ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی، صرف تین سال۔ دوپہر کا وقت تھا۔ چند افراد اس کے باپ کو چارپائی پر ڈالے کاندھوں پر لے کر گھر داخل ہوئے، حالانکہ پہلے وہ شام کو پاؤں پر چل کر گھر آتا تھا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی اپنی بانہیں پھیلا دیتا تھا۔ اِس کی آنکھیں بھی ان کی تلاش میں ہوتیں تھیں۔ دیکھتے ہی یہ بھاگ کر اپنے باپ سے چمٹ جاتا تھا، لیکن آج اس کا باپ آنکھیں موندے خاموش تھا۔ یہ اپنی توتلی زبان سے ابو ابو کہہ کر آوازیں دیتا رہا۔ اس کے باپ نے جواب دینا تھانہ دیا ۔ یہ اس کی زندگی کی پہلی مشکل تھی۔


’’جوجیرو‘‘ نے 6 اگست 1875ء کو ہیروشیما میں آنکھ کھولی۔ وہی ہیروشیما جہاں امریکا نے بمباری کر کے 2 لاکھ انسانوں کو چند لمحوں میں زندگی سے محروم کر دیا۔ جوجیرو کا باپ ایک ماہی گیر تھا۔ صبح سویرے بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے گھر سے مچھلیاں شکار کرنے چلا جاتا اور شام کو واپس آ جاتا، لیکن ایک دن سمندر کی بے رحم لہروں سے لڑتا رہا اور آخر کار جان کی بازی ہار گیا۔ جو جیرو کے سر سے باپ کاسایہ شفقت اُٹھ چکا تھا۔ یہ اپنے 12 بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ جب یہ 13 سال کا ہوا تو یہ ایک لوہار کے پاس کام کرنے لگا تاکہ یہ ہنر سیکھ لے۔ اس کا خیال تھا کہ کوئی کام سیکھے بغیر کرنا اولین درجے کی حماقت ہے۔ اگر ترقی کی منزلیں طے کرنی ہیں تو اس کے لیے بھر پور تیاری کرنا ہو گی، ورنہ منہ کی کھانی پڑے گی۔


٭…جب انسان کسی ہنر میں یکتا ہو اور کام کرنے کی لگن ہو تو وہ جہاں بھی جاتا ہے، اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیتا ہے وہ کچھ نیا دنیا کے سامنے لانا چاہتا تھا… پھر وہ دن اس کی زندگی میں آہی گیا 1945ء میں امریکا کی ہیروشیما تباہی میں اس کے سارے پلانٹ تباہ ہوگئے، مگر اس نے ہمت سے کام لیا


جوجیرو کام سیکھ چکا تو اپنے استاد سے اجازت لے کر اپنی دکان کھول لی۔ جوجیرو نے ہمیشہ محنت اور لگن سے کام کیا۔ اسے اپنے کام سے بے حد پیار تھا۔ دن گزرتے رہے اور اس کی دکان چمکتی چلی گئی۔ اب اس نے دکان پر ہاتھ بٹانے کے لیے رکھ لیے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس کے ملازمین کی تعداد 50 ہوگئی۔ ہر کوئی اس کے کاروبار کو رشک کی نگاہ سے دیکھتا۔ کسی کی نظرِبد لگ گئی۔ جاپان میں مالی بحران شروع ہو گیا۔ اس کی آنچ سے جوجیرو کی دکان بھی بچ نہ سکی۔ اس کا بزنس زوال کا شکار ہونے لگا۔ اس نے اسے بیچ کر ایک کمپنی میں پارٹنرشپ کے طورپر کام کرنے لگا۔ اس کے پاس ہنر بھی تھا اور مہارت بھی۔ جب انسان کسی ہنر میں یکتا ہو اور کام کرنے کی لگن اور ولولہ بھی جوان ہو تو وہ جہاں بھی جاتا ہے، اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیتا ہے، اس کمپنی میں حصہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ یہ اس میں محنت مزدوری بھی کرتا۔ رفتہ رفتہ اس کا سکہ کمپنی میں چلنے لگا۔

جوجیرو ہر وقت سوچتا رہتا تھا کہ یہ کوئی ایسی چیز بنائے جو پہلے کسی نے نہ بنائی ہو۔ یہ آئیڈیا اس پر ایسا سوار ہوا کہ ایک دن اسے عملی جامہ پہنا ہی دیا۔ اس نے اپنے بیٹے کی مدد سے 1906ء میں ایک Fangled پمپ بنایا۔ مارکیٹ میں اس کی ڈیمانڈ بڑھنے لگی۔ اس سے کمپنی کے دن پھر گئے۔ اب اس نے انتظامی امور میں دلچسپی لینا شروع کردی۔ کمپنی کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں آ چکی تھی۔ اس نے اس کمپنی کا نام بھی تبدیل کر کے اپنے نام پر ’’مٹسودا پمپ پارٹنرشپ‘‘ رکھ دیا تھا۔ شاید ابھی اسے معلوم نہ تھا کہ اتنی جلد تبدیلیاں لانے کا نقصان بھی جلد بھگتنا پڑتا ہے۔ یہ بہت خوش تھا کہ اس نے کمپنی کو ایک نئی طرح پر ڈالا ہے، لیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے پارٹنر اس کے خلاف ہو چکے ہیں۔ ابھی تو اس کے قدم ٹِک چکے تھے، اس کی محنت کا ثمرہ اسے مل چکا تھا، اس کی شہرت پھیلتی جا رہی تھی، لیکن اس کے پارٹنرز کو ایک آنکھ نہ بھائی۔ ان سب نے مل کر اسے اس کمپنی سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ اسے بے بس ہوکر وہاں سے کوچ کرنا پڑا۔ یہ اس کی زندگی کی تیسری بڑی مشکل تھی۔

جوجیرو بھی بچپن ہی سے مشکلات کا سامنا کرتا آرہا تھا۔ اس کو بھی خاطر میں نہ لایا اور آگے ہی بڑھتا چلا گیا۔ ایک اور نئے بزنس کی داغ بیل ڈالی۔ اس کے خون میں انٹرپرنیور شپ دوڑتی تھی۔ 1912ء میں اس نے بزنس کو شروع کیا، اس کمپنی کا نام ’’مٹسودا ورکس‘‘ رکھا۔ اس میں اسلحہ وغیرہ بناتا۔ یہ بزنس بھی جلد ہی کامیابی کی پٹڑی پر چل پڑا۔ اس کا سب سے بڑا گاہک Russian Craz تھا۔ اس کے بعد جاپانی فوج کے لیے بھی ہتھیار بنانا شروع کیا۔اس بزنس کے ساتھ ایک اور کام کا آغاز کیا۔ جوجیرو ایک ماہی گیر کا بیٹا تھا۔ مچھلیاں شکار کرنے کے لیے جال وغیر ہ بنانے والی کمپنی کی انتظامیہ نے اسے صدر بنا دیا۔جوجیرو نے اس چھوٹی سی کمپنی Toyo Cork Kogyoکو انڈسٹریل مینو فیکچرنگ میں تبدیل کردیا۔

جوجیرو اسلحہ سازی سے آٹوموبائل کی طرف آگیا۔اسلحہ سازی کے بزنس سے یہ مطمئن نہیں تھا۔Toyo Cork کمپنی کامیابی کی راہ پر مسلسل گامزن تھی۔جال وغیرہ کے ساتھ ساتھ جوجیرو نے 1931ء میں 500 سی سی ایک تین پہیہ گاڑی بنائی۔ ایک ہی سال بعد جوجیرو کی پروڈکٹ چین کو ایکسپورٹ ہونے لگی، اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس ایجاد کی مقبولیت اور مانگ کتنی زیادہ تھی۔اب اس کی تمام تر توجہ آٹوموبائل کی طرف ہوچکی تھی۔9سال بعد 1940 ء میں ایک چھوٹی سی پسنچر سیڈان بنائی۔ شومئی قسمت کہ دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے اس پر پابندی عائد ہو چکی تھی۔ وہ اب مزید نہیں بنا سکتاتھا۔یہ ایک اور مشکل آن کھڑی ہوئی۔

6 اگست 1945ء میں امریکا کی ہیروشیما میں بمباری ہوئی۔ اس سے جوجیرو کے وہاں لگائے گئے پلانٹ تباہ ہوگئے۔ جہاں ہزاروں انسان اس آفت سے نہ بچ سکے، اس کا بزنس بھی متأثر ہونے بغیر نہ رہ سکا۔اس نے ہمت نہ ہاری ۔ جو پلانٹ وغیرہ دوسری جگہوں پر تھے، انہی سے کام کو آگے بڑھایا۔1950 ء میں Toyo Kogyo کمپنی نے CT تھری ویلر بنایا۔یہ پروڈکٹ بہت کامیاب رہی۔ اس سے ان کا بزنس بھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے لگا۔1951ء میں جوجیرو نے اس کمپنی کی باگ ڈور اپنے بیٹے سینیجی (Tsuneji)کے حوالے کردی۔ اس نے بیٹے کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھا اور اسے بزنس کی پیچیدگیوں سے شناسا کیا۔اس نے اپنے باپ کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کی۔ 1952 ء میں جوجیرو تو اس دنیا سے چلا گیا، لیکن اس کا لگایا ہوا پودا اب تناور درخت بن چکا ہے۔دنیا بھر کے لوگ اس سے مستفید ہورہے ہیں۔