نسبت 8 فیصد زیادہ نفع دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ہر معاہدے کی تحریری یادداشت ضرور لکھی جاتی تھی۔ ہمارا معمول تھا کہ معاہدے کو تحریر میں ضرور لے کر آتے۔ ہم نے کبھی بھی چیز لی یا دی ہے تو اس کو تحریر ضرور کیا ہے۔

اس کاروبار کے دوران ایک اور اہم چیز یہ بھی دیکھی کہ اگر کوئی شخص کسی کو دھوکہ نہیں دیتا تو کوئی دوسرا بھی اسے دھوکہ نہیں دیتا۔ ہماری دس سالہ تجارتی زندگی میں ایک بار بھی کسی نے ہمیں دھوکہ نہیں دیا، اس لیے کہ ہم نے کسی کو دھوکہ نہیںدیا۔ کبھی بھی ہمارا مال دو نمبر نہیں نکلا۔ ہم نے بھی یہ احتیاط کی کہ ہمیشہ دیکھ بھال کر مال خریدا۔ مال کی حفاظت اور چوری سے بچائو کے لیے ہمیشہ آیت الکرسی کا معمول رہا۔ اس کی برکت سے کبھی چوری بھی نہیں ہوئی۔