٭۔۔۔۔۔۔صرف 30 دن میں اس کی ویب سائٹ ایمزون اس قابل ہوگئی کہ وہ امریکا کی 50 ریاستوں اور دیگر 45 ملکوں میں کتابیں فروخت کرسکتی تھی

٭۔۔۔۔۔۔اس کے پاس دو آپشن تھے: یا تو بغیر کسی مالی مدد کے وہ اس معاملے میں کود پڑے یا پھر وہ اپنے معزز مرتبے اور محفوظ نوکری کو جاری رکھے۔ اس نے پہلی بات کو اختیار کیا

 

''جیفری پرسٹن بیزوس'' نے اپنے مہم جویانہ سفر کا آغاز 1995ء میں اس وقت کیا جب اس نے ''ایمزون ڈاٹ کام'' کی بطور آن لائن کتب خانے کی بنیاد ڈالی۔ کمپنی نے اپنے سفر کی شروعات ایک گیراج سے کی، جس نے اس تخلیقی ذہن اور مہم جو طبیعت کے باعث کامیابیوں کی انتہا کو چھولیا، 4 سال سے بھی کم مدت میں ٹائم میگزین نے ''بیزوس'' کو سال کی بہترین شخصیت قرار دے دیا۔ بیزوس کی پیدائش ''البقریق'' نیو میکسیکو میں ہوئی۔ اس کی والدہ کی عمر 20 سال سے بھی کم تھی۔ اس کی ازدواجی زندگی کا سفر ایک سال اوپر کچھ مدت سے زیادہ نہ چل سکا۔ جب بیزوس 4 سال کا تھا تو اس کی ماں نے دوسری شادی کرلی۔

اس کے اندر فطری طور پر تکنیکی صلاحیتیں بچپن ہی سے نمایاں تھیں اور وہ متعدد سائنسی دلچسپیاں رکھتا تھا۔ اس نے اپنے بچپن کا ابتدائی دور ٹیکساس کی کاؤنٹی لاسیل کے شہر ''کوٹلا'' میں اپنے نانا کے ساتھ گزارا، جہاں ان کی 25 ہزار ایکڑ پر مشتمل چراگاہیں تھیں۔ بیزوس نے اپنے آبائی گیراج کو ایک لیبارٹری میں تبدیل کردیا۔ اور وہاں اپنی دلچسپی کے متعدد سائنسی کام سر انجام دیے۔ پھر وہ میامی، فلوریڈا اپنے خاندان کے ساتھ منتقل ہوگیا۔ جہاں وہ کمپیوٹر کے عشق میں مبتلا ہوگیا۔ میامی ''پالمپٹو'' سینئر ہائی سکول سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس نے فزکس پڑھنے کے لیے پرنٹسن یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا، لیکن بعد میں اس نے اپنے ذہن کو تبدیل کرکے کمپیوٹر سائنس اور الیکٹریکل انجینئرنگ میں گریجویشن کرلی۔ اپنی تعلیم مکمل ہونے پر اس نے ''فائٹل'' نامی کمپنی کے

لیے کام کیا۔ جہاں اس نے بین الاقوامی تجارت کے لیے نیٹ ورکنگ سسٹم کو بہتر بنایا۔ بعد میں ''بینکرز ٹرسٹ'' اور ''ڈی ای شا اینڈ کو'' کے لیے معاشی تجزیہ کار کے طور پر کام کیا۔ یہ ایمزون کی بنیاد رکھنے سے پہلے 1994 کا قصہ ہے۔
''ایمزون'' خرید و فروخت کی ایک الیکٹرونک کمپنی قائم کرنے کا خیال اس کے ذہن میں اسی وقت آیا جب وہ نیو یارک سے ''سیٹل'' کی طرف سفر کررہا تھا۔ اس کے بعد اس نے تنہائی میں بیٹھ کر اس بات کا تجزیہ کیا کہ کس طرح انٹرنیٹ دنیا میں دکانوں کا نقشہ تبدیل کرنے جارہا تھا۔ اس نے کاروبار کی نئی تلاش کرنے کے لیے موجود مواقع کی پیش بینی کی اور دنیا بھر کے لاتعداد لوگوں تک پہنچنے کے لیے امکانات پر غور کرنا شروع کیا۔ اسی دوران اس نے لاس اینجلس میں منعقد ہونے والے امریکی کتب فروشوں کے ایک اجتماع کا دورہ کیا۔ جہاں اس کے ذہن میں کتابوں کے کاروبار کا خیال آیا۔ اس نے دیکھا کہ تھوک پر کتابیں بیچنے والوں کے پاس ان کے گودام میں موجود ذخیرے کی طویل برقی فہرستیں تو ہیں، لیکن ایسا کوئی پلیٹ فارم نہیں جہاں سے لوگ موجود کتابوں سے اپنی پسند کی کتاب خود تلاش کرکے آرڈر دیں اور اپنے پتے پر منگوالیں۔ اس کے لیے مہم جوئی ان دنوں پھر مشکل ہوگئی کیونکہ چند الیکٹرونک دکانوں کے پنپنے پر لوگوں کو اعتبار نہیں تھا۔ اسی بنا پر اسے یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ یا تو بغیر کسی مالی مدد کے وہ اس معاملے میں کود پڑے یا پھر وہ اپنے معزز مرتبے اور محفوظ نوکری کو جاری رکھے۔ اس نے پہلی بات کو اختیار کیا اور اپنی بیوی کے ساتھ کاروبار کا سارا منصوبہ لکھ کر اپنے گیراج سے کمپنی کا آغاز کردیا۔

1995ء میں اس نے اپنی ویب سائٹ کا اجرا کیا۔ اسے اپنے 300 ''بیٹا ٹیسٹرز'' کے ذریعے پوری دنیا میں پھیلادیا۔ صرف 30 دن کی مدت میں اس کی ویب سائٹ ایمزون اس قابل ہوگئی کہ وہ امریکا کی 50 ریاستوں اور دیگر 45 ملکوں میں کتابیں فروخت کرسکتی تھی۔ ویب سائٹ نے اس تناسب سے بڑھنا شروع کیا جس کا اس نے سوچا بھی نہ تھا۔ 1997ء میں کمپنی بالکل عوامی ہو گئی اور آمدنی کا عالم یہ تھا کہ ہر ہفتے بڑھتی ہی چلی جارہی تھی۔ 2 سال بعد ایمزون کمپنی کا شیئر پرچون میں اس کی مد مقابل

دونوں کمپنیوں سے بڑھ گیا۔ اس نے انٹرنیٹ کی بھاری طلب و رسد کے حوالے سے بڑے بڑے معاملات کو نمٹانا شروع کردیا۔
جیف بیزوس لوگوں کی آن لائن خریداری کے تجربے کو دور رس تبدیلیوں کے عمل سے گزارتا رہا۔ 2008ء میں اسے ''یو ایس نیوز اینڈ ورلڈ ایورٹ'' کی طرف سے امریکا کے بہترین لیڈروں میں شمار کیا گیا۔ عین اسی برس ''Carnegic Mellon یونیورسٹی'' نے اسے سائنس اور ٹیکنالوجی میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا۔2011میں ''اکانومسٹ'' کے اصرار پر اس نے Gregg Zehr کے ساتھ ''ایمزون کے لیے'' اینویشن ایوارڈ'' حاصل کیا۔ ''فوربز'' کے مطابق ستمبر 2011 ء میں جیف بیزوس کے اثاثے 23.2 بلین ڈالر تھے۔