اس نے ایک چھوٹے سے گاؤں میں آنکھ کھولی۔ چار سال کی عمر میں وہ اسکول جانے لگا۔ وہ ابھی بچہ تھا لیکن اسیپیسے جمع کر نے کا بہت شوق تھا۔ خوشی کے موقع پر کسی سے پیسے ملتے تو وہ ان کو سنبھال کر رکھ لیتا۔ چھ سال کی عمر میں اس نے اپنے دادا کے دیکھا دیکھی کاروبار شروع کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اسکول جاتے ہوئے اپنے ساتھ بیچنے کے لیے چیونگم، کوکا کولا، ٹافیاں اور کھانے کی چھوٹی موٹی چیزیں لے جاتا۔

جب وقفہ ہوتا تو ایک درخت کے نیچے اپنی چھوٹی سی دکان سجا لیتا۔ طالب علم اس سے خریداری کرتے، اسے کافی نفع ہوتا۔ اس کا جذبہ اور بھی جوان ہوتا گیا کہ وہ مزید پیسے جمع کرنے کے لیے کام کرے۔ پھر وہ ہفت روزہ میگزین بھی گھر گھر جا کر بیچنے لگا۔ اسکول میں شریر لڑکے اس کا مذاق بھی اڑاتے۔ اسکول آنے سے پہلے مختلف گھروں میں اخبار دے کر آتا، لیکن ان لڑکوں کو کیا معلوم تھا کہ یہ دنیا کا امیر ترین شخص بنے گا۔ آوازیں تو یہ کَسی جاتی تھیں کہ یہ پڑھے گا کیسے؟ لیکن ان کو معلوم نہیں تھا کہ یہ پڑھ کر دوسروں کوبھی پڑھائے گااور اس کی لکھی گئی کتابیں پڑھی جائیں گی۔
یہ وارن بفٹ (Warren Buffut) تھا جو امریکا کا مالدار تاجر، معروف سرمایہ کار اور مقبول سماجی شخصیت ہے۔ اسے 20 ویں صدی کا کامیاب ترین سرمایہ کار (Investor) سمجھا جاتا ہے۔ بفٹ کے چیئرمین (CEO) اور سب سے بڑا شیئر ہولولڈر بھی ہے۔ کئی سالوں سے مسلسل یہ امیر ترین آدمیوں میں سر فہرست ہے۔ 2008 ء میں یہ دنیا کا امیر ترین شخص تھا۔ 2011 ء میں تیسرا امیر ترین آدمی تھا۔ امریکی میگزین ’’Time‘‘ نے اسے دنیا کا مؤثر ترین شخص قرار دیا۔


بفٹ کی کامیابی کا راز یہ تھا کہ وہ ہمیشہ طویل مدتی منصوبے بناتااور اپنے کسٹمرز پر خصوصی توجہ مرکوز رکھتا

جہاں بفٹ کو پڑھنے کا شوق تھا، وہاں کاروبار کرنے کا بھی، پرائمری کے زمانے میں کھانے کی چیزیں بیچتا۔ پھر وہ ہائی اسکول میں داخل ہوا اور وہاں بھی تجارت نہ چھوڑی۔ اسکول میں چھوٹے سے کاروبار کو مزید وسعت دے دی۔ ٹافیوں وغیرہ کے ساتھ ساتھ اب نیوز پیپر کی ڈیلیوری کرنے لگا اور اسٹیشنری کا سامان بھی بیچنے لگا۔ 14سال کی عمر میں بفٹ نے اپنی آمدنی کا ٹیکس بھی ادا کیا۔ جب بفٹ کا ہائی اسکول میں آخری سال تھا۔ بفٹ اور اس کے دوست نے ایک منصوبہ بنایا کہ ایک نیا کاروبار شروع کریں۔ بفٹ بنیادی طور پر طالب علم تھا لیکن ہر وقت اس کا ذہن پیسے کمانے کے نت نئے طریقے تلاش کرتا رہتا تھا۔ دونوں نے مل کر ایک استعمال شدہ پن بال مشین 25 ڈالر میں خریدی اور مقامی حجام کی دکان کے سامنے رکھ دی۔ حجام کی دکان پر لوگ انتظار کے بجائے وقت گزاری اور تفریح کے لیے اس سے کھیلنے لگتے اور اس سے آمدنی ہونے لگی۔ یہ چھوٹا سا کاروبار پھلنے پھولنے لگا۔ انہوں نے تین مشینیں اور خرید لیں اور مختلف حجام خانوں کے سامنے رکھیں۔ اس سے بھی کافی آمدنی ہونے لگی۔ اب ان کی تعلیم ہائی اسکول سے کالج جا پہنچی، جس کی وجہ سے اس کاروبار کی نگرانی مشکل ہو گئی تھی۔ اس لیے اس کاروبار کو 1200 ڈالر میں بیچ دیا۔
ہائی اسکول میں ہی پڑھتا تھا جب اس نے اپنے والد کے ذاتی کاروبار میں بھی سرمایہ کاری کی۔ کچھ عرصے بعد ایک فارم خرید لیا۔ اسے ایک مزارع کے حوالے کیا۔ اس سے بھی آمدنی حاصل ہونے لگی۔ باپ بھی اپنے بیٹے کی لگن دیکھ کر حیران ہوتا تھا۔ ایک دن باپ نے پیار سے پوچھا: ’’بیٹے! آپ بننا کیا چاہتے ہیں؟‘‘جواب میں اس نے صرف مسکرا نے پر اکتفا کیا۔
بفٹ کو اسٹاک مارکیٹ میں بہت دلچسپی تھی۔ اس میں بھی سرمایہ کاری کی۔ بفٹ نے اپنے والد کی بروکیرج کمپنی کے قریب ہی ایک اسٹاک بروکیرج کھول لیا۔ کاروبار کا ایسا دھنی تھا کہ گیارہ سال کی عمر میں ایک کمپنی کے تین شیئرز اپنے لیے اور تین بہن کے لیے خریدے۔
1947ء میں Pennsylvania کی ایک یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ 1950ء میں Nebraska Lincoln یونیورسٹی چلے گئے۔ اس یونیورسٹی میں پڑھتے ہوئے B,B,A کیا۔ اسی دوران بفٹ نے بنجامن گراہم کی کتاب The Intelligent Investor پڑھی۔ اس نے بفٹ کے اندرعجیب جذبہ پھونک دیا کہ یونیورسٹی میں پڑھتے ہوئے پارک کے سامنے گالف بال بیچنا اس کے لیے مشکل نہ تھا جیسا کہ آج کے غریب طالب علم بھی شرماتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے؟
کولمبیا یونیورسٹی سے گریجویشن کے ساتھ اکنامکس میں ماسٹرز بھی کرلیا۔ جب گراہم کی کتاب پڑھی تو بفٹ کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ وہ اس کے ساتھ کام بھی کرے تاکہ اس کے تجربات و مشاہدات دیکھے اور آئیڈیے سن سکے۔ جذبہ جوان اور لگن سچی ہو، قسمت بھی یاوری کرتی ہے۔شومئی قسمت بفٹ نیو یارک میں گراہم کے ساتھ مل کر Wall Street پر کام کرنے لگا۔ دریں اثنا یہ گراہم کے آئیڈیے، مشاہدات اور تجربات سے مستفید ہوتا رہا۔ بفٹ ملازمت کی وجہ سے پارٹنرشپ پر توجہ دیتا رہا۔ اس کی پارٹنرشپ کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔ جہاں کسی کمپنی اور فیکٹری کا پتہ چلتا، یہ وہاں پارٹنرشپ کے موقع سے بھرپورفائدہ اٹھاتے۔ اس طرح یہ ایک مال دار آدمی بن گیا۔ 1961ء میں اپنی پارٹنرشپ کے اثاثے ’’سن بورن میپ کمپنی‘‘ میں لگائے۔ اس کے علاوہ Dempster Mills میں سرمایہ کاری کی، پھر اسے خرید لیا۔ اس طرح یہ Dempster کے چیئرمین بن گئے۔ پھر اسے 2.3 ملین ڈالر میں بیچ دیا۔
وارن بفٹ کی کامیابی کا سب سے بڑا راز یہ تھا کہ تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے بزنس کی پیچیدگیوں سے خوب واقف تھا۔ یہ بات اپنے علم میں رکھتا کہ فلاں فیکٹری کے شیئرز کی قیمت اسٹاک ایکسچینج میں بڑھے گی اور فلاں کی کم ہو گی۔ اس طرح یہ ان فیکٹریوں کے شیئرز خریدتا تھا۔ جس کی وجہ سے یہ Berkshire Hathaway کا سب سے بڑا شئیر ہولڈر بنا۔ بفٹ کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ ملازمین اور اداروں کا انتخاب احتیاط سے کرتا تھا۔ اس کے پاس عمدہ مینجمنٹ ٹیم تھی۔ بفٹ کی کامیابی کا راز یہ تھا کہ وہ ہمیشہ طویل مدتی منصوبہ بناتا، اپنے کسٹمرز پر توجہ مرکوز رکھتا، بفٹ کا کہنا ہے کہ آپ کی کامیابی لوگوں کی زندگی پر منحصر ہے۔