ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جنہوں نے کسی ادارے میں کام کرتے کرتے اپنی پوری زندگیاں گزار دیں۔کتنے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ ایک معمولی کلرک، گارڈ یا باورچی کی حیثیت سے کسی ادارے یا کمپنی میں ملازمت کرتے گزار دیا، لیکن اس سے آگے نہ بڑھ سکے۔کیا ایسا ممکن ہے معمولی درجے سے کام کا آغاز کرنے والا آدمی اپنی محنت اور قابلیت کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کرتے ہوئے دولت مند بن پایا ہو؟ تاریخ اس کا جواب ہاں میں دیتی ہے۔

کتنے لوگ ایسے گزرے ہیں، جنہوں نے کام کا آغاز معمولی مزدور اور ملازم کی حیثیت سے کیا اور ترقی کی کٹھن گھاٹیاں عبور کرتے ہوئے دنیا کے امیر ترین اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے بانی اور مالک بنے۔ عصر گیبریلسن بھی ان میں سے ایک ہے، جس نے ایک اسٹینوگرافر سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔ آخر کار ایک دوست کی مدد سے کمپنی Volvo کی بنیاد رکھی۔ یہ کیسے ممکن ہوا؟ اسی کی زبانی سنتے ہیں۔


٭…1912ء میں نے عملی زندگی کا آغاز سویڈش پارلیمنٹ کے اسٹینو گرافر کے طور پر کیا ٭… 1941 ء میں کمپنی نے 50 ہزار کاریں بنائیں۔ مجھے اپنے آئیڈیے کو مجسم دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ٭


میں 13 اگست، 1891ء کو Korsberga، سویڈن میں پیدا ہوا۔ پانچ سال کا ہوا تو والدین نے ایک اسکول میں داخل کروا دیا۔ ہمارے خاندان میں بھی اپنے بچوں کو پہلے تعلیم دلوائی جاتی، اس کے بعد بزنس وغیر ہ کی طرف پیش رفت ہوتی تھی۔ میں پڑھنے لکھنے میں اچھا تھا۔ 20 سال کی عمر میں بزنس ایڈمنسٹریشن میں گریجویشن کر لی۔ 1912ء میں نے عملی زندگی کا آغاز سویڈش پارلیمنٹ کے اسٹینو گرافر کے طور پر کیا۔ چار سال تک اسی کام کو کرتا رہا۔ اس کے بعد ایک کمپنی SKF میں سیلز ڈپارٹمنٹ کے شعبے میں ملازمت کرنے لگا۔ یہاں رہتے ہوئے دل جمعی اور لگن کے ساتھ کام کرتا رہا۔ جس کے نتیجے میں اس کمپنی کے تحت ایک کمپنی میں پیرس، فرانس میں منیجنگ ڈائریکٹر بنا دیا گیا، اس عہدے پر دو سال تک کام کرتا رہا۔ یہاں مجھے اپنی صلاحیتیں نکھارنے کا موقع ملا۔ میں نے اس سے بھر پور فائدہ اٹھایا۔

1922ء میں SKF کمپنی گروپ کا سیلز منیجر بن گیا۔ جہاں بھی میں نے کام کیا، سیکھنے کو ترجیح دی۔ ہر کام خود کرتا، ملازمین کے ساتھ گھل مل کر رہتا۔ ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کرتا۔ کسی کے حصے کا کام باقی ہوتا تو اس کا ہاتھ بٹاتا۔ اس سے مجھے بہت فائدہ ہوا۔ تمام ملازمین میرا احترام کرتے ۔ مجھے اپنا دوست اور خیرخواہ سمجھتے۔ ماتحت ملازمین اپنا کام خوشی سے کیا کرتے۔ میں بھی ان کی عزت کرتا اور ان کا خیال رکھتا۔ یہ چیز میری ترقی میں بہت کارگر ثابت ہوئی۔ میری کارکردگی ہمیشہ مثالی رہی۔ کمپنی کی انتظامیہ مجھ سے خوش ہو کر پہلے سے بڑے عہدے پر فائز کر دیتی۔ میں نے بھی اپنے کام میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کی بلکہ ان کی امیدوں اور توقعات پر ہمیشہ پورا اترنے کی کوشش کرتا۔

جون 1924ء میں اپنے ایک پرانے دوست گسٹیو لارسن سے اسٹاک ہوم میں طویل عرصے کے بعد ملاقات ہوئی۔ ایک دوسرے سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ کچھ دیر بات چیت کا تبادلہ ہوتا رہا۔ میں نے اس کی مصروفیت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ وہ ایک کمپنی میں انجنیئر ہے۔ میں نے اس کے سامنے ایک آئیڈیا رکھا کہ ہم دونوں مل کر ایک نئی سویڈش آٹو موبائل کمپنی قائم کرتے ہیں۔ لارسن یہ سن کر بہت خوش ہوا اور اس پر کام کرنے کی ہامی بھر لی۔ دو ماہ بعد ہی ہم دونوں نے ایک معاہدہ طے کیا اور اس پر دستخط کیے۔ اس معاہدے میں ہم نے طے کیا کہ کون سا کام کس کے ذمے ہو گا، تاکہ بعد میں کسی باہمی تنازع کی نوبت نہ آئے۔ لارسن اپنی انجنیئرنگ کی وجہ سے ایک نئی کاراور نئی ماڈل پر تیار کرے، یہ اس کی ذمہ داری طے پائی۔ اس کے ساتھ مینوفیکچرنگ پلانٹ پر سرمایہ کاری بھی کرے۔ میرے ذمہ یہ تھا کہ ان کی معاونت کروں، اور اس پروجیکٹ کو کامیاب بنانے کے لیے اس پر اٹھنے والے اخراجات کو پورا کروں۔ ہم دونوں کی محنت بہت جلد رنگ لائی۔ تین سال کے عرصے میں آخر کار ایک سو کاریں بنا لیں۔ اس کامیابی میں میرے دوست لارسن کا بہت ہاتھ تھا، جس نے اپنی ملازمت کے ساتھ اس پروجیکٹ کو وقت دیا اور بغیر کسی معاوضے کے کام کرتا رہا۔ اس پروجیکٹ پر جو خرچ ہوا وہ میں نے پیرس میں منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر کام کرتے ہوئے رقم جمع کی تھی۔

میں نے یہ آئیڈیا دو سال پہلے SKF کمپنی کو دیا، جس میں ملازمت کرتا تھا کہ وہ اپنی کمپنی کے اندر ہی آٹو موبائل مینو فیکچرنگ بزنس شروع کر دیں، اس سے اپنے حریفوں پر فوقیت حاصل ہوسکتی ہے اور اس کے علاوہ سویڈش انڈسٹری پر اس کا گہرا اثر پڑتا، لیکن انہوں نے مجھ سے اتفاق نہ کیا۔ میں اس کمپنی میں ملازمت کرتے ہوئے اس آئیڈیا کو مزید پختہ کرتا۔ میرے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ اس آئیڈیا کو عملی جامہ پہناؤں گا۔در اصل ہوا یوں کہ اس وقت یورپ میں بال بیرنگ کا بزنس بہت ترقی میں جا رہا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ SKF کمپنی بھی بال بیرنگ کے بزنس کو اپنائے، لیکن اس کمپنی کا بورڈ اس سے اتفاق نہیں کر رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ شاید اس طرح مان جائیں کہ آئیڈیا کی عملی صورت ان کے سامنے پیش کروں، لیکن میرے پاس اتنا سرمایہ نہیں تھا اور نہ ہی کوئی کمپنی تعاون کرنے کو تیار تھی۔

میں نے اپنے آئیڈیا کو عملی شکل دینے کے لیے جان توڑ کوششیں جاری رکھے ہوئے تھا۔ میرے عزم کو دیکھ کر SKF ہی کے منیجنگ ڈائریکٹر بجوری نے ہمت بندھائی۔ لارسن بھی شریک کار تھا۔ اس نے اس کے لیے اپنا دفتر، اور اپنی صلاحیتیں وقف کر رکھی تھیں۔ جب انسان عزم کر لیتا ہے تو مشکلیں آسان ہو تی چلی جاتی ہیں۔ SKF کمپنی بھی مہربان ہو گئی،ہمارا تعاون کرنے لگی۔ہم دونوں دوست Volvo کمپنی کی داغ بیل ڈالنے میں کامیاب ہو گئے۔ اب میں سیلز منیجر سے Volvo AB کا منیجنگ ڈائریکٹر بن گیا۔ اس میں لارسن اور میں نے OV4 پہلی سیریز تیارکی، لیکن اسے پذیرائی نہ ملی۔ ہم نے کبھی ہمت نہ ہاری۔ یہ کمپنی دیوالیہ ہونے کے قریب تھی لیکن SKF نے اس پر سرمایہ کاری کر کے کمپنی کو چلتا رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

کاروں کے بعد ٹرک بنانے لگے۔ اس سے کافی ترقی ملی اور کمپنی روز بروز کامیابی کی طرف سفر کر نے لگی۔ اس سفر میں مشکلات کا سامنا رہا ، لیکن اس سے پہلے کٹھن اور مشکل مرحلے طے کرچکے تھے۔ اب ان رکاوٹوں نے ہمیں مزید کامیابی اور کامرانی کی طرف بڑھا دیا۔ 1935ء میں کمپنی مکمل طور پر اپنے پاؤں پر کھڑی ہو چکی تھی۔ 1941 ء میں کمپنی نے 50 ہزار کاریں بنائیں۔ مجھے اپنے آئیڈیے کو مجسم دیکھ کر بہت خوشی ہوتی۔