ڈیو تھامس (Dave Thomas) ایک امریکی بزنس مین اور سماجی شخصیت تھا۔ یہ ’’Wendy‘‘ فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ چین کا بانی اور چیف ایگزیکٹو تھا۔ اس نے ایک فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی، جس میں لاوارث اور یتیم بچوں کی پرورش کا سامان کیا جاتا ہے۔ یہ فاؤنڈیشن مختلف پروگرام کے ذریعے یہ مہم چلاتی رہتی ہے کہ لوگ بے سہارا بچوں کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا کر ان کی تعلیم و تربیت کریں۔ ڈیوڈ خود ایک لاوارث بچہ تھا۔ اسے اپنی ماں تک معلوم نہ تھی۔

یہ دوسروں کے ہاتھوں میں پلتا رہا۔ یہ بڑی تکلیف دہ اور کٹھن منزلوں سے گزر چکا تھا۔ اس لیے اس فاؤنڈیشن کے ذریعے بے سہاروں کو سہارا دیا۔ ایک لاوارث اور بے سہارا بچہ کس طرح دنیا کی تیسری بڑی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ چین کا مالک بنا۔ اس کی کہانی اس کی زبانی سنتے ہیں۔


٭…میں اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی یہ سمجھتا ہوں کہ تعلیم کو مکمل کرنے سے پہلے چھوڑ دیا تھا ٭…مالک سے میری ٹھن گئی تو میں نے عزم کیا’’ باس‘‘ اگر ریسٹورنٹ کا مالک بن سکتا ہے تو میں کیوں نہیں؟ ٭


میں 2 جولائی 1932ء کو اٹلانٹک سٹی، نیو جرسی میں پیدا ہوا۔ ابھی چھ ہفتے کا تھا کہ مجھے ریکس اور آلیوا تھامس نے اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا۔ جب پانچ سال کا تھا تو منہ بولی ماں داغ مفارقت دے گئی۔باپ صبح سویرے کام کے لیے گھر سے نکل جایا کرتا تھا۔ میں تنہا اپنی دادای اماں کے پاس رہتا۔ وہ ایک عظیم خاتون تھی، جس نے میری تربیت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس نے مجھے بچپن سے ہی چند اہم باتیں سکھا دی تھیں، جو میری بزنس لائف میں کام آتی رہیں اور میں بھی ان پر کار بند رہا۔یہ باتیں میری سرشت میں شامل ہوگئی تھیں۔ انہوں نے مجھے یہ سکھایا کہ کام اچھا اور درست کرو۔ لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔ کام اور چیز کی کوالٹی پر توجہ دو۔ دوسروں کی خدمت کرو۔

12 سال کی عمر میں ایک ریسٹورنٹ پر کاؤنٹر مین کے طور پر کام کرنے لگا، لیکن وہاں باس سے میری بن نہ پائی۔ میری ملازمت معمولی سے جھگڑے کی وجہ سے چھوٹ گئی، لیکن میں نے یہ عزم کر لیا کہ یہ باس ریسٹورنٹ کا مالک بن سکتا ہے تو میں کیوں نہیں بن سکتا۔ اس کے بعد ایک نئی ملازمت کی تلاش میں اپنے منہ بولے باپ کے ہمراہ نکل کھڑا ہوا۔ یہاں تک کہ ایک ریسٹورنٹ Fort wayne میں کام کرنے لگا، جو انڈیانا (Indiana) میں واقع تھا۔ اب میں یہاں محنت اور دلجمعی سے کام کرنے لگا۔ چند ماہ کے بعد میرے باپ نے کہا کہ میں ایک دوسرے شہر میں کام کے لیے جا رہا ہوں، آپ بھی آ جائیں، لیکن میں اصرار کر کے وہاں رہنے لگا۔ میرا باس Clauss اچھا تھا۔ وہ میرا ہر طرح خیال رکھتا تھا۔ اس لیے یہاں سے جانے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ اس سے پہلے میں کام بھی کرتا اور اپنا تعلیمی سفر بھی جاری رکھے ہوئے تھا۔ اب اسکول چھوڑ کر پورا وقت دینے لگا۔ میں اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی سمجھتا ہوں کہ تعلیم کو مکمل کرنے سے پہلے چھوڑ دیا تھا۔ تعلیم سے محبت ابھی باقی تھی۔ 1993ء میں بڑھاپے کی عمر میں اپنی تعلیم GED مکمل کی۔ اسی وجہ سے میں ایجوکیشن ایڈووکیٹ بنا اور فلوریڈامیں، میں نے ایک ڈیوتھامس ایجوکیشن سنٹر بنایا۔ جہاں مجھ جیسے بڑی عمر کے لوگوں کو تعلیم دی جاتی ہے، جو کسی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر پائے۔

1950ء میں ابھی Clauss کے پاس ہی کام کر رہا تھا کہ KFC کے بانی کرنل ہرلینڈ سینڈرز سے ملاقات ہوئی۔ سینڈرز میرے بنائے ہوئے فاسٹ فوڈ کے ذائقے سے بہت متاثر ہوا۔اسی طرح میرے سیلزمین شپ کے لیے ٹیلنٹ کی تعریف کیے بغیر رہ نہ سکا۔ اس سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہا۔ سینڈرز نے میرے باس کے ذریعے مجھے کہلوایا کہ وہ اگر اس کے چار KFC ریسٹورنٹ جو بند پڑے ہوئے ہیں، ان کو کامیابی سے چالو کر لے تو 45 فیصد کا یہ مالک بن جائے گا۔ جب باس نے مجھ سے یہ کہا تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی، کیونکہ میں تو پہلے ایک ریسٹورنٹ اس وجہ سے چھوڑ چکا تھا کہ میں بھی ایک نہ ایک دن ریسٹورنٹ کا مالک بنوں گا۔ مجھ پر ایک دُھن سوار تھی کہ اپنی ریسٹورنٹ چین بنانی ہے، اس وجہ سے میں نے اپنا 45 فیصد حصہ KFC کو ڈیڑھ ملین ڈالر میں بیچ دیا۔ یہ میری بہت بڑی کامیابی تھی۔

بارہ سال کا تھا تو ریسٹورنٹ میں کام کرنے لگا اور ابھی تک وہی کر رہا تھا۔ مجھے اپنے بارے میں یقین ہو چلا تھا کہ میں Hamburger man ہوں۔یہ میری پروڈکٹ Hamburger میکڈونلڈ کی پروڈکٹ سے کہیں بہتر تھی۔ گاہکوں اور میرے قریبی رشتہ داروں کا اصرار بھی یہی تھا کہ اسی کو بنیاد بنا کر اپنی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ چین قائم کروں۔ آخر کار 1969 ء میں کولمبس شہر کے مرکز میں Wendy کی بنیاد رکھ دی۔ اپنی بیٹی کے نام پر رکھا۔وقت کے گزرنے کے ساتھ Wendy کے لیے ترقی کی راہیں ہموار ہوتی چلی گئیں۔ اس سے ہمت بندھتی گئی۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے بیٹوں کو بھی تفریح گاہوں میں اس قسم کے چھوٹے چھوٹے ریسٹورنٹ بنا کر دیتا۔ اس سے پبلسٹی بھی ہوتی۔ چار سال کے عرصے میں 1973 ء میں Wendy کی فرنچائز بیچنے لگا۔ 20 سال کے بعد یہ دنیا کی تیسری بڑی ریسٹورنٹ چین بن گئی۔ 1985 ء میں میرے لیے خوش نصیبی کا سال تھا، لیکن اگلے ہی سال 76.2 ملین ڈالر کا مجھے نقصان اٹھانا پڑا، لیکن میں نے ہمت نہ ہاری۔ انسان کی زندگی میں کچھ موڑ ایسے آتے ہیں، جو سبق آموز ہوتے ہیں۔ 1970ء میں میرے ایک منیجر نے ’’سلاد بار‘‘ کا مشورہ دیا، لیکن میں نے اس سے اتفاق نہ کیا۔ کچھ عرصے بعد اسی بزنس نے دوسروں کو عروج بخشا۔ اب میرے پاس ہاتھ ملنے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ اس کے بعد ہمیشہ اپنے ملازمین سے مشورہ کرتااور ان کی تجاویز کو اہمیت دیتا۔ اس طرح ملازمین بھی اپنے آپ کو Wendy کا حصہ سمجھتے۔ میں نے اپنے بزنس میں ان چیزوں کا بہت خیال رکھا جو مجھے بچپن میں دادی اماں نے سکھلائی تھیں۔٭ کوالٹی ہمارا اصول ہے۔٭ ہر کام کو درست اور صحیح کرنا ہے۔ ٭دوسروں کو فائدہ پہنچانا ہے ۔٭کسٹمرز اور دوسرے لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنا ہے۔