٭۔۔۔۔۔۔ انگوٹھی پہننے کے شوقین میں مردوں کی 70 فیصد تعداد عقیق والی چاندی کی انگوٹھیاں طلب کرتی ہے، عقیق کی تین اقسام زیادہ مشہور ہیں
٭۔۔۔۔۔۔ محبّ وطن حکومتیں قدرتی ذخائر اور جواہرات کی تیاری میں خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کریں تو پاکستان کو عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کی بھرپور استعداد حاصل ہے

سونے چاندی کے زیورات جہاں جسم انسانی کی زیبائش بڑھانے کی علامت سمجھے جاتے ہےں وہیں ان میں جڑے ہوئے قیمتی پتھروں کی تزئین زیب ِحسن کو دو آتشہ کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ جنوبی ایشیائی خطے کی خواتین میں یہ ایک قدیم روایت چلی آرہی ہے کہ سونے اور جواہرات کے ذریعے اپنی زیبائش کے علاوہ خود کو مالی طور پر مضبوط بھی بناتی ہیں۔
جدید دور میں نگینے، پتھر، فیشن اور رسم و رواج کے مطابق کتنے مقبول ہیں؟ اور بدلتے وقت کے ساتھ مرد و خواتین میںکن اقسام کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے؟ اس حوالے سے کئی ایک جوہریوں سے ملاقات، قیمتی پتھر کی دکانوں کے سروے، کتابی تحقیق اور انٹر نیٹ گردی کا خلاصہ قارئین کی نذر کرتے ہیں۔


٭۔۔۔۔۔۔ انگوٹھی پہننے کے شوقین میں مردوں کی 70 فیصد تعداد عقیق والی چاندی کی انگوٹھیاں طلب کرتی ہے، عقیق کی تین اقسام زیادہ مشہور ہیں ٭۔۔۔۔۔۔ محبّ وطن حکومتیں قدرتی ذخائر اور جواہرات کی تیاری میں خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کریں تو پاکستان کو عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کی بھرپور استعداد حاصل ہے

قدیم گندھا را تہذیب سے آغاز کے بعد، صدیوں سے ایک پختہ تخلیقی روایت پروان چڑھ رہی ہے، جس کے تحت حسین اور بے مثال جواہرات کی تیاری ہماری ثقافت کا حصہ بن چکی ہے۔ سکندر اعظم کے اقتدار، سلطنت مغلیہ اور دیگر شاہی ادوار نے بھی جوہر سازی کے فن پر مثبت اثرات چھوڑے اور یہ فن اب اس جدید دور میں بھی ارتقا کی منازل طے کررہا ہے۔ پاکستان میں پائے جانے والے بیش قیمت اورخوش رنگ پتھروں کے ذخائر کے باعث ہی ملک میں زیور سازی کے ثقافتی ورثے کو افزائش حاصل ہوئی۔ پاکستان میں موجود قیمتی پتھروں کے ذخائر میں لعل، یاقوت، زمرد، فیروزہ، ترملین، گرینائیٹ، زرد پکھراج، نیلگوںسبز جوہر، یاقوت احمر، پارگا سائیٹ، ڈائیو پسائیڈ، مون سٹون، یشپ، ایپی ڈوٹ، زبرجد، کبود، سفین، زوئی سائیٹ، لاجورد، کنزائیٹ، سنگ مرمر، صوان اور بہت سی دیگر اقسام کثرت سے پائی جاتی ہیں۔
پسند اپنی اپنی۔ ہمارے ہاں خواتین پتھروں میں زیادہ تر وائٹ، بلیک، پنک، روبی، سفائر، ایمرالڈ (زمرد) اورترملین وغیرہ کو ترجیح دیتی ہیں۔ جبکہ مغربی ممالک کی خواتین صدیوں سے نیلم کو پسند کرتی ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان میں جے پور اور بنکاک میں تراشے اور پالش کیے جانے والے ہیرے اور جواہرات بھی آتے ہیں۔ پتھروں کے حالیہ مقبول ترین ڈیزائن اور پتھروں سے مزین زیورات پہننے کے رجحان کے بارے میں جوہر شناسی اور جوہر سازی میں ماہر، مشہور اور معتبر اشخاص کا اصلی اور نقلی پتھروںکی شناخت کے حوالے سے ہمارے ایک ملاقاتی کا کہنا تھا کہ ہیرے اور یاقوت کی پہچان تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ دونوں ہی پتھر شیشے سے کہیں زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ چنانچہ اگر انہیںشیشے کی سطح پر رگڑا جائے تو ان پر کوئی خراش نہیں آتی اور شیشے پر دھاریاں سی پڑ جاتی ہیں۔ دیگر قیمتی پتھروں مثلاً پکھراج، زمرد، نیلم اور فیروزہ وغیرہ کے اصلی ہونے کی ایک عام پہچان یہ ہے کہ انہیں حدت پہنچائی جائے تو ان کا رنگ نسبتاً گہرا ہونا شروع ہوجاتا ہے اور کچھ دیر کے لیے ان کی چمک بڑھ جاتی ہے۔ جسے تجربہ کار نگاہیں بھانپ لیتی ہیں۔ لیکن اس وقت'' چین'' سلیکون اور کرسٹل کی آمیزش سے ایسے عمدہ مصنوعی جواہرات تیار کررہا ہے جن کا نقلی پن پکڑنا بہت دشوار ہے۔ وہ حدت پہنچانے پر رنگ اور چمک بھی تبدیل کرتے ہیں۔ البتہ لیبارٹری میں تیزابی ٹیسٹ کے دوران ان کا پول کھل جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں اگر شیشے پر گرایا جائے تو اس کی جھنک کی آواز اصلی شیشے کی جھنکار سے قدرے موٹی ہوتی ہے۔ آواز کا یہ فرق تجربہ کار جوہر شناس خوب پہچانتے ہیں۔
کم سرمایہ پر کام کرنے والے جوہریوں نے بتایا کہ ہم لین دین کرتے وقت من مانی قیمت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جواہرات کی پاکستان میں کوئی منڈی وغیرہ نہیں ہے اور نہ ہی اس کے نرخوں میں باقاعدہ سونے چاندی کی طرح کوئی اتار چڑھاؤ رہتا ہے۔ 12 ماہ چلنے والے اس کاروبارمیں ہم ادھار اور نقد دونوں طرح سے لین دین کرتے ہیں۔ اپنے بیوپاریوں یا خود اپنے تاجر بھائیوں کے ساتھ اپنے مال کا اُن کے مال سے مارچہ بھی کرتے ہیں۔کبھی ہم مال کی بروکروں کے ذریعے بھی خرید فروخت کرتے ہیں۔
نگینوں کی مقبولیت کے بارے میں جوہرساز حنیف کا کہنا تھا کہ مرد زیادہ تر انگوٹھی میں عقیق پہننا پسند کرتے ہیں اور انگوٹھی پہننے کے شوقین میں مردوں کی 70 فی صد تعداد ہم سے عقیق والی چاندی کی انگوٹھیاں ہی طلب کرتی ہے۔ عقیق کی تین اقسام زیادہ مشہور ہیں۔ ان میں پسند کے اعتبار سے عقیق یمنی سر فہرست ہے۔ پھر عقیق شجری اور عقیق سلیمانی کا نمبر آتا ہے۔ خواتین میں ہیرا اور یاقوت سب سے زیادہ ہر دل عزیز ہیں۔ 60 فی فیصد خواتین کی یہی اولین پسند ہے۔ اس کے علاوہ فیروزہ، نیلم،زمرد، پکھراج اور ترملین جڑے زیورات بھی مرد و خواتین میں زیادہ مقبول ہیں۔
70کی دہائی تک مغلیہ ڈیزائن کے زیورات ہی پسند کیے جاتے تھے۔ لیکن سونا مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے رواج میں کافی کمی آتی گئی۔ کیونکہ یہ ڈیزائن کافی بھاری ہوا کرتے تھے، چنانچہ سونا بھی زیادہ لگتا تھا۔ 1990 میں راجھستان سے زیورات میں چھوٹے چھوٹے جڑے نگینوں کا کام شروع ہوا جس کی وجہ سے زیورات میں سونے کی لاگت میں کمی آنے لگی۔
اسی لیے عالمی سطح پر زیوارت میں پتھروں کی سرمایہ کاری کو انتہائی مؤثر سمجھا جاتا ہے۔خوش قسمتی سے پتھروں کے ذخائر کی ایک بڑی تعداد پاکستان کے کچھ علاقوں میں بھی پائی جاتی ہے جن میں خیبر پختون خواہ، بلوچستان اور آزاد کشمیر کے دور دارز کے علاقے شامل ہیں، لہذا اس صنعتی شعبے کی ترقی سے ان پسماندہ علاقوں کی اقتصادی اور معاشرتی ترقی میںمدد بھی مل سکتی ہے۔ محبّ وطن حکومتیں اور ادارے، ان قدرتی ذخائر اور جواہرات کی تیاری میں خصوصی دلچسپی اور مہارت کا مظاہرہ کریں تو پاکستان کو عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کی بھرپور استعداد حاصل ہے۔ وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ پاکستان کے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستانی صنعت کے اس اہم شعبے کو ترقی دی جائے۔ عالمی منڈیوں میں زیورات کی بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث ہمارا ملک جواہرات اور زیورات کی برآمدات میں قیمتی زر مبادلہ کمانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔