اس کا والد پرائمری اسکول کا ہیڈ ماسٹر تھا۔ وہ اپنے باپ کے ساتھ اسکول جایا کرتا تھا۔ استاد کا بیٹا ہونے کی وجہ سے طلبہ اور اساتذہ بھی اس سے پیار کرتے تھے۔ ایک دن استاد نے طلبہ سے پوچھا کہ آپ پڑھ کر کیا بنیں گے؟ ہر ایک نے مختلف عہدوں اور ملازمتوں کو اپنا مقصد اور ہدف بتلایا۔ جب اس سے پوچھا گیا تو اس کا جواب خاموشی کے سوا کچھ نہ تھا۔ لڑکوں نے بیک زبان ہو کر کہا کہ جب اس کا ابو استاد ہے تو یہ بھی استاذ بنے گا۔

استاد کے اصرار پرگویا ہوا :میرا وژن یہ ہے کہ اپنے ملک کا نام روشن کروں، اس کے باسیوںاور اپنے ہم وطنوں کی خدمت کو اپنا طرہ امتیاز بناؤں۔
اس کا نام لی کاشنگ (Li kia Shing) ہے جو 13 جون 1928 ء میں جنوب مشرقی ساحل کے شہر Chiu Chow چین میں پیدا ہوا۔ جو مستقبل میں کامیاب اور مشہورو معروف entrepreneurبنا۔ Cheung Kong Holdings کا مالک اور CEO بنا۔ ہانگ کانگ کے بزنس مین، سرمایہ کار اور سماجی و فلاحی شخصیت کے طور پر ابھرا۔ 2008 ء کی رپورٹ کے مطابق یہ ایشیا کا امیر ترین اور دنیا کا گیارہویں نمبر پر شخص ہے۔


٭… انفارمیشن اور کمونیکیشن ٹیکنالوجی وقت کی قدر بڑھا دیتی ہے، کئی نا ممکنات کو ممکن بناتی ہے ٭…وژن انسان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ فکر کی طاقت انسان کو صدیوں تک زندہ رکھ سکتی ہے ٭

ابھی بارہ سال کا تھا اس کے سر سے سائبان اٹھ گیا، یہ سایۂ شفقت سے محروم ہو گیا۔ اس کے والد بیمار ہو گئے تھے۔ یہی بیماری ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔ جلد ہی گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ اس کے ناتواں کندھوں پر آ پڑا۔ باپ کے مرنے کے بعد اس نے رشتہ داروں کی طرف مڑ کر نہ دیکھا، بلکہ اپنے آپ کو مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار کیا۔ باپ کا پیشہ تدریس تھا۔ اس کو اپنا نہیں سکتا تھا کیونکہ یہ ابھی چھوٹا تھا اور پرائمری اسکول میں تعلیم پا رہا تھا۔ مجبوراً اسکول چھوڑنا پڑا۔ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں، ماں کی خدمت کرنے کے لیے ذریعۂ معاش تلاش کرنے نکل پڑا۔
اس کے لیے مقامی مارکیٹ اور بس اڈے پر واچ بینڈز (گھڑیوں کے پٹے) بیچنے لگا۔ اس سے کافی آمدنی ہونے لگی۔ سرِ شام جب گھر واپس لوٹتا تو سودا سلف خریدنے کے باوجود کچھ رقم بچ جاتی۔ اس کی والدہ بھی گھر میں کفالت شعاری سے کام لیتی۔ بیٹے کی حوصلہ افزائی کرتی۔ صبح سویرے جب یہ نکلتا تو ایک نیا جذبہ اور جوش اس کے ہم سفر ہوتا۔ وہ پانچ سال مسلسل اور محنت سے اسی پیشے سے منسلک رہا۔ یہاں تک کہ 17 سال کی عمر میں یہ ایک ہول سیلر بن گیا۔ اس دوران یہ پائی پائی جمع کرتا رہا۔ دن رات کی محنت اور دوڑ دھوپ سے غربت کی تاریکی چھٹ گئی۔ ہول سیلر بنے ابھی پانچ سال ہوئے تھے کہ اس کے پاس کچھ رقم جمع ہوگئی تھی۔اب اس کے دل میں اپنی کمپنی قائم کرنے کی خواہش نے انگڑائی لی۔
1950ء میں کمپنی لگانے کا عزم کیا لیکن اس کے پاس سرمایہ کم تھا۔ یہ بھی پیچھے نہ ہٹا، بلکہ اپنے وژن اور مقصد میں سچا اور مخلص ہونے کی وجہ سے ہمت نہ ہاری۔ اپنے خاندان والوں سے کچھ رقم ادھار لی، دوستوں سے بھی قرض لیا۔ پرانے گاہک اس کی لگن، دیانت داری سے کافی متاثر تھے۔ انہوں نے بھی اس کو سرمایہ فراہم کر کے مدد کی۔ اس طرح یہ 1950ء کو ہی ہانگ کانگ میں پلاسٹک مینوفیکچرنگ کمپنی لگانے میں کامیاب ہوا۔ اس کمپنی کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ہر ممکنہ کوشش اور حربہ اختیار کرتا۔ یہ تجارتی اور کاروباری خبریں پڑھتا کہ وہ کیسے دنیا بھر کو پلاسٹک فلاورز کی اعلیٰ کوالٹی کو کم قیمت پر فراہم کر سکے۔ اس کام کے لیے مسلسل تگ و دو کی، ہر وقت اسی کے بارے سوچتا۔ آخر کار چند ایک ماہر کاریگر مل گئے جو اس کام کو بڑھانے اور پھیلانے میں معاون ثابت ہوئے۔ چند سالوں کی محنت کے نتیجے میں ایشیا بھر میں پلاسٹک فلاور سپلائی کرنے لگا۔ اس طرح یہ ایشیا کا سب سے بڑا پلاسٹک فلاور سپلائر بن گیا۔ 1958ء میں حالات اچھے نہ تھے، جس کی وجہ سے اس کی کمپنی خسارے میں جانے لگی لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔ 1967ء میں سیاسی بحران آیا جس کی وجہ سے بہت سارے لوگ ہانگ کانگ چھوڑ کر جانے لگے۔ پراپرٹی کی قدروقیمت میں کمی آنے لگی۔رفتہ رفتہ اس کی قیمت بہت زیادہ گر گئی۔ اسے یقین تھا کہ سیاسی بحر ان عارضی ہوا کرتا ہے۔ جب یہ ختم ہوگا، پراپرٹی کی قیمت پھر سے آسمان سے باتیں کرنے لگے گی۔ اس موقع کو غنیمت جانا اور بہت ساری پراپرٹی کم قیمت پر خرید لی۔ اب یہ رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کمپنی کا مالک بن گیا۔ 1971ء میں اس نے اپنی کمپنی کا نام تبدیل کرکے Cheung Kong رکھا۔ یہ ایک دریا کانام ہے جو چین کا سب سے لمبا دریا ہے۔
اس کے بعد اس نے بہت سارے کاروبار، مختلف کمپنیوں اور مختلف پروڈکٹس کی صورت میں کیے۔ اس کی کامیابی کا راز وژن، محنت، لوگوں کا اعتماد اور اس کی اپنی ساکھ ہے۔ جس کی بنا پر کسی بھی کاروبار کو ہاتھ لگاتے، وہ سونے کی شکل اختیار کرلیتا۔ اس نے بزنس کی ایک سلطنت قائم کی۔ جس میں بینکنگ، کنسٹرکشن، رئیل اسٹیٹ، پلاسٹکس، سیل فونز، سیٹلائیٹ ٹیلی وژن، سیمنٹ پروڈکشن، فارمیسی، سپر مارکیٹس، ہوٹلز، ڈومیسٹک ٹرانسپورٹیشن، ایئرپورٹ، الیکٹرک پاور، اسٹیل پروڈکشن، پورٹ اور شپنگ شامل ہیں۔ اس کی کچھ باتیں ذیل میں درج کی جاتی ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے یہ براعظم ایشیا کا امیر ترین شخص بنا۔ ٭ وژن انسان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ فکر کی طاقت اور اس کا تسلسل انسان کو صدیوں تک زندہ رکھ سکتا ہے۔ یہ انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ مستقبل میں جھانکنا سکے،مجہول کو معلوم اور ناممکن کو ممکن بنا سکے۔
٭ علم محض ایک ڈگری اور مہارت نہیں بلکہ یہ ایک وسیع وژن اور تنقیدی فکر اور منطقی استخراج کی اہلیت کا مطالبہ کرتا ہے۔ جس کے بغیر ہم تعمیری پیش رفت نہیں کر سکتے۔ ٭ انفارمیشن اور کمونیکیشن ٹیکنالوجی وقت کی قدر بڑھا دیتی ہے۔ بہت سارے نا ممکن کاموں کو ممکن بناتی ہے۔
٭ مستقبل کی راہیں آپ کا انتظار کررہی ہیں، آپ کی لگن اور تڑپ صرف اپنے فوائد تک محدود نہ ہو بلکہ اپنے پیارے وطن کے ساتھ ساتھ بنی نوع انسان اور اس کی سا لمیت بھی پیشِ نظر رہے۔ ٭ بطور لیڈر اور رہنما کے، آپ کو دوسرے لوگوں سے زیادہ مستقبل کے منصوبوں کے لیے کام کرنا ہوگا۔ ؎ محنت ہوں میں ہر محنتی کو صلا دوں تاریکیوں میں میں چراغ امید جلا دوں