آپ کو اپنے ارد گرد تین طرح کے انسان ملیں گے:
ایک وہ ہوں گے،جو خوابوں اور خیالوں کی دنیا میں سرگرداں رہتے ہیں۔ ہر وقت خیالی پلاؤ پکاتے رہیں گے۔ خیالات میں کھوئے کھوئے فضائی قلعے تعمیر کرتے رہیں گے۔ دوسری قسم کے وہ ہوں گے، جو باتوں کے دھنی ہوتے ہیں۔ عملی زندگی میں قدم رکھنا ان کے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ان کی باتوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی جست میں زمین سے آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگیں گے۔ بسا اوقات ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں سب کچھ کہہ رہے ہیں ، لیکن ان کی باتیں کھوکھلے نعرو ں کی طرح ہوتی ہیں۔ تیسری قسم کے لوگ جو دھن کے پکے اور عزم کے سچے ہوتے ہیں۔

خوابوں ، خیالوں اور باتوں کے بجائے حقائق اور عملی زندگی پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے اقوال اور افعال میں تضاد نہیں ہوتا۔ عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی انہیں مشکلات کا قدم قدم پر سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن یہ ان سے گھبرایا نہیں کرتے۔ بلکہ جہدِ مسلسل اور استقامت کے تیشے کے ذریعے ان میں سے راہ نکال لیتے ہیں۔ پھر کامیابی ان کے قدم چومتی چلی جاتی ہے۔ اب ہم آپ کو ایک ایسے شخص سے ملواتے ہیں، جو ایک فرانسیسی مینو فیکچرر اور BIC کمپنی کا بانی تھا، جسے جگہ جگہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن پیچھے مڑ کر دیکھنے کے بجائے آگے اور آگے بڑھتا رہااور کامیابیاں اپنے دامن میں سمیٹتا رہا۔

مارسل ٹورِن، اٹلی میں 29 جولائی 1914ء کو پیدا ہوا۔ اس کا باپ ایک انجینئر تھا۔ مارسل نے بھی انجیئنرنگ میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد ایک روشنائی (ink) کی کمپنی میں ملازمت کرنے لگا۔ یہاں پر پروڈکشن منیجر کے طور پر دلجمعی اور لگن کے ساتھ کام کرتا رہا۔ سیکھنے کا موقع جہاں ملا، اسے غنیمت جانا۔ جب اسے یقین ہو چلا کہ وہ اب اپنا بزنس چلا سکتا ہے تو اس نے وہاں سے استعفی دے دیا۔

1945ء میں مارسل نے ایک خالی پڑی ہوئی فیکٹری خریدی۔ اس کے پاس مشینری تھی نہ کوئی پروڈکٹ ۔ عملہ تھا نہ ہی کسٹمرز۔ تھوڑا سا سرمایہ تھا، جو وہ دوران ملازمت جمع کرتا رہا۔ اسی سرمایے کے بل بوتے پر اپنے کاروبار کی عمارت کھڑی کرنی تھی۔ فیکٹری کو بھی چالو کرنا تھا۔ اس نے ہمت ہارنے کے بجائے اپنے حوصلے کو جوان رکھا۔ مارسل نے سب سے پہلے فونٹین پین کے پارٹس اور مکینکل پنسلیں بنا کر سپلائی کرنا شروع کیں۔اس سے آمدنی ہونے لگی، لیکن اس کی توقع سے زیادہ نہ تھی۔ اس وقت فونٹین اور بال پوائنٹ پین دونوں بہت مہنگے پڑتے تھے، کیونکہ ان میں استعمال ہونے والے پارٹس لوہے اور اسٹیل کے ہوتے تھے ۔مارسل نے ان کے لیے لوہے اور اسٹیل کے بجائے پلاسٹک کے بیرل (نلکیاں) بنا کر بال پوائنٹ پین کمپنیوں کو فراہم کرنا شروع کیے۔ دنوں میں اس کی مانگ میں اضافہ ہوا۔ اس طرح مارسل کو خاطر خواہ آمدنی ہونے لگی۔

1949ء میں مارسل نے Bic کے نام سے بال پوائنٹ پین کی لائن متعارف کروائی۔ بالکل سادہ ڈیزائن اور پلاسٹک کے بنائے۔ ان کی قیمت 19 سینٹ مقرر کی، حالانکہ اس وقت فونٹین اور بال پوائنٹ پین کی قیمت 9 سے 13 ڈالر کے درمیان ہوا کرتی تھی۔ مارسل کے بزنس شروع کرنے سے پہلےTurner, Jones, Bushnell, Hobs, Lear, Edison اور Bell جیسی بڑی کمپنیاں بال پوائنٹ پین بنا رہی تھیں۔ مارسل کی کمپنی Bic کی سب سے بڑی حریف کمپنی Gillette تھی، جس نے ہر موڑ پر اس کا مقابلہ کیا۔ ان کمپنیوں کے ہوتے ہوئے مارسل کے لیے مارکیٹ میںجگہ بنانی مشکل تھی، لیکن اس نے پہلے قدم کے طور پر قیمت کم کردی۔ اصول بنایا کہ کم قیمت پر اپنی پروڈکٹ بال پوائنٹ فراہم کرے۔ دوسری اہم چیز یہ تھی کہ پروڈکٹ کی کوالٹی بھی اعلی ہو۔ مارسل نے ان دونوں پر بھرپور توجہ دی۔ ابتدا میں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑالیکن مارکیٹ میں اپنا مقام پیدا کرنا تھا۔مارسل نے اپنے قدم جس منزل کی طرف اٹھا دیے تھے، اب انہیں ڈگمگانے نہ دیا، بلکہ استقامت کے ساتھ چلتا رہا۔

مارسل بال پوائنٹ پین کے ساتھ ساتھ لائٹر اور ریزر بنانے لگا۔وہ اپنی پروڈکٹ میں جدت اور تنوع لے آیا۔ مارکیٹ میں ڈسپوزیبل بال پوائنٹ، لائٹر اور ریزر لایا،حالانکہ اس سے پہلے یہ چیزیں بار بار استعمال ہوتی تھیں۔مارسل نے یورپ کی مارکیٹوں میں اپنی پروڈکٹ پہنچا ئی۔ جہاں بھی اس کی پروڈکٹ گئی،ہاتھوں ہاتھ لی گئی۔ اس کی پروڈکـٹ سستی ہونے کے ساتھ اعلی کوالٹی اور پائیدار بھی تھی۔ اس طرح یورپ بھر میں مارسل کی کمپنی Bic کا سکہ چلنے لگا۔اس دوران ہر مارکیٹ میں Gillette کمپنی کا سامنا رہا، کیونکہ وہ بھی یہ پروڈکٹ تیار کرنے لگی تھی۔ اس کا نام پہلے سے جانا پہچانا ہوا تھا۔ مارسل بھی اس کی پروا کیے بغیر محنت کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اس کی پروڈکٹ کی گونج یورپ سے ہوتی ہوئی امریکا میں سنائی دینے لگی۔

تین دہائیوں سے مارسل کو مختلف کمپنیوں کا مقابلہ کرنا پڑ رہا تھا۔ یہ ایک جنگ کی صورت اختیار کرگیا تھا۔ اپریل 1987ء میں ایک اخبار نے یہ خبرشائع کی کہ مارسل کی کمپنی Bicکے لائٹر استعمال کرنے سے تین افراد جان کی بازی ہار گئے۔ اس خبر کے ساتھ یہ بات بھی چلا دی کہ کمپنی اس نقصان کی تلافی کے لیے ساڑھے تین ملین ڈالر دینے کو تیار ہے۔ اس سے کمپنی کی ساکھ متأثر ہوئی۔ مارسل اسے زندگی کاحصہ جانتے ہوئے اپنی کام میں مگن رہا۔ اپنی پروڈکٹ میں پہلے سے بھی زیادہ کوالٹی کو بہتر بنایا۔ جہد مسلسل اور استقامت کی وجہ سے اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ بحال کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس سب کے باوجود مارسل کسی سے الجھنے اور نقصان پہنچانے سے باز رہا۔ مارسل کا کہنا ہے کہ کسی کے لیے برا نہ سوچیں، کیونکہ دوسرے کے لیے گڑھا کھودنے والا خود ہی اس میں گرتا ہے۔

اگر آپ کامیاب کاروبار کرنا چاہتے تو اپنی پروڈکٹ کی قیمت کم رکھیں اور اعلی معیار کی بنائیں۔ ابتدا میں ہماری پروڈکٹ معیاری ہوتی ہے، جب مارکیٹ میں چل نکلتی ہے تو کوالٹی رفتہ رفتہ خراب ہونی شروع ہو جاتی ہے ۔ اس سے آپ کے کاروبار کا جنازہ نکل جاتا ہے۔