وہ اسکول سے واپس لوٹتا تو اپنے باپ کا ہاتھ بٹاتا۔ اس کاوالد بڑھئی کا کام کرتا تھا۔ جب سے اس نے آنکھ کھولی، اپنے گھر میں ہر طرف لکڑیاں ہی لکڑیاں بکھری دیکھیں۔ اس کا باپ ان لکڑیوں کو کام میں لاکر ان سے مختلف چیزیں تیار کرتا۔ لیکن ان سے اتنی آمدنی نہ ہو پا رہی تھی کہ جس سے گھر کا چولہا جلتا رہے۔ گھر کے حالات دیکھ کر اس کا دل کڑھتارہتا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ اس نے بھی بڑھئی کا کام سیکھنا شروع کر دیا۔ تاکہ آمدنی میں اضافہ ہو اور خوش حال زندگی گزار سکیں۔ محنت اور لگن سے کام کرتا اور مختلف اشیاء بناتا، ایک دل پسند مشغلہ اس کے ہاتھ آ گیا۔ باپ بھی اپنے بیٹے سے بہت خوش تھا۔

کام میںمستعدی اور ہوشیاری کے ساتھ کاریگری اور نئی نئی چیزیں بنانے کا جذبہ اس کے دل میں موجزن تھا۔اس کا باپ بیٹے کے کاموں سے حیرت زدہ ہوئے بغیر نہ رہتا۔ اتنے میں تعلیم بھی مکمل ہو گئی۔ اب اس نے ایک نیا منصوبہ تیار کیا۔ یہی پروجیکٹ آگے چل کر ’’Toyota‘‘کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کمپنی میں اس وقت دنیا بھر سے 3لاکھ 25ہزار 905 ملازمین کام کر رہے ہیں۔ دنیا کی تیسری بڑی آٹو موبائل مینو فیکچرر ہے۔ یہ کمپنی آمدنی کے اعتبار سے گیارہویں نمبر پر ہے۔ جولائی 2012ء میں 20 کروڑ گاڑیاں تیار کیں۔
ایک نوجوان جس نے آبائی پیشے کو خیر باد کہہ کر اپنے کاروبار کا آغاز کیا اور آج ایک دنیا اس کی مصنوعات پہ زندگی کی گاڑی رواں دواں رکھے ہوئے ہے۔اس کا نام سکیچی ٹویوڈا (Sakichi Toyoda) تھا۔ ٹویوڈا (Toyoda) ان کا خاندانی نام تھا، تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ بعد میں کمپنی کا نام ٹویوٹا TOYOTA) (رکھا گیا۔ سکیچی کو ’’جاپان کے موجدوں کا بادشاہ‘‘ کہتے ہیں۔ آج بھی جاپانی لوگوں کے دل میں ان کی شخصیت کی عظمت پائی جاتی ہے اور ان کا نام عقیدت سے لیتے ہیں۔
سکیچی ٹویوڈا نے 1926ء میں ’’ٹویوڈا آٹومیٹک لوم ورکس لمیٹڈ‘‘ کی بنیاد رکھی۔ اس کا کام نام سے ظاہر ہے۔ اس میں کپڑا بنایا جاتا تھا۔ اس کمپنی کے لیے سیکچی ٹویوڈا نے بہت محنت کی، دن رات ایک کیا۔ اس کام کو آگے بڑھایا۔ اس کے لیے جدید ترین مشینری لائے جو روایتی مشینوں سے ہٹ کر کام کرتی تھیں۔ یہ آٹو میٹک مشینری تھی، جو زیادہ کپڑا بنانے لگی۔اس سے ان کا کاروبار پھیلتا گیا۔


بڑھئی کے بیٹے نے جب لوہے کی تراش خراش کا فن اپنایا تو امریکی کمپنیوں کو مات دے گیا ٭… ٹویوٹا کمپنیز اپنے اعلیٰ افسر سے لے کر چوکیدار تک ہر ایک کو اپنا قیمتی سرمایہ سمجھتے ہیں ٭… ٹویوٹا کے بانی سکیچی کو ’’جاپان کے موجدوں کا بادشاہ‘‘ کہتے ہیں٭

1933ء میں یہ کام ایک نئے ’’آٹو موبائل ڈپارٹمنٹ‘‘ کی بنیاد بنا۔ سکیچی جس طرح خود محنتی اور مستقل مزاج تھا، اسی طرح اپنے بیٹوں کو اپنے کاروبار میں شریک کیا۔ اس نئے ڈپارٹمنٹ کی قیادت اپنے بڑے بیٹے کی چیرو ٹویوڈا (Kiichiro Toyoda) کو سونپی، جسے اس نے احسن طریقے سے نبھایا۔ اس ڈپارٹمنٹ نے ایک گاڑی کا ماڈل تیار کیا، اس میں صرف ایک آدمی سوار ہو سکتا تھا۔ پھر دو آدمیوں کے لیے گاڑی تیار کی، اس طرح آگے بڑھتے گئے۔ 1937ء میں ’’ٹویوٹا موٹر کمپنی‘‘ کے نام سے یہ ڈپارٹمنٹ متعارف ہوا۔ پھر یہ ’’ٹویوٹا موٹر کارپوریٹ‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔
Kiichiro Toyoda نے اس کمپنی کو بہتر اور نمایاں بنانے کے لیے مختلف یورپین ممالک اور امریکا کا سفر کیا۔ وہاں کی آٹو موبائل کار میکرکمپنیوں کے کام کو دیکھا۔ باریک بینی سے ان کا مشاہدہ کیا۔ جو خصوصیات اچھی اور بہتر محسوس ہوئیں۔ اپنی کمپنی میں ان خصوصیات کو اجاگر کیا، ان کو اہمیت دی۔ یہ تجربہ ان کے لیے کارگر ثابت ہوا۔ آج ان کی کمپنی نے دنیا کی دو بڑی آٹو موبائل کار میکر کمپنیوں کو مات دے دی ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپان کی معیشت کو بہت بڑا دھچکا لگا۔ ایک مخلص اور وفادار ملازم جو اس کمپنی میں انجینئر تھا، جس کا نام ٹائچی اوہنو (Taiichi Ohno) تھا، اس نے کمپنی کو ازسر نو زمین سے اٹھاکرترقی کی بلندی تک پہنچایا۔ اس کمپنی نے کچھ کامیاب گُر استعمال کیے جن کو ذکر کرنا ضروری ہے۔
ان کا اولین کامیاب گُر یہ ہے کہ یہ اپنے ملازمین سے ہر سال مشورہ اور رائے لیتے ہیں۔ اس میں افسر ان بالا سے لے کر عام ملازمین بھی شامل ہیں جن کی تجاویز کو اہمیت دی جاتی ہے۔ ان تجاویز کو ہر سال کمپنی میںقابل نفوذ بھی بناتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کی کمپنی روز بروز ترقی کے سفرپر گامزن ہے۔
دوسرا کامیاب گُر، یہ راتوں رات ترقی کے قائل نہیں، ترقی آہستہ آہستہ ہو لیکن دیرپا اور درست ہو اس کے لیے یہ طویل المدتی منصوبہ بندی کرتے ہیں، جو قابل عمل بھی ہو۔ یہ گُر انہیں دوسری بڑی آٹوموبائل کار میکر کمپنیوں سے سبقت لے جانے میں معاون ثابت ہوا۔
تیسرا کامیاب گُر، کام کو تیزی سے کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ احتیاط کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھتے ہیں۔
چوتھا کامیاب گُر، ان کا کھلے ذہن کا مالک ہونا ہے۔ ان کو جہاں سے کچھ سیکھنے کے لیے ملا، انہوں نے اسے سیکھا۔ انہوں نے ہر طرح کے لوگوں اور ممالک سے سیکھا۔ جہاں سے اچھی اور نمایاں خصوصیات ملیں۔ اس کے لیے مال لگایا، سرمایہ کاری کی۔ جس کی بنا پر ان کو دن دگنی رات چوگنی ترقی ملی۔ پانچواں کامیاب گُر، یہ فاضل اشیا کو ضائع نہیں کرتے،جیسا کہ مختلف اشیاء تیار کرتے ہوئے ان سے کچھ فاضل مادہ حاصل ہوتا ہے، بعض کمپنیاں اسے ضائع کر دیتی ہیں۔ اسی طرح اپنا وقت بھی ضائع نہیں کرتے۔ اگر ایک کام آٹھ منٹ میں ہوتا ہے تو اس کو چار منٹ میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سے وقت بھی بچتا ہے اور کام بھی زیادہ ہوتا ہے۔
چھٹاکامیاب گُر، اس کمپنی کے مالکان میں عاجزی اور فروتنی ہے۔ ہر ایک سے اچھے طریقے سے پیش آئیں گے۔ ملازمین کی عزت نفس مجروح نہیں ہونے دیتے۔ اپنے اعلیٰ افسر سے لے کر چوکیدار تک ہر ایک کو اپنا قیمتی سرمایہ سمجھتے ہیں۔
آج ہم مشہور اور نامور لوگوں، اداروں اور کمپنیوں کی انتہا کو دیکھتے ہیں۔ لیکن ان کی ابتدا اور بنیاد کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ یہ ہماری صریح غلطی ہے جو ہماری ترقی کی راہ میں حائل ہے۔اگر اس کہانی کو سامنے رکھا جائے کہ ان کی بنیاد اور ابتدا کیا تھی۔ کس طرح انہوں نے کام شروع کیا، کس طرح کے حالات سے دوچار ہوئے۔ اس سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے… اس سے سیکھنے کی کوشش کیجیے!!!