٭۔۔۔۔۔۔ ایک پرانے ٹرک کے ساتھ کاروبار کا آغاز کرنے والے اس تاجر کا کاروبار آج 95 فرنچائز پارٹنر ز کے ساتھ شمالی امریکا کے 50 بڑے شہروں میں سے 47 شہروں میں پھیلا ہوا ہے
سٹرک پر بجری بچھاتے مزدور، بھٹہ خشت پر انگارے درست کرتے جفاکش اور کچرا کونڈیوں سے اپنے مطلب کا سامان اکٹھا کرتے

نادار کے پاس سے گزرتے ہوئے یہ خیال ضرور آتا ہے، آخر ان لوگوں کے ہاں ہاتھ پاؤں، دل و دماغ اور سوچ و تدبیر کسی چیز کی کمی نہیں، مگر کیا وجہ ہے کہ یہ سالہا سال سے اپنے آپ کو اس جہنم زار میں جھونکے رکھنے پر مطمئن ہیں؟ اس کا جواب ہمیں ''سکڈا مور'' کی حیرت انگیز کہانی پڑھ کر مل گیا۔ کو لمبیا کے محنت شعار اسٹوڈنٹ ''سکڈا مور'' نے کوڑا کرکٹ جیسی چیز کو بین الاقوامی شہرت کے حامل کاروبار میں بدل دیا، جسے عام طور پرایک وقت کی روٹی کے گزارے کے طور پراختیار کیا جاتا ہے۔ دراصل نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ، جمود، احساس کمتری، خوف ، اکتفائ، لاپروائی اور قوت فیصلہ کی حد درجہ کمی انسان کو لے بیٹھتی ہے۔ جس کے باعث وہ ہمیشہ مزدور، دائم کوڑا کرکٹ چننے والا اور مسلسل یکساں زندگی میں جکڑا ہی رہتا ہے۔ آئیے! پڑھتے ہیں ''سکڈا مور'' نے کیسے ''کوڑا کرکٹ'' سے بزنس کا بُرج تعمیر کیا؟


کچھ بڑی بات نہیں، اگر ہر مسلمان حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی تجارت والی سنت کو حتی الامکان اپنالے ، دھیرے دھیرے غربت کی اندھیرنگری سے نکل کر ایک وقت آئے گا کہ اﷲ اسے بہت سارے لوگوں کے رزق کا کفیل بناچکے ہوں گے۔ تب وہ لینے والا نہیں، بلکہ ڈھیروں کے حساب سے لٹانے والا بن جائے گا

وہ پیدائشی مہم جو تھا۔ مقابلہ بازی اُس کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ جب اس کے ہمسائے لڑکے نے سڑک پار 2 ڈالر فی کس گاڑی دھونے کا کام شروع کیا تو وہ اُسی کے ساتھ بالکل سید ھ میں کھڑا ہوا ڈیڑھ ڈالر لے کر گاڑی دھورہا تھا۔ پھرجب بورڈنگ اسکول کے لڑکے اُس سے ملنے جلنے لگے تو اُس نے اسکول میں ہی اپناذاتی اسٹور بنالیا، جہاں وہ گولیاں، ٹافیاں اور طلبہ کی ضرورت کی دیگر چھوٹی چیزیں فروخت کرنے لگا۔
کاروبار کا شوق، علمی پیاس پر غالب آےا تو وہ اسکول چھوڑنے کے لیے پر تولنے لگا۔ اس نے تعلیم ادھوری چھوڑدی اور ڈپلومہ نہ کرسکا۔ لیکن اس کے دل میں یہ خلش بھی تھی کہ کم از کم کاروبار کے لیے مزید پڑھنا چاہیے۔
ضروری تعلیم حاصل کرنے کے بعدایک مرتبہ میکڈونلڈ میں بیٹھے ہوئے اُس نے کھڑکی سے کوڑا کرکٹ کا ایک ٹرک دیکھا جوسیکنڈ ہینڈ چیزوں سے بھرا ہوا اُس کے پاس سے گزرا۔ اُس نے سوچا یہ میرا ٹرک ہے۔ مجھے ایک کاٹھ کباڑ اٹھانے والا ٹرک خریدنا چاہیے اور لوگوں سے معاوضہ لے کر کاٹھ کباڑ اٹھانا چاہیے۔
سکڈا مور نے اپنے ذہن میں آنے والے پر جوش خیال کی پیروی کی۔ اُس نے 700 ڈالر میں ایک پک اپ خرید کر اپنے کام کا آغاز کر دیا۔ جلد ہی اُس کا کاروبارچمک اٹھا اور اب اسے مزید وقت دینا پڑرہا تھا۔ اس نے کاروبار پر دھیان دینا شروع کردیا۔ پھر اس کے پاس 3 ٹرک ہوگئے۔ یوں اسے ایک کمپنی قائم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ 1998ء میں ایک دن جب وہ بوون آئی لینڈ برٹش کو لمبیا میں اپنے والدین کے گھر بیٹھا ہوا تھا۔اس نے مستقبل کی کمپنی کا ایک خاکہ بنا یا اور جلدی سے اسے 2 صفحات پر لکھ کر ایک واضح ہدف متعین کیا۔ 5 سالوں میں وہ ایک ایسی کمپنی بنانا چاہتا تھا جو کینڈا اور امریکا کے تیس بڑے شہروں میں کام کررہی ہو۔ اس نے تمام رکاوٹوں کو عبورکر کے سارے وسائل اور صلاحیتوں کو جھونک دینے کا فیصلہ کر لیا۔ نتیجتاً اپنے شیڈول سے 16دن پہلے ہی اس نے اپنے ہدف کو حاصل کر لیا۔ وہ ایک ایسی قابل فخر کمپنی قائم کرچکاتھا۔ جو مارکیٹ پر چھاگئی اور اس کی کایا پلٹ دی۔
ایک پرانے ٹرک اور 700 ڈالر کی انوسٹمنٹ کے ساتھ 1989 میں کاروبار کا آغاز کرنے والے اس تاجر کا کاروبار آج 95 فرنچائز پارٹنر ز کے ساتھ شمالی امریکا کے 50 بڑے شہروں میں سے 47 شہروں میں پھیلا ہوا ہے۔ اس وقت کمپنی کے پاس ایک ہزار ٹرک ہیں، جن سے حاصل ہونے والی آمدنی 107 ملین ڈالر سے بھی زائد ہے۔
اُس کی کمپنی کو اُس وقت مزید شہرت ملنے لگی، جب اُس نے قومی میڈیا کی توجہ حاصل کرنا شروع کی۔ اُسے ''اوپرا ونفری شو'' (The Oprah Winfrey Show) میں بلایا گیا۔ ''اوپرا شو'' کے لیے اس کا عملہ ایک بہت بڑے کباڑ خانے کو صاف کررہا تھا۔ جہاں فضول چیزوں کا ایک انبار جمع تھا۔ اس کباڑ خانے میں انہیں ایک ایسا ڈبا ملا جس میں ''ہیروں'' سے جڑا کان کے بُندوں کا ایک جوڑا موجود تھا۔ یہ یقینا ایک ایسی چیز تھی جسے کوئی جان بوجھ کر تو نہیں پھینک سکتا تھا۔ وہ کباڑ میںسے خزانہ تلاش کرچکے تھے۔
اسی طرح کے ایک واقعے میں وینکور ریسٹورنٹ میں جب اس کا عملہ ہال سے کوڑا کرکٹ، کباڑ اور ایسا فرنیچر اٹھا رہے تھے جو گزشتہ 10 سالوں سے بے کار پڑا ہوا تھا۔ وہاں پھپھوندی زدہ کپڑوں کے بیچ مشہور اور مچھلی کی خاص اقسام کے زنگ آلود ڈبوں کا انبار ایک ایسا خزانہ تھا، جس کی کسی کو یہ توقع نہیں تھی کہ اس کی حالیہ قیمت 5 ملین کے لگ بھگ ہے۔ (اسلام میں اس قسم کی گری پڑی چیز کا حکم مختلف ہے، براہ راست اُسے اپنی ملکیت میں نہیں لیا جا سکتا۔)
ایک ٹرک سے شروع ہونے والا کام اب بہت پھیل چکا ہے۔ یونیفارم پہنے ہوئے عملہ ہر وقت ٹرک کچرا اٹھانے کے لیے دستیاب ہے۔ شمالی امریکا اور آسڑیلیا میں 200 فرنچائز کے ساتھ ٹرک کی آمدنی100 ملین ڈالر ہے۔ اپنے پچھلے 20 برسوں کے تجربے کا حاصل بتاتے ہوئے اس کا کہنا ہے: ''اس حوالے سے آپ کا ایک واضح وژن ہونا چاہیے کہ آپ کیا کرنا اور کیا بننا چاہتے ہیں؟ نیز یہ جاننا بھی از حد ضروری ہے کہ آپ کے معیارات اقدار اور ترجیحات کیا ہوں گی؟''
کچھ بڑی بات نہیں، اگر ہر مسلمان حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی تجارت والی سنت کو حتی الامکان اپنالے ، دھیرے دھیرے غربت کی اندھیرنگری سے نکل کر ایک وقت آئے گا کہ اﷲ اسے بہت سارے لوگوں کے رزق کا کفیل بناچکے ہوں گے۔ تب وہ لینے والا نہیں، بلکہ ڈھیروں کے حساب سے لٹانے والا بن جائے گا۔