منچلے اور لاابالی نوجوان دھرتی کا بوجھ تصور کیے جاتے ہیں۔ بری صحبت کا شکار اولادیں زندگی بھر کا روگ بن جاتی ہیں۔ جرائم پیشہ افراد کو ناکارہ مال سمجھ کر حکومتیں انہیں مزید خراب ہونے کے لیے بے کار چھوڑ دیتی ہیں۔ مگر یہ سارے تصورات اور رویے یکسر غلط ثابت ہو جاتے ہیں جب ہم کلائڈ ایل بیزلی کی کہانی پڑھتے ہیں۔ یہ داستان ہمیں اپنا ایسا کوئی بھی فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ ہمیں بتاتی ہے جب نوجوان کسی بات کا عزم کر لیں تو دنیا کا کوئی طوفان یا کوئی پہاڑ ان کے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ اس سے سمجھ میں آتا ہے انسان اخلاقی گراوٹ کی کسی بھی حد تک جا کر اچھے مقاصد کی طرف لوٹ سکتا ہے۔

کلائڈ بیزلی نوجوانوں کی ایسی قسم سے تعلق رکھتا تھاجنہیں معاشرہ ایک دھتکارا ہوافرد سمجھ کر حالات کی بے رحم موجوں کے حوالے کر دیتا ہے۔ منشیات کا عادی، مختلف جرائم کی سزا میں ایک دہائی سے زائد عرصہ جیل میں پڑا کلائڈ اپنی زندگی سے مایوس ہو چکا تھا۔ بیزلی کو لوگ Bad Boy یعنی بدقسمت انسان کہہ کر یاد کرتے تھے۔


٭…انسان ہزار جہان ہے، سیکڑوں عیوب کے باوجود وہ معاشرے کا قیمتی فرد بننے کی صلاحیت رکھتا ہے


پھر اس کی زندگی میں وہ وقت آیا جب اس کی قسمت نے اچانک پلٹا کھایا۔ ہوا یوں کہ وہ ایک رات جیل میں بیٹھا اکیلا Golf Game میچ دیکھنے میں مگن تھا۔ اسٹیڈیم میں اچانک بارش ہو جانے سے میچ روک دیا گیا۔ بیزلی گولف گیم سے حد درجہ شغف رکھتا تھا۔ اسے اس بات سے بڑا صدمہ ہوا ۔اسے یوں لگا جیسے اس کی زندگی کے سارے زخم تازہ ہو گئے ہوں۔ بیزلی نے فیصلہ کیا کہ وہ گولف گیم کو ایسی شکل میں متعارف کروائے گا جس پر موسم کی تبدیلی یا خرابی اثر انداز نہ ہو۔ بیزلی کی سوچ انوکھی تھی۔ اس نے اپنی فکر کی قدر کی اور عملی جامہ پہنانے کا منصوبہ بنانا شروع کر دیا۔

بیزلی نے جیل کی تنہائیوں میں بیٹھ کر ٹینس گیم کا ایک نیا خاکہ بنایا۔ آج پوری دنیا اسے ’’ٹینس ٹیبل‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔ اس کے ذہن میں گالف گیم کی بھی ایک نئی صورت پیدا ہوئی جسے آج ’’Table Golf‘‘ کہا جاتا ہے۔ گیارہ سال کا طویل عرصہ جیل کاٹنے کے بعد کلائڈ جب رہا ہوا تو وہ اپنے ساتھ اتنا بڑا منصوبہ لیے ہوا تھا جو اس کے مستقبل کو روشن کرنے کے لیے کافی تھا۔ بیزلی تردد کا شکار نہ ہوا، اس کی فکر نئی نئی تھی لیکن وہ سنجیدہ ہو چکا تھا۔ رہائی کے بعد گھر پہنچا اور اپنے خیال کو حقیقت کی شکل دینے میں مصروف ہو گیا۔ اس نے اپنے مجوزہ کھیلوں کے قوانین و ضوابط بنائے۔ بازار سے دو سو ڈالر کا ٹیبل اور ضروری سامان خریدا اور کئی دن گھر میں اکیلا پریکٹس کرتا رہا۔ اسے اپنے ایجاد کردہ نئے کھیل میں جدت اور تنوع پیدا کرنے میں کئی دن لگ لگے۔ پہلا تجربہ اپنی گلی کے بچوں اور نوجوانوں پر کیا جہاں اسے بڑی مقبولیت ملی۔ اب بچوں اور نوجوانوں کے جمگھٹے ایک ہی ٹیبل کے گرد انتظار کرنے لگے۔ یہ سلسلہ کئی دن تک چلتا رہا۔ اسے اس سے خاصی آمدن ہونے لگی۔اس پہلے تجربے کے بعد ہی بیزلی کی شناخت بدل چکی تھی۔ وہ اپنی زندگی میں انقلاب واضح دیکھ رہا تھا۔ اس نے مختلف جرائم میں ایک دہائی جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزار ی تھی۔ اپنے بنائے ہوئے منصوبے سے اچھی خاصی آمدنی اس کے لیے گویا نئی زندگی ملنے کے مترادف تھا۔ اسے محسوس ہوا قدرت نے اس کے ہاتھ میں کوئی جوہر رکھا ہے۔ وہ ترقی کے لیے انتہائی سازگار ہے۔ بیزلی نے کامیابیاں اور ترقیاں پانے کا فیصلہ کیا اور اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے کمر کس لی۔

بیزلی اپنے منصوبے اور سوچ کو لیے مختلف کلبوں کے مالکوں سے ملا۔ وہ جس سے ملتا اپنے نئے مجوزہ کھیل کی شکل شیئر کرتا۔ جس پر وہ حیران ہوئے بغیر نہ رہتا۔ بیزلی کو حوصلہ افزائی کم ملی اور نظر انداز زیادہ کیا گیا۔ وہ اپنی ابتدائی کامیابی دیکھ چکا تھا۔ اس لیے مایوس ہونے کے بجائے محنت و کوشش کرتا رہا۔ کچھ لوگ اس کی نئی سوچ کے پیش نظر اسے پاگل قرار دیتے تو کچھ مختلف آوازے کستے۔ مگر ’’قدرِ جوہرجوہری داند‘‘۔ اسی دوران امریکا کی ایک ریاست میں ٹینس کھیلوں کی نمائش کا ایک میلہ لگا۔ بیزلی نے موقع غنیمت سمجھا اور ٹینس کی نئی شکل کے اس تصور کے ہمراہ اس نمائش میں شریک ہو گیا۔ یہ میلہ ایک ماہ تک جاری رہا۔ یہاں سے اسے بے پناہ شہرت ملی۔

ایک کمپنی نے بیزلی کے پیش کردہ ٹینس ٹیبل تیار کرنے کا ٹھیکہ لے لیا اور قیمت فی ٹیبل 150 ڈالر سے 700 ڈالر تک مقرر کر دی۔ بیزلی نے اپنی زندگی کا پہلا تجربہ صرف دو سو ڈالر سے خریدے ہوئے ٹیبل سے کیا تھا۔ اب اسے بازار میں بکنے والے ہر ٹیبل پر اس سے کئی گنا منافع ملنا شروع ہو گیا۔ دن بہ دن بیزلی کا بینک بیلنس بڑھتا رہا۔ 2005 ء میں اپنے زمانے کے ’’سابقہ مجرم‘‘ کا شمار کئی ملین ڈالر رکھنے والے امیروں میں ہونے لگا۔ اس وقت وہ کئی کمپنیوں کا مالک اور معاشرے کا معزز شہری بن چکا ہے۔ مختلف یونیورسٹیاں بیزلی کو ’’کامیابی‘‘ کے موضوع پر لیکچر کے لیے بلاتی ہیں۔ وہ اپنی زندگی کے نشیب و فراز لوگوں کو سناتا اور انہیں مایوسی کے بجائے پر امید رہنے کی تلقین کرتا ہے۔قارئین! ہم اس کہانی سے درج ذیل نتائج اور اسباق بآسانی حاصل کر سکتے ہیں:

٭ انسان ہزار جہان ہے۔ یہ سیکڑوں عیوب کے باوجود کسی نہ کسی پہلو سے معاشرے کا قیمتی فرد بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

٭ ملت کے نوجوانوں سے خیرخواہی اس میں ہے کہ ان کے ٹیلنٹ کی قدر کی جائے۔ انہیں ہر ممکن ایک گوہر نایاب بننے کی کوشش کی جائے۔

٭ کلائڈ کی سوچ نے اسے کھیل کے میدان میں تجدیدی کارنامے پر اکسایا تو ہمارے مسلم نوجوان عالم اسلام کو معاشی اور مذہبی لحاظ سے کئی مفید ترین میدانوں میں اپنی صلاحیتیں آزما سکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے ہر انسان کے دماغ سے روزانہ 4 ہزار فکریں گزرتی ہیں۔ جو انہیں کام میں لانے میں کامیاب ہو جائے وہ بھکاری سے کروڑ پتی اور مجرم سے لیکچرار بن سکتا ہے۔ ہر نوجوان دوست ’’کلائڈ‘‘ کے کردار سے سبق حاصل کرے اور ملک و ملت کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں نچھاور کردے۔