٭۔۔۔۔۔۔ دیانت داری کو اپنا شعار بنائیے، دھوکا دے کر اپنے برسوں کے بنے اعتماد کو ضائع نہ کیجیے ٭۔۔۔۔۔۔٭
یہ 2011 ء کی بات ہے، میں نے فیصل آباد سے500بوری چنے آرڈر پر منگوائے ، ڈیلر نے جتنابل بنایا، میں نے بھجوا دیا۔ اگلے روز آرڈر کے مطابق چنے گوجرانوالہ کے معروف علاقے ''موڑ ایمن آباد'' پہنچ گئے۔ ساتھ ہی بل بھی مجھے مل گیا۔ میں تو پڑھنا

لکھنا جانتانہیں۔ میرے بیٹے نے بل دیکھتے ہی کہا:''ابا جی! لگتا ہے بل میں کمی بیشی ہو گئی ۔''
میں نے اسے بل غور سے دیکھنے کو کہا۔ اس نے ایک مرتبہ چیک کیا۔ مزید تسلی کے لیے دوبارہ حساب کیا۔ واقعی بل میں غلطی تھی۔ میں نے اگلی ٹرن تک کے لیے بل سنبھال کر رکھنے کا کہا۔ چند ہفتوں بعد میں خود فیصل آباد گیا۔ ساتھ میں سابقہ بل بھی لے گیا۔ میں نے ڈیلر سے کہا:''کیوں بھائی! ہمارا سابقہ حساب کتاب صاف ہے یا کچھ باقی؟''
اس نے کہا: ''بالکل صاف ہے۔ ''


٭۔۔۔۔۔۔ دیانت داری کو اپنا شعار بنائیے، دھوکا دے کر اپنے برسوں کے بنے اعتماد کو ضائع نہ کیجیے ٭۔۔۔۔۔۔٭

میں نے یاددہانی کے لیے پھر دہرایا: ''بھائی سابقہ بل میں کوئی خامی تو نہیں رہ گئی تھی؟ '' اس نے اپنا ریکارڈ دیکھ کر کہا: ''دیکھا میں نے کہا تھا ناں، ایسا ہو ہی نہیں سکتا، آپ کا بل بالکل کلیئر ہے۔
میں نے بل نکال کر اس کے سامنے رکھ دیا۔ وہ چونک گیا۔ یہ ڈیڑھ لاکھ کا فرق تھا۔میں نے رقم دیانت داری سے اس کو ادا کی تو اس کی آنکھیں تشکر بھرے انداز میں جھک گئیں۔ میں نے اگلا آرڈر لکھوایا اور چلتا بنا۔ یہ چاچا چراغ ہیں۔ ان کی عمر 60 کی دہائی میں ہے۔ اپنی جوانی کے دور میں یہ گوجرانوالہ کے ایک دور افتادہ گاؤں ''سَنبھلا کوٹلی نواب'' کی بغل میں رہتے تھے۔ انتہائی مفلوک الحال تھے۔ بڑی تنگ دستی سے گزر بسر کر رہے تھے۔ ایک چھوٹے سے کچے مکان میں رہتے تھے۔ پلے داری ان کا پیشہ تھا۔ وہ خچر اور ریڑھا تیار کرکے صبح سویرے اپنے جوٹی داروں کے ساتھ شہر کی طرف نکل جاتے۔ ٹرکوں سے سامان اتارتے اور کبھی بھرتے۔ بدلے میں ٹکا دو ٹکا (چند آنے) مزدوری مل جاتی۔
وقت کا پہیہ گھومتا گیا۔ یہ تو گھومتا ہی رہتا ہے اور گھومتے گھومتے کسی کے آنگن میں بہاروں کے پھول بھرتا ہے اور کسی کے نصیب میں خزاں کے سوکھے پتے بھی چھوڑ جاتا ہے۔ چاچا چراغ بھی ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں، جن پر اﷲ بہت مہربان ہوتا ہے۔ یہ آج کل گوجرانوالہ کے معروف علاقے موڑ ایمن آباد کی کثیر اراضی کے مالک ہیں۔ تقریباً 30 دکانیں ان کی ملکیت میں ہیں۔ کچھ کرائے پر دے رکھی ہےں اور کچھ میں خود کاروبار کرتے ہیں۔ پلے داری کے بعد پہلے پہل صرف گھی اور چینی کی ایجنسی چلاتے تھے، کچھ عرصہ دالیں، صابن وغیرہ بھی سپلائی کرتے رہے۔ اپنی گاڑیوں پر گوجرانوالہ کے تقریباً15 علاقوں میں سپلائی بھی کرتے ہےں۔ آئیے! ان کے احوال انہی کی زبانی سنتے ہیں۔
سوال: آپ کو یہ ساری دولت وراثت میں ملی؟
جواب: نہیں بیٹا! میرے والد بھی ایک محنت کش، مزدور انسان تھے۔ میں جس زمانے میں پلے داری کا کام کرتا تھا، صبح صبح گھر سے نکل جاتا تھا۔ میرے کئی ایک کزن، تایا زاد، چچا زاد اور ماموں زاد میرے ساتھ ہوتے تھے۔ میں ان سب کا لیڈر تھا۔ ان کو بھی کام تلاش کر کے دیتا اور اپنے لیے بھی ڈھونڈتا ۔ کام پوری دیانت داری کے ساتھ کرتا۔ رات کو سب سے آخر میں گھر لوٹتا، کیونکہ سب کا کیا ہوا کام چیک کرتا، کہیں کوئی ڈنڈی تو نہیں مار گئے۔
رفتہ رفتہ پارٹیوں کو میرا کام پسند آنے لگا۔ وہ مجھ پر بھر پور اعتماد کرنے لگے۔ میں نے بھی پوری زندگی کسی کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچانے کی ٹھان لی۔ ادھر میں ٹھیکے لینے لگ گیا۔ ادھر پارٹیاں بڑی بڑی رقم میرے حوالے کرنے لگیں۔ الحمد ﷲ! کسی کو شکایت کا موقع نہیں ملا۔
اسی دوران ایک نیک دل تاجر نے مشورہ دیا کہ تم تھوڑی بہت چینی مجھ سے لے جایا کرو اور فروخت کر کے پیسے دے جایا کرو۔
میں نے کہا: ''میرے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے؟''
اس نے کہا: ''میں تمہیں ادھار دے رہا ہوں اور آئندہ بھی دیتا رہوں گا۔ ہر ہفتے جتنے پیسے ہوا کریں وہ دے کر ضرورت کے مطابق چینی لے جایا کرنا۔ میں نے منظور کر لیا۔''
جناب! یوں میرا کاروبار شروع ہوا۔ سچی بات ہے کہ یہ کام میں انہماک اور سچی لگن کا نتیجہ تھا جو اس شخص نے میری مدد کی۔ خیر، جس طرح اس نے طے کیا تھا میں اسی طرح کرتا رہا۔ ہفتہ وار اس کو پیسے دے کر مزید چینی لاتا رہا۔ خچر اور ریڑھا بیچ دیا۔ شہر میں پہلے ایک چھوٹی سی دکان کی جگہ لی۔ پھر جوں جوں کاروبار بڑھتا گیا، مزید دکانیں اور جگہ خریدتا گیا۔ یوں میں اپنی محنت اور لگن سے ترقی کی منازل طے کرتا گیا۔ سوال: آپ مال ادھار دیتے ہیں یا نقد ؟
جواب: ہم زیادہ تر ادھار پہ سودا دیتے ہیں۔ ادھار میں بھی دوکاندار کی سہولت پر ہے کہ وہ کتنے ہفتوں میں آسانی سے بل کلیئر کرے گا؟ پھر میرا بیٹا پورے شہر سے ادھار مال کے پیسوں کی ریکوری کرتا ہے۔
میں سوچتا ہوں کہ جس طرح میں نے کمزور حالات کے باوجود ایک مخلص شخص کی برکت سے کاروبار بڑھا لیا ۔ اسی طرح ہماری نرمی کی وجہ سے کسی اور کا کاروبار بھی چل جائے۔ وہ ساری زندگی ہمیں دعائیں دیتا رہے گا۔ سوال:کسی دوکاندار کے حالات خراب ہو جائیں، پیسے ڈوبنے کا واضح امکان ہو توآپ کیا کرتے ہیں؟
جواب: ایسا عموماً ہوتا نہیں۔ اگر کبھی ہو جائے تو ہم اس کو دو طرح کی سہولت دیتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس کی قسط کم سے کم کر دیتے ہیں۔ جتنی وہ آسانی سے دے سکے۔ دوسرا اس کو سودا دینا کم کر دیتے ہیں۔ اگر وہ تنگ دستی میں آخری سانسوں تک پہنچ جائے تو اس کو معاف کر دیتے ہیں اور اس کا نعم البدل اللہ تعالیٰ سے چاہتے ہیں۔ سوال:وہ کون سی چیزیں ہیں جن کو تھام کر ترقی کے خواہاں تاجر بآسانی اپنی منزل پا سکتے ہیں؟
جواب: بس3 باتیں اپنے پلے باندھ لیں۔ ان کو اپنے اَٹل اصولوں میں داخل کر لیں۔
1 اپنا کام سچی لگن، پورے انہماک اور بھر پور محنت سے کریں۔کسی سے حسد نہ کریں۔
2 اﷲ پر بھروسہ کریں، وہی رزق کے دروازے کھولنے والا ہے۔
3 دیانت داری کو اپنا شعار بنائیے، دھوکا دے کر اپنے برسوں کے بنے اعتماد کو ضائع نہ کیجیے۔