انگوار کمپراڈ(Ingvar Kamprad) ایک سویڈش بزنس مین ہے۔ یہ ایک مشہور ومعروف اور دنیا کی بڑی بڑی فرنیچر کمپنیوں میں سے ایک کمپنی ’’IKEA‘‘ کا بانی ہے۔ یہ دنیا کا امیر ترین اور کامیاب ترین آدمی شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی کمپنی IKEA کے دو سو سے زائد اسٹورز 31 ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کے ملازمین کی تعداد 75 ہزار سے زیادہ ہے۔ اس کی سالانہ سیل 12 بلین ڈالر سے زائد ہوتی ہے۔

یہ دنیا کا امیر ترین آدمی کیسے بنا؟ آئیے! اس کی کہانی اس کی زبانی سنتے ہیں۔
میرا باپ ایک کسان تھا۔ میں نے 30 مارچ1926ء کی صبح پہلی بار آنکھ کھولی۔ بچپن سے ہی میرے کان انسانوں کی آوازوں کے ساتھ ساتھ چرند پرند کی بولیوں سے آشنا ہو گئے تھے۔ گھر سے باہر پہلا قدم رکھا تو چہار سُو لہلہاتے کھیت ہی کھیت تھے۔ لوگ صبح سویرے اپنے مویشی چرانے لے جاتے اور سرِشام گھر وں کو لوٹ آتے۔ ہم سب بچے مل جل کر کھیلا کرتے تھے۔ جب میری عمر پانچ سال ہوئی تو اسکول جانے لگا۔ میرے ہم عمر بھی میرے ساتھ اسکول جایا کرتے تھے۔ دوران تعلیم میرے دل میں ایک خواہش نے انگڑائی لی کہ کاروبار بھی کروں تاکہ اپنا جیب خرچ نکلتا رہے اور والدین پر بوجھ نہ بنوں۔ اسی جذبے کے تحت اسکول سے چھٹی کے بعد سائیکل پرماچس بیچنے لگا۔ میری توقع سے زیادہ اس سے آمدنی ہونے لگی، اس سے جذبہ اور جواں ہوتا گیا اور کاروبار کو مزید بڑھانے لگا۔ ابتدا میں تھوڑی سی مشکل پیش آئی لیکن جب کام شروع کیا تو اس کی نوعیت بھی معلوم ہو گئی۔ اب Stockholm سے ماچس خریدنے لگا۔ جہاں سے یہ سستے داموں ملتی تھی۔ ان کو پہلے سے ارزاں قیمت پر فروخت کرنے لگا۔ اس سے گاہک بڑھنے لگے۔ لوگوں کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہونے لگا۔ اس سے جو پیسے کماتا، وہ جمع کرتا رہتا۔ ماچسوں سے شروع کیا گیا کاروبار مچھلی کی فروخت تک جا پہنچا،اس میں بھی نفع ہونے لگا۔ اس سے کاروباری رسک میں کمی اور اعتماد میں اضافہ ہوا۔ پھر بال پوائنٹ، قلم اور پنسلوں کا کاروبار شروع کر دیا۔ اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ میں پڑھائی میں دلچسپی نہیں لیتا تھا، بلکہ جماعت میں ہمیشہ اول آتا۔


٭…میری کامیابی کاقیمتی گُرخوب صورت ڈیزائن، دیرپااور اچھی کوالٹی کم قیمت پر اشیا فراہم کرنا ہے ٭… غلطیوں سے لڑھکنے کے بجائے سنبھلنا سیکھا، صرف سونے والا غلطیوںکے ارتکاب سے بچ سکتا ہے

جب میں 17 سال کا تھا اسکول میں نے نمایاں پوزیشن حاصل کی۔ اس موقع پر میرے باپ نے کیش کی صورت میں انعام دیا۔ اس رقم نے میرے کاروبار کو ایک نئی شکل دے دی۔ 1943 ء میں اپنے چچا کے کچن ٹیبل پر سے ’’IKEA‘‘ کی ابتدا کی۔ 1948 ء میں اپنے کام کو مزید وسعت دی۔ اس کاروبار میں فرنیچر کا اضافہ کیا کہ اب فرنیچر بھی بنایا جائے گا۔ میرا بیشتربزنس آرڈر پر تھا۔اس دوران بہت سی غلطیاں سر زد ہوئیں، لیکن ان سے لڑھکنے کے بجائے سنبھلنا سیکھا۔ میں جانتا تھا کہ صرف سونے والا غلطیوںکے ارتکاب سے بچ سکتا ہے۔ میں نے اپنے بزنس کا نام ’’IKEA‘‘ رکھا۔ پہلے دو حرف آئی اور کے اپنے نام(Ingvar Kamprad) کے ابتدائی حروف آئی اور کے، ای اور اے اپنے فارم (Elmtartd) اور گاؤں Agunnaryd) (پر رکھا۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ بنی کہ جب میں اسکول میں پڑھتا تھا۔ ایک دن استاد نے میری تعلیمی کارکردگی کو دیکھ کر کہا یہ اپنے نام کے ساتھ اس چھوٹے سے گاؤں کو شہرت بخشے گا۔ اس دن سے میں تہیہ کر رکھا تھا کہ استاد کی توقعات پر پورا اترنے کی پورے کوشش کروں گا۔ جب کاروبار شروع کرنے لگا تو اس کا نام ’’IKEA‘‘ رکھا۔
1947ء میں ’’IKEA‘‘ کو ایک نئی راہ پر ڈالا۔ اس میں فرنیچر لائن کو متعارف کرایا۔ مقامی مینوفیکچرر کو دیکھا۔ ان میں فرنیچر کی قیمت زیادہ تھی۔ میں نے ان سے کم قیمت پر فراہم کرنا شروع کیا۔ اس کے ساتھ ایک کتابچہ چھپوایا جس میں اپنے فرنیچر کے کاروبار سے متعلق معلومات مہیا کیں۔ چیز سستی ہو تو لوگ شک کا شکار ہو جاتے ہیں کہیں یہ چیز ناقص اور ناپائیدار نہ ہو۔ اس کتابچہ کا لوگوں پر اچھا اثر مرتب ہوا۔ لوگ فرنیچر کا آرڈر مجھے دینے لگے۔ اس وقت فرنیچر کاروبار عروج پر تھا۔ اس میں خوب نفع ہو رہا تھا۔1951ء میں نے دوسرے چھوٹے موٹے کاروبار کے بجائے اس کی طرف توجہ مرکوز کی۔ 1953ء میں پہلا IKEA شوروم کھولا۔ اس سے پہلے کام چل رہا تھا لیکن کاروباری مقابلے کا دباؤ تھا، جس کی وجہ سے شوروم کھولنا پڑا۔IKEA کواگر کسی حریف کا سامنا تھا تو اس کی کم قیمت سے تھا۔ شوروم میں اذن ِعام تھا کہ لوگ اس کا وزٹ کریں، کوالٹی کی جانچ پرکھ کریں۔ خریدنے سے پہلے تسلی اور اطمینان کر لیں۔
میرے کاروبار کے کم قیمت ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ میں نے ہمیشہ اخراجات پر قابو پایا۔ فضائی سفر ہویا زمینی پروٹوکول کے بجائے عام لوگوں کی طرح اور ان کے ساتھ سفر کیا۔خود گاڑی ڈرائیو کرتا۔ان چیزوں کے ہوشربا اخراجات خود بخود میری پروڈکٹ میں سرایت کرتے۔ جس کا بوجھ میرے ہم وطنوں اور کلائنٹ پر پڑتا۔ حریفانہ ماحول کی وجہ سے میں نے اپنی فرنیچر پروڈکٹ میں کم قیمت کے ساتھ ساتھ جدت اور ڈائزائننگ کی طرف خاص توجہ دی۔ جس کی وجہ سے دنیا بھر میں IKEA جانی جاتی ہے۔ IKEA کی پروڈکٹ ایسی ڈیزائن کی گئی کہ جس سے شپنگ کے اخراجات کم سے کم ہوں اور نقل و حمل کے دوران فرنیچر کو نقصان نہ پہنچے، دکان داروں کو اپنے اسٹورز میں رکھنے میں آسانی ہو۔ فرنیچر اس طرح بنایا گیا کہ لوگوں کے لیے اسے گھروں میں رکھنا آسان ہو۔ بیڈ اس طرح بنایا کہ ایک آدمی باآسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرسکتا ہے۔میری کامیابی کاقیمتی گُرخوب صورت ڈیزائن، پائیداراور اچھی کوالٹی کم قیمت پر اشیا فراہم کرنا ہے۔
ایک طرف میرے کاروبار کی مقبولیت اور عوام کا اعتماد، دوسری طرف مجھے حریفوں کا سامنا تھا۔ ان کے سامنے سینہ سپر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے کاروبار ی خصوصیات کو قائم ودائم رکھنا تھا۔ میں نے ہمت نہ ہاری۔اپنے حریفوں کو اپنا دوست گردانتا ہوں جنہوں نے مجھے اس مقام تک پہنچایا۔ دو دہائیوں ہی میں IKEA سویڈن سے ہوتی ہوئی 31 بیرون ممالک میں 114 اسٹورز کے ساتھ موجود ہے۔