ہنڈا کے بانی سوئی شیرو ہنڈا  سوئی شیرو ہُنڈا(Soichiro Honda) ایک جاپانی انجینئر اور صنعت کار تھا۔ اس نے 1948ء میں اپنے خاندان کے نام پر Honda کمپنی کی داغ بیل ڈالی، جو ایک لکڑی کی مینو فیکچرنگ بائیسائیکل موٹرز سے بڑھتی، پھلتی اور پھولتی ایک ملٹی نیشنل کمپنی برائے آٹو موبائل اور موٹر سائیکل مینو فیکچرر بن گئی۔ ہُنڈا 17 نومبر 1906 ء کو شیزوکا (Shizuoka) کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوا۔ اس نے اپنا بچپن، باپ کے کام کاج

میں ہاتھ بٹاتے ہوئے گزارا۔ اس کا باپ لوہار تھا۔ اس کے ساتھ بائی سائیکلوں کی مرمت کا کام بھی کرتا تھا۔ اپنے باپ کا ہاتھ بٹاتے بٹاتے اس کو بھی اس کام سے لگاؤ پیدا ہو گیا۔ اس کا والد بھی عام لوگوں کی طرح نہیں تھا۔ اسے اپنے بچوں کو ہنر سکھلانے کا شوق تھا۔ وہ اپنے بچوں کو کھلونے اور مختلف قسم کے اوزار بنانے کا طریقہ سکھلاتا۔ کچھ ہی عرصے میں ہُنڈا نے ایک زرعی بلیڈ بنایا اور اسی طرح بچوں کے چھوٹے چھوٹے کھلونے بھی بنا لیتا۔ ہُنڈا کو کسی تکنیکی کرتب اور مظاہرے کا پتہ چلتا تو یہ وہاں ضرور پہنچنے کی کوشش کرتا۔ پائلٹ آرٹ سمتھ نے کوئی جہاز اڑانے کا مظاہرہ کرنا تھا۔ اس کو معلوم ہوا تو ہُنڈا اس کو دیکھنے پہنچ گیا۔ اس مظاہرے نے ہُنڈا کی مشینری اور ایجاد سے محبت کو مزید تقویت دی۔ ہُنڈا نے روایتی تعلیم حاصل نہ کی تھی۔ 15 سال کی عمر میں اسے ہنر سیکھنے کا جنون ہوا تو سیکھنے کے لیے علاقے سے ہجرت کر کے کسی ماہر کے پاس جانے کا ارادہ کیا۔ پھرتے پھراتے آخر ایک جگہ اسے مل گئی۔ ایک کار مکینک کی تربیت اور شاگردی میں کام کرنے لگا۔ شروع میں کچھ ہچکچاہٹ کا شکار ہوا، لیکن پھر اسی میں چھ سال مسلسل جُتا رہا۔دلجمعی اور تن دہی سے کام میں لگا رہا۔استاد بھی اس کی کارکردگی سے بہت خوش تھا۔ اس عرصے میں وہ کار مکینک بن گیا۔ جب اس نے استاد سے اپنے ذاتی کاروبار کے لیے اجازت مانگی تو اس نے بخوشی اجازت دے دی۔
گھر لوٹنے سے پہلے اس نے اپنا ذاتی آٹو ریپیر کا کام شروع کر دیاتھا۔ اس نے محنت اور دل لگا کر کام کیا۔ اپنے کام اور گاہکوں کے ساتھ مخلص تھا۔ جس کی وجہ سے آئے روز اس کے گاہکوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ اس سے اچھی بھلی آمدنی ہونے لگی۔ اس کا باپ جو پہلے لوہار کا کام کرتا تھا اور اس کے ساتھ بائیسائیکل کی مرمت بھی کیا کرتا تھا۔ وہ اس کام کو چھوڑ کر اپنے بیٹے کی معاونت کرنے لگا۔


٭…ہُنڈا کی کامیابی کاسب سے بڑا راز یہ تھا کہ وہ پیچھے مڑ کر دیکھنے کے بجائے ناکامی کا ڈٹ کر مقابلہ کر تا تھا ٭… ہُنڈا موٹر سائیکل کا ٹائپ اے اور ڈی ماڈل جاپانی آٹوموٹِوْ ٹیکنالوجی کی علامت بن گئے تھے

1937ء میں ہُنڈا نے Tokai Seiki کی بنیاد رکھی جس میں وہ ٹویوٹا کمپنی کے پسٹن رنگز بناتا تھا۔ یہ کام بھی خوب چل رہا تھا، لیکن دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکا نے جاپان پر بمباری کی تو ہُنڈا کا لگایا گیا پلانٹ تباہ وبرباد ہو گیا۔ 1945 ء میں زلزے نے رہی سہی کسر نکال دی۔ جوکاروبار بمباری سے منہدم ہو چکا تھا، زلزلے کی وجہ سے زمیں بوس ہو گیا۔ جنگ کے بعد اس پلانٹ کی باقیات ٹویوٹا کمپنی کو بیچ ڈالیں۔ ان حالات اور مشکلات کے باوجود ہُنڈا نے ہمت نہ ہاری۔ ہُنڈا کی کامیابی کاسب سے بڑا راز یہ تھا کہ وہ پیچھے مڑ کر دیکھنے کے بجائے ناکامی کا ڈٹ کر مقابلہ کر تا تھا۔ ایک سال بعد 1946 ء میں ہُنڈا ٹیکنکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھی۔
ہُنڈا کو مہم جوئی کا بہت شوق تھا۔ نئی نئی چیزیں ایجاد کرنے کا جذبہ تھا۔ یہ بات اس نے بچپن سے سیکھ رکھی تھی۔ اس کا خاندان زیادہ مالدار نہ تھا۔ لیکن اس کے باپ نے اپنے بچوں میں سخت محنت کی اخلاقیات اور مکینکل چیزوں کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دی تھی۔ ابھی بچپنے کا زمانہ تھا۔ ان کے قریب ہی ایک رائس ِمل تھی۔ جب وہ چلتی تو اس سے ایک شوراور آواز پیدا ہوتی۔ یہ ہُنڈا کے لیے پرکشش تھی۔ اس نے اپنے دادا کو مجبور کیا کہ وہ اسے فیکٹری کی سیر کرائے۔یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ اس میں مشینیں کس طرح کام کرتی ہیں۔اگر بچوں کو اس طرح کی چیزیں دکھائی جائیں تو اس سے ان میں کچھ کرنے کا جذبہ اور ولولہ پرورش پاتا ہے۔ بچپن سے ہی سخت محنت کرنا اور نئی اشیا تخلیق کرنے کا شوق تھا، اسی وجہ سے آگے سے آگے بڑھنے کی لگن میں مگن رہتا تھا۔ 1948ء میں مکمل موٹر سائیکل تیار کرنا شروع کیا۔ پہلے A ٹائپ کا انجن بنایا پھر یکے بعد دیگرے ان میں تبدیلیاں کرتا رہا۔ ٹائپ اے اور ٹائپ ڈی ماڈل جاپانی آٹوموٹو(Automotive) ٹیکنالوجی کی نمایاں علامت بن گئے۔ رفتہ رفتہ ان کا کام بڑھتا رہا۔ ان کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ اس کی کمپنی کا حجم بھی وسیع ہوتا گیا۔ ہُنڈا نے اپنی کمپنی کو ملٹی نیشنل کمپنی میں تبدیل کیا، جو دنیا میں بہترین موٹر سائیکل تیار کرنے والی کمپنی تھی۔ہُنڈا کی انجینئرنگ اور مارکیٹنگ مہارتیں بہت جلد ثمر آور ثابت ہوئیں کہ دنیا بھر میں اس کمپنی کے موٹر سائیکلوں کی مانگ میں اضافہ ہونے لگا۔ 1959ء میں اپنی پہلی ڈیلر شپ امریکا میں کھولی گئی۔
ہُنڈا کا ایک با اعتماد دوست Takeo Fujiswa تھا۔ جو ہر مشکل میں ان کے کام آتا تھا۔ جب بھی مشکل گھڑی آپڑی تھی، ہُنڈا اس سے مشورہ کرتا۔ ہُنڈا موٹر کمپنی کئی دفعہ بند گلی میں چلی جاتی لیکن یہ دوست ہُنڈا کی مدد کرتا اور سہارا دیتا۔ دونوں ملک کر کام کرتے، ان کی پارٹنرشپ کا پہلا پھل اس طرح حاصل ہوا کہ 98 سی سی 2 اسٹروک موٹر سائیکل بنایا جس کا نام Dream رکھا۔ہُنڈاموٹرکمپنی موٹرسائیکل سے لے کر کاریںبنانے لگی۔ اس کی پروڈکٹ لائن کے 7 زمرہ جات (categories) ہیں۔ اس کی پروڈکٹ میں ہُنڈا آٹوموبائل، اکوراآٹوموبائل، ہُنڈا پاور سپورٹس، ہُنڈا جیٹ، ہُنڈاانرجی ایکوپمنٹ، ہُنڈا میرین اور ہُنڈا انجن شامل ہیں۔.
معلوم ہوا حالات سے گھبرا کر بیٹھنے کے بجائے ان کا جواں مردی سے مقابلہ کیا جائے۔ اپنے تئیں کاوش کی جائے، باقی اللہ تعالی پر توکل کیا جائے۔ تجارت میں رسک لینا پڑتاہے ، یہی کامیابی کا زینہ بنتاہے۔ اپنے بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ کوئی ہنر بھی سکھا دیا جائے تو ان کے لیے بہترہوگا۔