الویٰ اُس روز بہت خوش تھی، جس دن قدرت نے اسے بیٹا عطا کیا۔ وہ اپنے بچے کی دیکھ بھال میں ہر وقت جُتی رہتی۔ جوں جوں اس کا چاند جیسا بیٹا پروان چڑھ رہا تھا، اس کی امیدوں کا شجر بھیبڑھ رہا تھا۔ وہ اپنے بچے کی تعلیم و تربیت کا خاص خیال رکھا کرتی۔ وہ جسمانی نشوونما کے ساتھ ساتھ ذہنی بالیدگی کا سامان کرتی۔ اس کی صحت اور تندرستی کے بارے میں بہت محتاط رہتی۔ وہ اپنے بیٹے کی ہرخواہش پوری کرتی۔

ہر ماں کی اپنی اولاد سے کچھ امیدیں وابستہ ہوتی ہیں کہ وہ کامیاب زندگی گزاریں، دنیا میں نام کمائیں ، اپنے والدین کے نام کو چار چاند لگائیں، وغیرہ۔ الویٰ نے بھی اپنے بیٹے سے یہی امیدیں لگا رکھی تھیں، لیکن ایک ٹھنڈی یخ رات میں اس کے بیٹے کو سخت بخار ہوگیا۔ کئی دنوں بعد بھی بخار ٹوٹ نہ سکا۔ مسلسل بیمار رہنے کی وجہ سے اس کا چہرہ پیلا پڑ گیا، ماںکی امیدوں کا شجر بھی خزاں رسیدہ ہونے لگا۔ جب طبیب نے بتایا کہ اس کے بیٹے کو پولیو ہو گیا ہے۔ گویا اب اس کا بیٹا ہمیشہ کے لیے معذور ہو چکا تھا۔ یہ خبر سن کر ’’الوی‘‘ کو مایوسی کے اندھیروں نے گھیر لیا۔ لیکن اسے معلوم نہ تھا کہ اس کا بیٹا مستقبل میں دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے کے بجائے لوگوں کو کھلائے پلائے گا۔ انسان تو اس کی تیار کردہ خوراک سے مستفید ہوں گے ہی، پالتو جانور بھی اس کی بنائی گئی غذا کھائیں گے۔


٭…امریکی بزنس مین فرینک مارز نے فوڈکمپنی Mars Incorporated کی بنیاد رکھی، 2012ء اس کی سالانہ سیل 30 بلین ڈالر تھی ٭… سب سے بڑی خوبی یہ ہے خود کو گاہک کی جگہ رکھ کردیکھتے ہیں کہ ہماری پروڈکٹ کی کوالٹی کیسی ہے

یہ بچہ فرینک مارز(Frank Mars) جو ایک امریکی بزنس مین تھا۔ اس نے فوڈکمپنی Mars Incorporated کی بنیاد رکھی۔ فوربس میگزین کے مطابق 2012ء اس کی سالانہ سیل 30 بلین ڈالر تھی۔ امریکا کی تیسری بڑی نجی کمپنی ہے۔ یہ کمپنی بنیادی طور پر چاکلیٹ آئٹمز تیار کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قسما قسم کی دوسری فوڈ بھی بناتی ہے۔ یہ کمپنی 6 سیگمنٹ چلا رہی ہے۔ 2008ء میں اس کے ملازمین کی تعداد 70 ہزار تھی۔ مگر یہ کہانی بہت بعد کی ہے۔ اس حیرت انگیز کامیابی کے پیچھے بھی اس کی ماں کی کاوشیں شامل تھیں۔ الویٰ بھی ایک ماں تھی،وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کا بیٹا ’’مارز‘‘ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلائے، چوک چوراہوں پر بھیک مانگے، رشتے داروں کا محتاج بنا رہے۔ اس نے سوچا کیوں نہ اسے کھانا پکانا سکھا دوں، چاکلیٹ وہ بنا لیتی تھی تو اپنے بیٹے کو بھی یہ بنانا سکھا دیا۔ مارز بھی ماں کے گھریلو کام میں ہاتھ بٹاتا۔ اس طرح یہ کھانا اور چاکلیٹ بنانے لگا۔ مارزنے 19سال کی عمرمیں ایک اسکول کے سامنے چاکلیٹ کا ٹھیہ لگا لیا۔ اس سے معقول آمدنی ہاتھ آنے لگی۔ سرمایہ جمع کرنے لگا۔ اپنے اس چھوٹے سے کاروبار میں کاروباری اخلاقیات کا خصوصی اہتمام کیا۔ اس کے چاکلیٹ لوگ بہت پسند کرتے۔ بچے اپنے والدین سے فرمائش اور ضد کرکے منگواتے۔ جب کافی سرمایہ اکٹھا ہوگیا تو اپنے کاروبار کو مزید پھیلانے کا ارادہ کیا۔ مارز نے اپنے خاندان کے نام پر Mars Inc کمپنی کی بنیاد 1911ء میں رکھی۔ اس فیکٹری میں مارز اور اس کی بیوی دونوں کی محنت کے نتیجے روز بروز چاکلیٹ کی پیداوار میں اضافہ ہونے لگا۔ جو پروڈکٹ تیار کرتا وہ ہول سیل کے طور پر فروخت کردیتا۔ مارز معذور ہونے کے باوجود محنت کرتا۔ اس کی اہلیہ نے بھی اس کا بھرپور ساتھ دیا۔ چند سال یہ کام چل پایا پھر ناکام ہوگیا۔ یہی ناکامی مارز کی کامیابی کا ذریعہ بنی۔ اس کے پاس ٹرانسپورٹ کے وسائل نہ تھے۔ جس کی وجہ سے اس کی پروڈکٹ کی سپلائی متاثر ہوتی تھی، جو کاروبار کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی۔ مارز نے دوبارہ اس غلطی کو دہرانے کی کوشش نہ کی، بلکہ پہلے والی خامیوں کو دور کیا۔
1920ء میں ازسر نو یہ کام شروع کیا۔ یہ کاروبار رفتہ رفتہ ترقی راہ پر گامزن ہونے لگا۔ تین سال بعد 1923ء میں Milky Bar متعارف کروایا۔ یہ ایک نئے اضافے نے ان کے کاروبار میں ایک نئی جان ڈال دی۔ مارز اپنے کاروبار کو ملکی سطح پر لانا چاہتا تھا۔ اس کے لیے اس نے دوڑ دھوپ شروع کر دی۔ مارز نے اپنے بار کا اشتہار ’’مالٹڈ ملک بار‘‘کے نام سے چلایا۔ اس طرح یہ بہت زیادہ سیل کرنے والا Candy Bar بن گیا۔ 1929ء میں واشنگٹن سے شکاگو (Chicago)اپنی کمپنی کو منتقل کرلیا۔ یہاں آکر بڑے پیمانے پر پروڈکٹ تیار کرنے کے لیے ایک پلانٹ لگایا ۔ اس سے کاروبار کو کافی وسعت ملی۔ بزنس دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگا۔ فرینک مارز 1934ء میں اس دارفانی سے آنجہانی ہوا۔ بڑے بیٹے Forrest کو اپنی زندگی میں کاروباری پیچیدگیوں اور مشکلات سے روشناس کروادیا تھا۔ ایک بار مارز نے اپنے بیٹے کو کچھ رقم دی کہ وہ اپنا بزنس کرے ، یہ کام اسے آزمانے کے لیے کیا کہ وہ بزنس کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔فوریسٹ نے اپنا کاروبار شروع کیا جو کامیاب رہا، باپ کی وفات کے بعد اپنے اور باپ کے بزنس کو merge کیا۔ اس کے بعد اس کی اولاد نے اس کے کاروبار کو سنبھالاجو ابھی تک کامیاب بزنس رہا ہے۔
فرینک مارز نے جو کاروباری قدریں مقرر کی، اسی پر اس کی تیسری نسل آج بھی عمل پیرا ہے ، ان خوبیوں کی وجہ سے کامیابی ان کے قدم چومتی آئی ہے۔
سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اپنے آپ کو گاہک کی جگہ رکھ کردیکھتے ہیں کہ ہماری پروڈکٹ کی کوالٹی کیسی ہے۔ دوسری یہ ہے کہ ہر کام اپنی ذمہ داری کے ساتھ کیا جائے،اپنے ساتھ کام کرنے والے افراد کو بھی اس کا احساس دلایا جائے۔اس سے پروڈکٹ پر اثر پڑتا ہے۔
تیسری یہ ہے کہ ملازمین کے ساتھ برادرانہ طرزِعمل اپناتے ہیں۔ان سے مشورہ اور رائے بھی لیتے ہیں۔ان کی تجاویز کو زیرِعمل بھی لایا جاتا ہے۔
چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ اپنی پہچان اور ساکھ پروڈکٹ کے ذریعے بنائی جائے کیونکہ گاہک قیمت کے بجائے پروڈکٹ یاد رکھتے ہیں۔
پانچویں یہ ہے کہ وسائل اور ذرائع کو ضایع نہیں ہونے دیتے ، بلکہ انہیں ان کاموں میں استعمال کرتے ہیں جس سے ملک و ملت کو فائدہ پہنچے۔