’’ہوائی جہاز اوپر کو اٹھا۔ چند لمحوں میں فضاؤں کے سینے میں اتر گیا۔ میرے خیالات مجھ سے بھی بلند اڑان پر محو پرواز تھے۔ ’’شی !!‘‘کی آواز نے مجھے متوجہ کیا۔ میرے متوازی سیٹ والے بابا مجھ سے کچھ کہنا چاہتے تھے۔بڑے میاں شاید اس سرد ماحول سے بیزار ہو چکے تھے۔ میں نے ان کے چہرے کو دیکھا، جہاں مجھے طویل تجربے، زیرک کی انتہا اور فہم کا ایک آبشار بہتا دکھائی دیا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میںCatalog Business شروع کرنے ہی والا تھا۔ لیکن نیا کاروبار شروع کرتے وقت جو خیالات آتے ہیں، مجھے بھی انہی سوچوں نے آگھیراتھا۔

بابا کے متوجہ کرنے پر میں خیالات کی وادی سے باہر نکلا۔ اس شخص کو دیکھ کر میری چھٹی حس نے کہا کہ یہ شخص آپ کی کچھ مدد کر سکتا ہے۔
یہی سوچ کر کہ شاید میری پریشانی ختم ہو جائے، میں نے اس سے باتیں شروع کر دیں۔ اس کی باتیں بہت قیمتی تھی۔ میں غور سے سنتا رہا۔ پھر میں نے اپنی پریشانی بتلائی تو اس نے کہا: اپنا کان میرے نزدیک کرو۔ پھر انہوں نے ایک عجیب بات کی جس کو آج تک میں نے پلے باندھ رکھا ہے۔ وہ کہنے لگا: ’’سوچیے نہیں ، کر گزریے!‘‘ ان کی اتنی سی بات سے میرا غم کافور ہو گیا۔ ان الفاظ نے میرے اندر ایک نئی روح پھونک دی۔ اسی واقعے کے بعد میں نے 15 ہزار ڈالر اپنی کمپنی میں لگا دیے۔ یہ کمپنی بڑھتے بڑھتے ایک منافع بخش B2B اور B2C برانڈ بن گئی۔
سفر کے کچھ عرصے بعد میں ایک دن والدین کے گھر بیٹھا ہوا تھا۔ ایک میگزین پر نظر پڑی۔ اسے اٹھا کر دیکھا تو اس کے سر ورق پر اس کی تصویر تھی۔ یہ تصویر دیکھتے ہی میری آنکھوں کے سامنے ان کی شخصیت گھوم گئی۔ یہ شخص ’’ماریوگے بیلی‘‘ تھا۔ جو اپنے وقت کا بڑا تاجر اور تجزیہ نگار تھا۔‘‘
یہ کہانی جیف کران(Jeff Curran) کی ہے، جو Curran Catalogکمپنی کے بانی اور اس کے CEOہیں۔ یہ کمپنی واشنگٹن کے شہرSeattle میں واقع ہے۔ اس کمپنی کا بنیادی کام (Home Furnishging)’’گھریلو آراستہ کاری‘‘ ہے۔ اس کی شہرت اسی حوالے سے ہے۔ اس کاروبار کو شروع کیے ہوئے 20 سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ یہ کاروبار ترقی کرتے ہوئے امریکا سے ہوتا ہوا یورپ تک پہنچ چکا ہے۔ اس کمپنی نے 2 ایوارڈ اپنے نام کیے ہیں۔2008ء میں سلور میڈل ’’ڈیزائن ایکسی لینس ایوارڈ‘‘ ملا۔ اور 2010ء میں’’Good Design ‘‘ ایوارڈ ملا۔
ہر کامیاب کمپنی کے پیچھے کچھ راز ہیں، جن کی وجہ سے یہ دنیا پر چھاجاتی ہیں ۔ یہ بات تو کی جاتی ہے کہ فلاں کمپنی کا پوری دنیا میں نام لیا جاتاہے ، اس کی پروڈکٹ کو لوگ پسند کرتے ہیں ،اپنے ملک کی مصنوعات کو چھوڑ کر دوسروں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ لیکن اس طرف کسی کی توجہ نہیں جاتی کہ ان کمپنیوں نے اپنے طے کردہ اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ہوتا۔ اس سے کمپنی کا معیار اور نام بنتا ہے جو اسے عوام میں مقبولیت عطا کرتا ہے۔ یہ کمپنیاں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتی ہیں، اگرچہ اسے ظاہر نہیں کرتیں۔ اس کمپنی نے اپنے اندر کچھ خصوصیات پیدا کی ہیں جن کی وجہ سے اسے کامیابی اورشہرت ملی۔ اس کمپنی کی سب سے بڑی خوبی اور خصوصیت خریدی ہوئی چیز گاہکوں سے واپس لے لینا ہے۔دوسری خصوصیت یہ ہے کہ جو چیز یہ بیچتے ہیں اس کی پوری ذمہ داری لیتے ہیں۔ تیسری خصوصیت اپنی چیز کے معیار، ڈیزائن، سروس اور اقدار پر پوری توجہ دیتے ہیں۔چوتھی خصوصیت کم قیمت پر اشیا فراہم کرنا ہے۔ پانچویں خصوصیت ایسی پروڈکٹ تیار کرتے ہیں جو ہر ایک کے لیے آسان تراور آرام دہ ہو۔
ہمیں بھی کوئی نیا کاروبار شروع کرنے سے پہلے سوچنا بھی چاہیے اور مشورہ بھی کریں، لیکن سوچتے ہی نہ رہیں بلکہ کچھ کر گزریں، اس سے ہم آگے بڑھیں گے ورنہ سوچنے میں عمر بیت جائے گی۔ جب کام شروع کریں گے، وقت ہمارے ہاتھوں سے نکل چکا ہو گا۔ اپنے کام میں کچھ ایسی خصوصیات پیدا کریں جو دوسروں سے نمایاں ہوں اور شریعت کی رو سے مثالی بھی ہوں۔