''Mj ڈی مارکو'' اپنی کتا ب Millionaire Fast Lane میں بیان کرتے ہیں: ''اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو پیسوں کے پیچھے بھاگنا چھوڑیے اور ایسی ''ضرورت'' کو تلاش کیجیے، جس کو ابھی تک پورا نہیں کیا جاسکا۔'' اس اصول سے Gopro کیمرے کے موجد نے کیونکر فائدہ اٹھایا؟ آئیے! کہانی پڑھ کر اندازہ لگاتے ہیں۔ 

 اس کے چہرے پر ہر دم خوشی کے فوارے پھوٹتے۔ اعتماد، حاضر جوابی اور ملنساری کی صفات نے ہر عام و خاص کو اس کا گرویدہ بنا رکھا تھا۔ ''نک'' کے اساتذہ کے مطابق وہ ایک محنتی اور کامیابیوں کا خوگر طالب علم تھا۔ بہن بھائیوں میں سے چوتھے نمبر کا بچہ، جس کی پرورش ''سیلکون ویلی'' میں ہوئی۔ یقیناً اُن افراد میں سے تھا جو کبھی کامیابی سے نا آشنا نہیں ہوتے۔ اُس کے والد ایک کامیاب سرمایہ کار تھے جو 1970 میں ''ٹیکو بل چین'' کی طرف سے پیپسی کی خریداری کے بروکر تھے، لیکن ''نک'' کی کامیابیوں میں اُس کے والد کی سرمایہ کاری کا کوئی ہاتھ نہیں۔ ہائی اِسکول سے فراغت کے بعد اُس نے ''سان ڈیگو'' کے ایک ادارے میں داخلہ لے کر بصری فنون (Visual Arts) کی تعلیم حاصل کی۔ سمندر سے قرب، وافر دھوپ، ایک اچھا اور شوقین پیراک ہونے کی وجہ سے یہ ادارہ اُس کے لیے انتہائی پرکشش تھا۔


''اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو پیسوں کے پیچھے بھاگنا چھوڑیے اور ایسی ''ضرورت'' کو تلاش کیجیے، جس کو ابھی تک پورا نہیں کیا جاسکا۔''

اِسکول کے بعد ''نِک'' نے اپنے پہلے کاروبار کے اجرا کے لیے دوڑ دھوپ شروع کی۔ اُس نے ''آن لائن کھیلوں کی خدمات'' service On line gaming فراہم کرنے سے کام کا آغاز کیا۔ کچھ عرصے بعد اپنے بزنس کی بڑھوتری کے لیے وہ اس قابل ہوگیا کہ لوگوں سے سرمایہ کاری کی مد میں تقریباً 4 ملین فنڈ اکٹھا کرسکتا تھا۔ لیکن ہوا یوں کہ ''ڈاٹ کام'' ناکام ہوگئی، یوں '' نک وڈ مین '' کا پہلا قدم یعنی ''ایک کامیاب کاروبار کا آغاز'' برے انجام سے دو چار ہو گیا۔ ناکامی کی یہ لہر کامیابی کی دستک ثابت ہوئی، لیکن یہ پہلا موقع تھا جب وہ اپنی زندگی میں پوری طرح ناکامی سے دو چار ہوا۔ اُس نے تہیہ کرلیا کہ نوکری تلاش کرکے آئندہ 30برسوں تک کام کرے، تاکہ ایک متوسط زندگی گزاری جاسکے، لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ ایک نئے کاروبار کے رِسک کا جرثومہ اُس کے خون میں پہلے سے موجود ہے۔ چنانچہ وہ اس جرثومے کے زیر اثر کامیابیوں کی طرف قدم بڑھاتا چلا گیا۔
آگے بڑھنے سے قبل یہ وضاحت ضروری ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق: ''حکمت مؤمن کی گمشدہ متاع ہے، جہاں سے ملے اسے ضرور حاصل کرے۔'' تجارتی کامیابیوں کی جولان گاہوں کو جب ہم ایک نظر دیکھتے ہیں تو حیرت انگیز طور پر کامیابی کے درست انداز میں متلاشی اور فطری اصول اپنا کر اہداف تک رسائی حاصل کرنے والے غیر مسلموں کی ایک طویل فہرست ہمیں نظر آتی ہے۔ اس تناظر میں ہمیں اپنے ان نوجوان بھائیوں کی حالت زار پربالکل رحم کھانے کو جی نہیں چاہتا جو علم، طاقت، ذہانت، ڈگری، جوانی اور مذہب کی مکمل رہنمائی کے باوجود کم ہمتی سے کام لے کر والدین، حکومت اور وسائل کی عدم دستیابی کو ہمہ وقت کوستے نظر آتے ہیں۔ نوجوان اپنے جیسے ایک اور نوجوان کی اس عبرت آموز کہانی سے سبق حاصل کریں۔
بہرحال ! ''نِک'' نے سوچا نوکری کے بعد تو فرصت نہیں ملے گی۔ کیوں نہ دوستوں کے ساتھ مل کر سیر سپاٹے کا پروگرام بنایا جائے۔ اِ س سفر کی سنہری یادوں کو محفوظ کرنے کے لیے Surfing کے دوران پانی سے کھیلتے ہوئے، وہ پیشہ ورانہ مہارت کی حامل صاف، واضح اور عکس کو قریب کرکے شاندار طریقے سے بہترین رزلٹ کی تصاویر اتارنا چاہتے تھے، لیکن ہزار کوششوں کے باوجود بھی اُن کی یہ اُمید پوری نہ ہو سکی۔ انہوں نے ہر طریقہ آزمایا، ساحل سے مختلف زاویوں میں تصاویر لینے کی کوشش کی، ربر بینڈ کے ساتھ پانی کے اندر سے تصاویر اتارنے والا ڈسپوزیبل کیمرہ بھی استعمال کیا گیا، لیکن کوئی طریقہ بھی مطلوبہ نتائج نہ لا سکا۔ آسٹریلیا کے اِس سفر میں اپنی ادھوری چاہتوں کے سبب ''نک'' اور اُس کے دوستوں کو شدید کوفت اٹھانا پڑی۔ اس کا واحد حل ''جسم کے ساتھ بندھا ہوا'' کوئی کیمرہ ہی ہو سکتا تھا، جسے متعدد انداز میں پہن کر بہترین رزلٹ کی حامل مشکل سے مشکل تصاویر بھی اتاری جاسکیں، سرفنگ کرتے ہوئے یہ خیال اُس کے ذہن میں 1990 کے آخر سے پک رہا تھا، لیکن موجودہ واقعے نے اُس کے دماغ کو پوری طرح اس خیال پر مرتکز کردیا۔
''ابتدائی نمونہ'' تیار کرنے کے لیے کوئی شک نہیں کہ ''وڈمین'' 18 گھنٹے تک دروازہ بند کرکے ڈیزائن تیار کرتا رہتا تھا۔ بالآخر وہ 35mm کا ایک ایسا چینی ساختہ کیمرہ تلاش کرنے میں کامیاب ہوگیا، جو واٹر پروف کیس میں سیٹ ہو سکتا تھا۔ مینو فیکچرر کو پیش کرنے کے لیے وہ مزید نمونے تیار کرنے لگا۔ ابتدائی چند کیمرے بنانے پر 5000 ڈالر خرچ ہو گئے۔ اب اُس کا ہدف ''ٹریڈ شو'' میں شرکت کرنا تھا۔ ستمبر 2004 میں اُس نے سان ڈریگو میں منعقد ہونے والے پہلے ''ٹریڈ شو'' میں شرکت کی۔ پروڈکٹ تیار کرنے میں اگرچہ پورے 2 سال صرف ہوچکے تھے۔ تاہم منصوبہ بندی کے حوالے سے وہ اپنے شیڈول سے اب بھی آگے تھا۔ اُس نے خود سے یہ عہد کررکھا تھا کہ منافع بخش کمپنی قائم کرنے میں وہ زیادہ سے زیادہ 4 سال کا وقت خرچ کرے گا، بصورت دیگر یہ کام چھوڑ کر اُسے کوئی نوکری تلاش کرنا ہوگی۔
''نک'' جان توڑ محنت کررہا تھا، تقدیر نے بھی اس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ اُس کے بنائے ہوئے کیمرے کامیاب ہوگئے۔ ٹریڈ شو میں شریک ایک جاپانی کمپنی نے اُس کے تمام کیمرے خرید لیے اور ساتھ ہی مزید کیمروں کے لیے ایک بڑا آرڈر بھی دے دیا۔ رفتہ رفتہ Goproکیمرے کھلاڑیوں میں بھی مقبول ہونا شروع ہوگئے جس کے باعث مزید آرڈر مِلنے لگے۔ ''نِک'' کے مطابق یہ کیمرے اپنے آغاز ہی سے منافع بخش تھے۔ تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے 2013ء کے دوران ''Gopro'' نے2.3 ملین کیمرے فروخت کیےاور مجموعی طور پر 521 ملین ڈالر رقم کمائی۔ 2013ء میں صرف جنوری کے مہینے کی سیل 100ملین ڈالر تھی۔ اِس وقت Gopro کیمرے اور ''وڈمین لیب'' کے بانی ''نِک ووڈ مین'' کے اثاثوں کا اندازہ 2.25 بلین ڈالر لگایا گیا ہے، جبکہ ''سونی پلے اسٹیشن'' اور ''ایپل آئی فون'' بنانے والی کمپنیFoxconn کی حالیہ 200 ملین کی سرمایہ کاری کے بعد کمپنی کی قدر و قیمت آسمانوں کو چھونے لگی ہے۔
آج ''گوپرو'' کمپنی دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی کمپنیوں میں سے ایک ہے، جس کی مصنوعات کیمروں کی دنیا میں بے تاج بادشاہ کی حیثیت حاصل کرچکی ہیں۔ مظاہر فطرت کے حوالے سے معروف ٹی وی چینل ''نیشنل جیو گرافک'' اور '' ڈسکوری'' چینل بھی اس کمپنی کے بنائے ہوئے کیمرے استعمال کررہے ہیں۔