ہورچ نے سرِراہ ایک لوہار کی بھٹی لگا رکھی تھی۔ جس پر یہ کام کرتا تھا۔ یہ ابھی بچہ ہی تھا۔ غریب ہونے کی وجہ سے اسکول نہیں جا سکتا تھا، لیکن ایک خواہش تھی کہ وہ بھی تعلیم حاصل کرے۔ جب صبح کے وقت بچے اسکول جاتے تو اس کا مذاق اڑاتے، اسے لوہار لوہار کہہ کر پکارتے۔ ہورچ کو اس نام سے چڑ تھی۔ اسکول جاتے ہوئے اور پھر واپسی پر بھی بچے اس سے ٹھٹھہ کیا کرتے۔ اس کے دل میں ہونک سی اٹھتی کہ کاش! یہ بھی اسکول جا سکتا۔ لوہار کے نام سے انتہائی درجے کی نفرت اس کے دل میں بیٹھ چکی تھی۔ غربت کی وجہ سے اس کام کو چھوڑ نہیں سکتا تھا، کیونکہ یہی اس کے دانہ پانی کا ذریعہ تھا۔

اب اس نے بھی شام کے وقت اسکول جانا شروع کردیا۔ صبح کام کیا کرتااور اسکول سے واپسی پر رات کے وقت بھی گھر پر کام کیا کرتا۔ یہ ایک پندرہ سالہ لڑکے کے لیے جان جوکھوں کا کام تھا، لیکن ایک جوش اور ولولہ کہ لوہار کے بجائے اپنے نام ہورچ سے جانا پہچانا جاؤں اور اسی سے میری شہرت ہو۔

وہ لڑکا اگسٹ ہورچ تھا، جو تعلیم حاصل کرکے ایک جرمن انجینئر بنا۔ اپنی تعلیم اور اپنے لوہار والے کام کے بل بوتے پر Audi کارمیکر کمپنی کا بانی بنا۔ اسے آٹوموبائل کے سرخیل کی حیثیت سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ ہورچ 12اکتوبر 1868ء کو Winnigen میں پیدا ہوا۔ یہ شروع میں لوہار کا کام کیا کرتا تھا۔ اس کے ساتھ اپنی تعلیم کی طرف توجہ مرکوز رکھی۔ یہاں تک کہ انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کر لی۔ اس کے بعد شپ بلڈنگ میں ملازمت کرنے لگا۔ اس دوران تجربہ اور مہارت کے ساتھ ساتھ اپنی کمپنی کے لیے سرمایہ بھی جمع کرتا رہا۔ اپنی کمپنی قائم کرنے سے پہلے Carl Bens میں بھی کام کرتا رہا۔

1899ء میں اپنی ہی نام پر کمپنی ’’ہورچ‘‘کی داغ بیل رکھی۔ سب سے پہلی گاڑی بھی اپنے ہی نام پر بنائی۔ یہ گاڑی 15 ساتھیوں کی مدد سے تیار کی۔ ہورچ اپنی کمپنی کو مختلف شہروں میں تبدیل کرتا رہا۔ اپنی زمین نہیں تھی۔ اس کے علاوہ تجربات وغیرہ کی وجہ سے بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا پڑا۔ کمپنی کی بنیاد Ehrefeld جرمنی میں رکھی۔ اس کے بعد 1902ء کو Reichenbach میں پھر 1904ء کو Zwichauمیں کمپنی کو منتقل کیا۔

1909ء میں انتظامیہ سے کسی مسئلے پر جھگڑا ہوگیا۔ جس کی وجہ سے کمپنی کو چھوڑنا پڑا۔ اب ہورچ نے دوسری کمپنی بنانے کا ارادہ کیا۔ جب اس کے نام رکھنے کی باری آئی تو یہ وہی نام نہیں رکھ سکتا تھا۔ اس کے لیے ہورچ نے بہت بھاگ دوڑ کی لیکن بے سود۔ اس کے لیے قانونی چارہ جوئی بھی کی۔ وہ پہلی کمپنی حکومتی کاغذات میں رجسٹرڈ ہوچکی تھی۔ کمپنی کا نام ہورچ تو نہ سہی لیکن ایسا لفظ ہو جو اس کے نام کا ہم معنی ہو۔ لاطینی زبان میں ’’Audi‘‘ ایسا لفظ تھا، جو ہورچ کا مترادف تھا۔ ہورچ کا معنی ’’غور سے سننا‘‘اور آڈی کا مطلب بھی یہی ہے۔

پہلی کمپنی چھوڑنے کے ایک سال بعد 1910ء میں Audi کمپنی کی بنیاد رکھی۔ دن رات ایک کر کے کام کرنے لگا۔ پہلی جنگ عظیم کے آثار نمودار ہونے لگے تو جرمن فوج نے ان سے گاڑیاں تیار کروائیں۔ یہ جنگ کسی کے لیے عذاب تھی، کسی کے لیے نعمت۔ ہورچ کے لیے یہ مفید اور کارآمد بنی۔ اب سرمایہ بھی ہورچ کے ہاتھوں آنے لگ گیا۔ پیسے اور خرچ کی پریشانی نہ تھی۔ ہورچ بھی تجربات کر کے مختلف ماڈل کی گاڑیاں تیار کرتا رہا۔ ہورچ ایک تخلیقی ذہن کا مالک تھا۔ اس کی ساتھ ساتھ انجینئرنگ کی تعلیم بھی حاصل کررکھی تھی۔ یہ ایک سونے پر سہاگہ تھی۔ ایک تیسری چیز ہورچ میں یہ تھی کہ وہ اپنا نام روشن کرے۔ اس جذبے کے تحت ہر مشکل مرحلے کو سر کرتا گیا۔ ناممکن کو بھی ممکن بناتا رہا۔

دس سال کے عرصے میں مختلف تجربات کرتا رہا۔ کاروں کے مختلف ماڈل تیار کرتا رہا۔ 1920 ء میں ہورچ اپنی کام میں مہارت حاصل کرنے کے لیے برلن چلا گیا۔ وہاں مختلف کمپنیوں میں مختلف کام کرتا رہا۔ اس پر ایک دھن سوار تھی کہ وہ کام میں مہارت سیکھ کر اپنی کمپنی کی پروڈکٹ کو پوری دنیا میں متعارف کروائے گا۔ ہورچ نے 1937ء میں ایک کتاب لکھی، جس میں اپنے تجربات کا ذکر کیا جو اس نے مختلف کمپنیوں میں کیے تھے۔ ہورچ ایک انجینئر بھی تھا۔ یہ ایک ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں اعزازی لیکچرار کے طور پر پڑھاتا بھی رہا۔

1927ء سے 1930ء تک کا عرصہ حیات Audiکمپنی پر بہت تنگ رہا۔ کمپنی دیوالیہ ہوتے ہوتے رہ گئی۔ اس وقت اس کمپنی کے ساتھ مزید تین چھوٹی چھوٹی کمپنیاں تھیں جو مل کر کاریں تیار کرتی تھیں۔ ان کے آپس میں اختلافات ہونے لگے، جو ان دونوں کے لیے نقصان کا باعث بن رہے تھے۔ پھر انہوں نے مل کر ایک یونین بنائی ۔ اس کی علامت چار کڑیاں تھیں، جو آج بھی Audi کمپنی علامت کے طور پر استعمال کررہی ہے۔اس نئی یونین نے آئندہ سالوں میں موٹر سپورٹ میں بہت ترقی کی۔ دوسری جنگ عظیم سے پہلے 1936ء میں ایک پاور فل کار 6لٹرV 16 انجن 382KW بنائی، جس کی وجہ سے ان کی کمپنی کو بے پناہ شہرت ملی۔

دوسری جنگ عظیم ہورچ کے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئی۔ Audi کمپنی کو جرمن فوج کے لیے 60 ہزار گاڑیاں بنانی پڑیں ۔ پھر ان کے لیے سپیر پارٹس اور ان کی مرمت وغیرہ کرنا۔ اس طرح ہورچ ترقی کا سفر کامیابی کے ساتھ طے کررہا تھا۔ ہورچ نے اسی پر بس نہیں کی، بلکہ اپنے سفر کو آگے جاری رکھا۔ جس مقصد کے لیے ہورچ نے سخت جدو جہد کی تھی۔ وہ ہدف اسے حاصل ہوچکا تھا۔ اسے شہرت مل چکی تھی۔ آج بھی اس کے نام سے Audi کمپنی موجود ہے۔ ہورچ کا کہناہے:

ہمیشہ یاد رکھیں کہ آپ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہیں، جتنا کہ آپ سوچتے ہیں۔ عقل مند کے لیے رکاوٹیں ہی اسے کامیابی کی راہ پر ڈالتی ہیں۔

سخت محنت کرنے سے کبھی مت گھبرائیں۔ کامیابی تک ایک ہی چھلانگ اور ایک ہی جست میں نہیں پہنچا جاتا، بلکہ ایک ایک قدم اٹھانا پڑتا ہے۔

کسی بھی منفی خیال اور خوف کو اپنے ذہن میں نہ آنے دیں۔ خوف زدہ ہونے کے بجائے اس خوف کی وجہ معلوم کریں اور اس کو ختم کریں۔

اپنے ذہن کو منفی سوچو ں سے آزاد رکھیں اور اپنے مقاصد کی طرف توجہ رکھیں۔ ہمیشہ مثبت سوچوں کو ذہن میں لائیں اور منفی سوچوں کو اپنے ذہن سے دور رکھیں اور لوگوں کی نکتہ چینی پر توجہ نہ دیں۔ کامیابی ہر کوئی حاصل کرسکتا ہے، دنیا میں کوئی ایسا کام نہیں جو دوسرا کر سکتا ہے اور آپ نہیں۔