ملک پاکستان کو قرآن کریم کی سورۂ رحمن کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے۔ جس طرح اس سورت میں بے شمار نعمتوں کا ذکر ملتا ہے،اسی طرح اس خداداد مملکت میں اَن گنت نعمتیں پائی جاتی ہیں۔ اللہ تعالی نے ہمارے پیارے وطن کو قسما قسم کی نعمتوں سے مالا مال کیا ہے۔اس عظیم سلطنت کو ایسے رجالِ کار سے نوازا ہے، جنہوں نے اپنے ملک ہی میں کامیابی کو اپنے قدم چومنے پر مجبور کیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ وطنِ عزیز کا نام روشن کیا۔ پھر بھی کچھ لوگ ایسے ملیں گے جو اپنی دھرتی ماں کو خیر باد کہہ کر بیرو ن ممالک پیسہ کمانے کے لیے جانا چاہتے ہیں۔


وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہاں جاکر مٹی کو ہاتھ میں لیں گے،تو سونا بن جائے گی۔ یہ سمجھتے ہیں کہ وہاں راتوں رات ترقی کی منزلیں طے کرتے چلے جائیں گے، حالانکہ ایسا ہوتا نہیں۔ اپنے ملک سے باہر جاکر وہ کام کرتے ہیں ، جو یہاں کرنے پر آمادہ ہی نہیں ہوتے۔ کسی کی اعلی تعلیم آڑے آجاتی ہے تو کسی کا خاندانی رکھ رکھاؤ چھوٹے موٹے کام کاج میں حائل ہوجاتا ہے۔ آج آپ کو ایک ایسی شخصیت سے متعارف کروایا جاتا ہے، جس نے اپنے ہی وطن میں کپڑے کے مختلف فیکٹریوں میں مزدوری کی۔ اس کام میں کالج کی تعلیم اور خاندان رکاوٹ نہ بن سکا۔ یہ بھی ثابت کر دکھایا کہ پاکستان میں رہ کر کامیاب بلکہ انتہائی کامیاب ہونا ممکن ہے۔


٭… کامیابی ان کے قدم چومتی ہے جن کی امانت داری کی قسمیں ان کے دشمن بھی کھائیں ٭…پاکستان ایکسپورٹ کمپنی کے نام سے خیالی کمپنی بنائی، اعتماد سے بھرپور اب وہ اسٹوڈنٹ سے ، کمپنی کے مالک بن چکے تھے ٭


منیر ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ بہن اور بھائی اس سے بڑے تھے۔ یہ تیسرے نمبر پر تھے۔ ان کی والدہ ہی نے ان تینوں کی کسمپرسی کی حالت میں پرورش کی۔ ان کی ماں ان تینوں بہن بھائیوں کے لیے واحد سہارا تھی، جو محنت مزدوری کرکے ان کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت کا سامان مہیا کرتی رہی۔ اپنا پیٹ کاٹ کر ان کی اسکول کی فیس اور کتابوں کا خرچ برداشت کرتی رہی۔ منیر نے ماں کی محنت اور امیدوں پر پورا اترنے کے لیے غربت کے باوجود پڑھتے پڑھتے تھرڈ ائیر تک پہنچ گئے۔ یہ گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتے تھے۔ ایک دن کالج میں ہی سیڑھیوں پر بیٹھے، سر گھٹنوں پر رکھے سوچنے لگے کہ میرا مستقبل کیا ہے؟ کیا یہی غربت ہی میرا اوڑھنا بچھونا رہے گی۔ بینک کی نوکری کرلوں، شاید دن پھر جائیں، لیکن یہ خیال آیا کہ وہاں سے ساڑھے چھ سو تنخواہ ملے گی۔ کیا اس سے میری غربت ختم نہیں ہوجائے گی؟جواب میں نفی کے انداز میں سر ہلا دیا۔ اس کے بعد سوچا کہ پھر میرے پـڑھنے کا کیا فائدہ ہے؟

اس سوال نے اس کی زندگی کو ایک نئی راہ پر ڈال دیا۔ یہ کالج سے گھر جانے کے بجائے سیدھا بازار گئے۔ جیب میں تین سو روپے تھے۔ یہی اس کا کل سرمایہ تھا۔ یہ ایک پرنٹنگ پریس پر گئے۔ اس سے خیالی کمپنی کا لیٹر پیڈ بنوایا۔ اپنے پیارے وطن کے نام پر فرم کا نام پاکستان ایکسپورٹ کمپنی رکھا۔ کمپنی کی مہر بنوائی۔ یہ واپسی پر فخر اور سر اٹھا کر چل رہے تھے۔ ایک اسٹوڈنٹ سے ایک کمپنی کا مالک بن چکا تھا، حالانکہ کمپنی کا وجود تک نہیں تھا۔ گھر میں داخل ہوئے تو خوشی کے آثار نظر آرہے تھے۔ ماں نے دیکھا تو پوچھے بغیر نہ رہ سکی کہ آج آپ اتنے خوش کیوں ہیں۔ انہوں نے بھی مزے لے لے کر بتایا کہ اب وہ ایک کمپنی کا مالک بن چکا ہے۔ ماں نے اس کی خوب خبر لی، لیکن جس راہ پر یہ چل پڑے تھے، اسی پر ڈٹ گئے۔ اس کے پاس سرمایہ توتھا نہیں۔ اب سوال یہ تھا کہ کاروبار اور کمپنی کو کیسے چلایا جائے، یہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ اس موقع پر منیر گھبرانے کے بجائے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔

منیر کے چند عزیز کپڑے کا کاروبار کرتے تھے۔ رشتہ داروں کی طرف امداد طلب نظروں سے دیکھا۔ کسی نے سہارے بننے کی کوشش نہ کی۔ اب ان کی طرف مزید دیکھنے کی ضرورت نہ تھی۔ منیر نے ہمت ہارنے کے بجائے قدم آگے بڑھائے۔ انہوں نے فیصل آباد کا رخ کیا، جہاں مختلف کپڑے کی فیکٹریوں میں محنت مزدوری کی۔ انہوں نے پیسہ کمانے کے بجائے ہنر سیکھنے کو ترجیح دی۔ کپڑے کی مختلف ملوں میں کام کیا۔ اس دوران کپڑے کے کاروبار کی اونچ نیچ کا پتا بھی چلنے لگا۔ جب ان کی علم یہ بات آئی کہ اس کام میں ادھار چلتا ہے۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ کسی سے ادھار لینے کے لیے اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے، اور اس کے لیے جان پہچان ہونی چاہیے۔ جب اعتماد اور بھروسہ آپ پر کیا جانے لگے، تو آپ کے لیے آسانی کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ انہوں نے اعتماد پر کام شروع کردیا ۔ یہ ادھار پر تھوڑا سامال خریدتے۔ یہ مال آگے بیچ دیتے اور بیوپاری کو بر وقت ادائیگی کر دیتے۔ ان پر آہستہ آہستہ اعتماد کیا جانے لگا۔ پہلے خریدی ہوئی قیمت پر بیچا کرتے، اب تھوڑے سے نفع پر فروخت کرنے لگے۔ مال خریدنا اور پھر اسے بیچ دینا، اس سے منافع کماتے رہے۔ جن بیوپاریوں سے 90 دن میں ادائیگی کا وعدہ کیا ہوتا انہیں ایک مہینہ پہلے ہی پیسے ادا کر دیتے۔

جب ان کا یہ اعتماد بڑھا تو انہوں نے کپڑے کی ایکسپورٹ پر توجہ دی۔ انہیں ایک جرمن کمپنی نے آرڈر دینا شروع کردیے، اس کی آمدنی میں روز بروز اضافہ ہونے لگا۔ اس طرح چند ہی سالوں میں منیر بھٹی امیروں کی صف میں جا کھڑے ہوئے۔ یہ نوکری لینے کے بجائے دینے کے قائل ہیں، اس لیے انہوں نے ایک فیکٹری ’’ڈینم پینٹس‘‘ لگائی۔ دنیا کے مشہور ترین brand کی جینز بنانا شروع کر دیں۔ جنہیں یورپ اور امریکا ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد دوسری فیکٹری لگائی۔ ان کے ہاں کام کرنے والوں کی تعداد 5 ہزار سے زائد ہے۔ ایسا شخص جسے رشتہ دار سپورٹ کرنے کو تیار نہ تھے، آج یہ کتنے بے روزگار ہم وطنوں کی معاونت کرنے لگے۔

منیر بھٹی کی کامیابی کی داستان میں امانت داری کا مرکزی کردار ہے۔ ان کا بھی کہنا ہے کہ کامیابی ان کے قدم چومتی ہے جن کی امانت داری کی قسمیں ان کے دشمن بھی کھائیں۔ امانت داری آپ دوسرے کے لئے نہیں کر رہے ہوتے ہیں، یہ دراصل آپ کا اپنا فائدہ ہوتا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ امانت داری کو اپنی کاروباری زندگی میں سرفہرست رکھیں۔اس طرح دنیا میں نیک نامی اور ترقی ملے گی، اس کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی اللہ تعالی سرخرو کرے گا۔