میرے فون کی گھنٹی بجی۔ فرحان بول رہا تھا۔ ’’علی بھائی! اس جمعے کو عصر کے بعد میرے نئے دفتر کا افتتاح اور دعا ہے، آپ نے ضرور آنا ہے۔‘‘ مجھ سے آنے کا وعدہ لے کر اس نے فون بند کر دیا۔ میں نے جلدی سے موبائل میں ریمائنڈر سیٹ کیا اور فرحان کے دفتر کے لیے تحفے کا سوچنے لگا۔سوچتے سوچتے میرا ذہن سالوں پہلے ہماری ملاقات کی طرف چلا گیا۔

مسجد کے اندھیرے کونے میں صاف استری شدہ کپڑے پہنے ہاتھ میں تسبیح لیے فرحان بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے حلیے کو دیکھ کر صاف ظاہر ہو رہا تھا، وہ آج پھر کسی ادارے میں انٹریودے کر آیا ہے۔ تسبیح مکمل کرنے کے بعد اس نے لمبی دعا مانگی اور جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ راستے میں مجھ سے ملتے ہی حسب توقع دعا کرنے کو کہا۔ میں نے اس کو اپنے گھر چائے پر چلنے کی دعوت دی۔ میں کافی دن سے اس سے کچھ ضروری بات کرنا چاہ رہا تھا۔
’’فرحان! تم اللہ سے کیا دعا مانگتے ہو؟‘‘ میں نے چائے پکڑاتے ہوئے پوچھا۔ ’’یہی کہ اللہ تعالی مجھے بہترین نوکری دے دے۔‘‘ اس نے جواب دیا۔’’ نوکری ہی کیوں؟؟‘‘ میں نے اگلا سوال کیا۔ ’’ظاہر ہے اتنی مہنگی پڑھائی پڑھی ہے۔ اپنے شعبے میںاسپیشلائزیشن کیا ہے۔ صرف اس لیے کہ اعلیٰ نوکری ملے۔ میرے دونوں بڑے بھائیوں اور زیادہ تر دوستوں کو اچھی نوکریاں مل گئی ہیں۔ میں دعا کرتا ہو ں مجھے بھی اچھی سی جاب مل جائے۔‘‘اس نے کھل کر بتا دیا۔ ’’ہونہہ! پھر کیا ہو گا؟‘‘ میں نے پوچھا۔ اچھی تنخواہ کے ساتھ سہولیات و مراعات ملیں گی۔ اچھی جگہ شادی ہو گی۔ میرے بچے اعلیٰ اسکولوں میں تعلیم حاصل کریں گے۔ معاشرے میں میرا مقام ہو گا۔ میرے تمام خواب پورے ہو جائیں گے۔ میں پُر آسائش زندگی گزاروں گا۔ آپ کو تو پتا ہے آج کل رشتہ مانگنے جاؤ تو لڑکی والے پوچھتے ہیں لڑکا کیا کام کرتا ہے اور کتنا کماتا ہے۔‘‘
اس نے یہ ساری باتیں ایک ہی سانس میں کہہ ڈالیں۔ میں نے اس کی سوچوں کا رخ ایک نئی جانب موڑتے ہوئے کہا:’’بات تو آپ کی صحیح ہے، لیکن اگر تمہارے سارے خواب بھی پورے ہو جائیں اور تمہیں کسی کی نوکری بھی نہ کرنی پڑے… تو … یہ کیسا رہے گا؟!‘‘ میری بات سن کر وہ حیرانی سے مجھے دیکھنے لگا ۔ کہا: ’’یہ کیسے ممکن ہے، کیا کہیں لمبا ہاتھ مارنے کا ارادہ ہے۔ ‘‘میں نے اس کے اس خیال کی نفی کی اور اپنی بات کی تفصیل بیان کی: ’’مگر پہلے تم میرے چند سوالوں کا جواب دو۔ اگر تم اللہ تعالیٰ سے ایک روپیہ مانگو یا دس ارب روپے مانگو، اللہ کے خزانوں میں کوئی کمی آئے گی؟‘‘
’’ نہیں !بالکل نہیں آئے گی۔‘‘ اس نے جواب دیا تو میں نے دوسرا سوال کیا: ’’ اچھا !اگر تم اللہ سے ایک انچ زمین مانگو یاساری دنیا کے برابر زمین مانگو اور اللہ دے بھی دیں تو کیا اللہ کے خزانوں میں کوئی کمی آئے گی؟‘‘
’’بالکل نہیں آئے گی۔‘‘ فرحان نے کہا ۔ ’’اب آتے ہیں اصل مقصد کی طرف! اگر تم اللہ تعالیٰ سے نوکری کے بجائے نوکر مانگو تو کیا یہ اللہ کے لیے مشکل ہے؟‘‘
میری بات سن کر وہ ہکا بکا رہ گیا اور چند لمحے سوچنے کے بعد کہنے لگا : ’’نہیں !اللہ کے لیے کچھ مشکل نہیں وہ تو بے نیاز ہے۔ جسے چاہے بے حساب دیتا ہے۔‘‘
’’پھر تم اللہ سے چھوٹی چیز کیوں مانگتے ہو، بڑی چیز کیوں نہیں مانگتے؟‘‘


٭… اپنے جاننے والوں سے شروع کرو ، کام کا معاوضہ دوسروں سے کم رکھو۔ ابتدامیں نفع کمانے سے زیادہ گاہک بنانے پر توجہ دو ٭…کوئی بھی پیشہ یا شعبہ ہو، گاہک بنانا اتنا مشکل نہیں جتنا گاہک برقرار رکھنا، اصل میں گاہک پہلے اپنا اعتماد دیتا ہے، پھر پیسہ دیتا ہے ٭…کام جتنا بھی بڑھ جائے، اس کو اللہ کا فضل سمجھنا اور ایک لمحے کو بھی اللہ سے غافل نہ ہونا ، کسی کو بھی چھوٹا اور حقیر مت سمجھنا ٭٭

’’ علی بھائی! مسئلہ یہ ہے کہ اپنا کام شروع کرنے کے لیے سرمائے اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے اور میرے پاس دونوں نہیں ہیں۔ پھر میں کون سا کام شروع کروں؟ مجھے تو اس کی بھی سمجھ نہیں ہے۔‘‘ میں نے کہا : تمہارے سارے سوالوں کا جواب مل سکتا ہے، لیکن تمہیں پہلے عزم کرنا ہو گا کہ اپنا کام شروع کرنا ہے۔ اللہ کی مددبھی ان کے ساتھ ہوتی ہے جو پختہ ارادوں کے مالک ہوتے ہیں پھر کچھ بھی ہو جائے اس پر استقامت دکھاتے ہیں۔ کامیابی بھی ایسے ہی لوگوں کے قدم چومتی ہے۔ میری بات یاد رکھنا! تم ایسے ماحول میں رہتے ہوں جہاں سب لوگ نوکری کرتے ہیں اور ہو سکتا ہے تمہارا یہ ارادہ سن کر تمہاری حوصلہ شکنی کی جائے، لیکن تم نے اس سے متاثر ہوئے بغیر اپنے عزم پر ڈٹے رہنا ہے۔ شروع میں ہو سکتا ہے تمہیں وقتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے، لیکن تم نے ہمت نہیں ہارنی اور بھرپور استقامت کا مظاہرہ کرنا ہے۔ ان شاء اللہ! جلد ہی تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو گے۔ تم بڑی بڑی کمپنی مالکان کے بارے میں پڑھو کہ انہوں نے اپنی کامیابی کا سفر کہاں سے شروع کیا تھا۔ کاروبار چاہے ایک روپے سے شروع کیا جائے یا اربوں روپے سے، اس کو کامیاب تو اللہ نے ہی کرنا ہے۔ تم جو بھی کام کرو تو اللہ سے ہر وقت دعا کرو کہ ’’میں اپنے مال پر بھروسہ کرتا ہوں نہ اپنی صلاحیتوں پر، بس اے اللہ! تو مجھے اپنے فضل و کرم سے کامیاب فرما دے۔‘‘
اب دوسرا سوال کہ میں کیا کام کروں؟ تو کام دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک سروسز یعنی خدمات کی فراہمی اور دوسرے، مصنوعات یعنی کوئی پروڈکٹ بازار میں لانا۔ تمہیں سردست خدمات والا کام کرنا ہے اور اس کام کا انتخاب کریں جو اپنے ہاتھ کا ہو۔ مطلب یہ کہ تمہیں اس کی سمجھ بوجھ جلداور آسانی سے حاصل ہو جائے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ تمہیں کسی لمبے چوڑے سرمائے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ تم انٹرنیٹ کی مدد لو۔ اتنے کورسز موجود ہیں، کسی چیز میں اسپیشلائزیشن کر لو۔ کوئی نئی ٹیکنالوجی لاؤ۔ لوگوں کو اس کی ٹریننگ کراؤ۔ کوئی کنسلٹنسی کمپنی کھول لو۔ کمپنیوں کو سوشل میڈیا اوربزنس کمیونیکیشن کے کورسز کراؤ۔ وغیرہ وغیرہ۔‘‘ ’’بات تو سمجھ میں آ رہی ہے، لیکن نئے آدمی کو مارکیٹ میں اتنی آسانی سے کون داخل ہونے دیتا ہے جب کہ اتنی مسابقت ہے؟‘‘ فرحان نے کافی اہم سوال کیا۔
’’ تم اپنے جاننے والوں سے شروع کرو اور اپنے کام کا معاوضہ دوسروں سے کم رکھو۔ شروع میں نفع کمانے سے زیادہ اپنے گاہک بنانے پر توجہ دو۔ جب اللہ کے حکم سے آہستہ آہستہ گاہک بننے شروع ہو جائیں تو پھر مناسب نفع کمانے کے بارے میں سوچنا ۔ یاد رکھنا! کوئی بھی پیشہ یا شعبہ ہو، گاہک بنانا اتنا مشکل نہیں جتنا گاہک برقرار رکھنا۔ اصل میں گاہک پہلے اپنا اعتماد دیتا ہے، پھر پیسہ دیتا ہے۔ بھلے گاہک آرڈر دے یا نہ دے، اس کا اعتماد نہ کھونا۔ جتنے گھنٹے، دن، ہفتوں یا مہینوں میں کام کرنے کا وعدہ کرو، اتنے ہی دن میں وہ کام مکمل کردو۔ اگر درمیان میں کوئی مسئلہ پیش آ جائے تو گاہک کو پہلے ہی مطلع کردو، نہ یہ کہ عین وقت پر اسے پریشان کیا جائے۔ جو کام آپ نہیں کر سکتے، وہ کام ہرگز اپنے ذمے نہ لو۔ یقین کرو !میرا ایسے کتنے لوگوں سے واسطہ پڑا ہے جو کام خود کر سکتے اور نہ ہی اتنے وقت میں کسی سے کروا سکتے ہیں، لیکن ’’اللہ مالک ہے!‘‘ کہہ کر کام لے لیتے ہیں اور وعدے والے دن حیلے بہانے کرتے ہیں۔ حالانکہ ہونا یہ چاہیے کہ انسان اپنی طرف سے پوری محنت کرے اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے کہے کہ’’ اللہ مالک ہے!‘‘ تب تو یہ صحیح طریقہ ہے۔ اگر 5 دن کا کام ہے تو تم احتیاطاً 7 یا 8 دن کا وعدہ کرو، اگر کام پہلے ہو گیا تو خوب، ورنہ 8 دن میں تو ہی ہو جائے گا۔ اگر کام 8 دن کا ہے اور گاہک کہتا ہے مجھے 4 دن میں چاہیے تو پہلے ہی بتا دو کہ 4 دن میں نہیں ہو سکتا ۔ بہت سے لوگ غلط بیانی کی وجہ سے گاہک کا اعتماد کھو دیتے ہیں۔ اچھے خاصے چلتے ہوئے کاروبار بھی گاہک کا اعتماد کھونے کی وجہ سے زوال پذیر ہو جاتے ہیں۔ایک سروے رپورٹ کے مطابق: 40فیصد گاہک اپنے ساتھ ہونے والے غیر معیاری یا برے سلوک کی وجہ سے ساتھ چھوڑ جاتے ہیں ۔ یہی نہیں، بلکہ دوسرے گاہکوں کو بھی اس آدمی سے کام نہ کروانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
ایک بہت اہم چیز جو کام بڑھانے میں معاون ہوتی ہے وہ ہے گاہک سے مسلسل اور مضبوط رابطہ۔ ان سے پوچھو کہ آپ ہماری خدمات (Services)اتنے عرصے سے استعمال کر رہے ہیں۔ آپ کے خیال میں ہم آپ کو مزید کیا خدمات دے سکتے ہیں ؟ اپنی خدمات یا مصنوعات میں کیا بہتری لا سکتے ہیں؟ اچھا سیلز مین، گاہک کی ضروریات کا پہلے سے اندازہ کر لیتا ہے اور اس کے اظہار سے پہلے ہی اس کا حل پیش کرتا ہے۔ تم جدید تحقیقات کے ذریعے سے نت نئے کاروباری خیالات اور طریقے اپنے گاہکوں کو پیش کرو۔ پھر دیکھو! وہ کیسے تمہارے ساتھ تمہاری توقع سے بڑھ کر پیش آتے ہیں۔ اپنے گاہک سے کہو وہ آپ کو چند مزید لوگ فراہم کر ے، اس سے کام بڑھے گا۔ ہم سارا سال گاہک سے نفع کما تے اور اپنا کاروبار مضبوط کر تے ہیں، ہمیں بھی چاہیے وقتاً فوقتاً مختلف تہواروں پر تہنیتی پیغامات اور تحفے بھیجیں۔ ان پر آپ کی کمپنی کا نام لکھا ہو۔ وہ اتنا معیاری بھی ہو جس کو وہ استعمال کرسکے۔ اب وہ جب بھی آپ کے تحفے کو دیکھے گا، آپ کو یاد کرے گا۔ اگر آپ کا تحفہ اس کے دفتر میں رکھا ہو گا تو بغیر کسی اضافی خرچے کے اپنے مہمانوں کے سامنے تمہاری کمپنی کی تشہیر بھی کرے گا۔
اپنی مصنوعات یا خدمات کے معیار کے بارے میں گاہک سے پوچھو ۔ اگر وہ کوئی تجویز یا شکایت کرے تو اس کو توجہ سے سنو اور نوٹ کرو ۔ نیزاس کو یقین دلاؤ کہ آپ کی رائے ہمارے لیے اہم ہے اور ہم ضرور بہتری لائیں گے۔ تم اکیلے کام شروع کر رہے ہو اور ہو سکتا ہے ایک دو سال تک اکیلے ہی کام کرو، لیکن جب بھی گاہک کو کمپنی کا تعارف کرواؤ تو یہ مت کہنا کہ میں یہ کام کرتا ہوں یا میں یہ خدمات فراہم کرتا ہوں، بلکہ یہ کہنا کہ ہماری کمپنی یہ خدمات دیتی ہے ۔ اس سے اچھا تاثر پڑتا ہے۔’’ میں‘‘ کا لفظ دینی اور دنیاوی دونوں لحاظ سے اچھا نہیں ہے۔
’’ کیا میں کسی دوست یا کزن وغیرہ کو اپنے ساتھ پارٹنر یا شراکت دار بنا کر کام شروع کروں؟‘‘بڑی دیر بعد فرحان نے سوال کیا تو مجھے خوشی ہوئی کہ کم از کم اس نے کچھ سوچا تو ہے اس بارے میں۔
میں نے جواب دیا : اس میں مختلف لوگوں کی رائے مختلف ہوتی ہے۔ میرے خیال میں کاروبار میں شراکت دار بنانے کی ضرورت تب پیش آتی ہے جب یا تو سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے یا کسی کی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے، مثلاً: ایک شراکت دار کہتا ہے میں پیسہ لگاتا ہوں اور دوسرا کہتا ہے میں محنت کرتا ہوں، وغیرہ وغیرہ۔ ویسے بھی عام طور سے شراکتوں والے کام میں مسئلے آتے رہتے ہیں اور زیادہ تر شراکتوں کا انجام بھی خیر پر نہیں ہوتا،لہذا میری رائے میں تم اللہ کو اپنا پارٹنر بنا کر کبھی نقصان میں نہیں رہو گے۔ ’’اللہ تعالی کو پارٹنر بنالوں؟؟‘‘ فرحان نے حیران ہو کر پوچھا۔
ہاں !تم یہ طے کر لو مجھے جتنا بھی نفع ہو گا، اس میں سے اتنے فیصد حصہ اللہ کے نام پر خرچ کیا جائے گا۔ تم اللہ کا حصہ باقاعدگی اور ایمانداری سے ادا کر تے رہو۔ پھر دیکھو! رحمتیں اور برکتیں کیسے تمہارے دروازے پر دستک دیتی ہیں۔ جو بھی مال اللہ کے راستے میں خرچ کیا جائے گا، وہ سات سو گنا تک بڑھا کو واپس کیا جاتا ہے۔
کام چاہے جتنا بھی بڑھ جائے، اس کو اللہ کا فضل سمجھنا اور ایک لمحے کو بھی اللہ سے غافل نہ ہونا ۔ کسی کو بھی چھوٹا اور حقیر مت سمجھنا۔ مال، عہدہ، منصب، شہرت سب آنے جانے والی چیزیں ہیں ۔ کبھی ایک کے پاس تو کبھی دوسرے کے ہاں۔
’’ علی بھائی !الحمد للہ! آپ نے میری سوچ بدل دی ہے، میں آج ہی سے اپنا ذاتی کاروبار کرنے کا ارادہ کرتا ہوں ۔ اس سلسلے میں اللہ کی ذات کے علاوہ کسی اور پر بھروسہ نہیں کروں گا۔ ان شاء اللہ! مجھے امید ہے کامیابی ضرور میرے قدم چومے گی۔اچھا مجھے اب اجازت دیں آپ کی چائے اور قیمتی مشوروں کا شکریہ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ دروازے کی طرف بڑھا اور ایک دم میری طرف مڑ کر کہنے لگا :
’’ یہ بتانا تو میں بھول ہی گیا کہ میں آج سے اللہ سے ’’نوکری‘‘ نہیں، ’’نوکر‘‘ مانگوں گا۔‘‘یہ کہتے ہوئے وہ مسکرا دیاتھا۔ پھر مجھ سے گلے ملا اور روانہ ہو گیاتھا۔آج فون کے ذریعے جب معلوم ہوا کہ وہ اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کر چکا ہے اور واقعتا اللہ کو پارٹنر بنا کرکامیاب تاجر بن گیا ہے تو مجھے یہ کہانی یاد آگئی۔