اگر آپ نے فرانس، دبئی، سعودیہ، یورپی ممالک اور امریکی ریاستوں کی سیر کی ہے تو ضرورت آپ کی نظروں سے Hilton Hotels & Restaurant نامی بلند و بالا اور پرشکوہ عمارتیں گزری ہوں گی۔ آئیے! ان کے موجد سے آپ کا تعارف کرواتے ہیں۔ کونرڈہلٹن کو ان عمارتوں کا موجد اول کہا جاتا ہے۔ اس نے ایک کھاتے پیتے گھرانے میں آنکھ کھولی تھی۔ اعلی تعلیم کے حصول کے بعد ملک میں مختلف ملازمتوں پر فائز رہا۔

وہ فطری طور پر تاجر پیدا ہوا تھا۔ اس لیے ان ملازمتوں میں اسے سکون نہ آتا تھا۔ کیلی فورنیا میں اتھارٹی برائے قانون سازی کا ممبر تھا لیکن بینک میں کام کرنے اور زیادہ پیسے کمانے اور اپنی تجارتی کمپنی چلانے کے خواب دیکھتا تھا۔ انہی خوابوں کی تکمیل کے لیے ہلٹن نے ٹیکساس کا رخ کیا۔ وہ رات کے کسی پہر ٹیکساس پہنچا۔ سفر کی وجہ سے کافی تھک چکا تھا۔ اس نے ایک ہوٹل میں رات گزارنے کا فیصلہ کیا، جب ہوٹل پہنچا تو ہوٹل استقبالیہ نے سے کمرہ دینے سے معذرت کر لی کیونکہ تمام کمرے پہلے سے بک تھے۔ مزید کسی مسافر کی رہائش کے لیے گنجائش نہ تھی۔


٭…’’ہلٹن‘‘ کی کامیابی کے تین راز ہیں: تعمیری سوچ، خیال کو حقیقت بنانے میں سنجیدگی اور چیلنجز کا کھلے دل سے مقابلہ ٭…اس نے ثابت کر دیا ہر چیز کی ابتدا سوچ سے ہوتی ہے، پھر انتھک محنت، روز شب کی تگ و دو اور عزم مصمم اس خیال کو حقیقت میں بدل دیتے ہیں ٭


ہلٹن کافی پریشان ہوا۔ اس کے دل پہ چوٹ سی لگی۔ اس نے اس محرومی کا مقابلہ انوکھے انداز سے کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہلٹن نے عزم کیا وہ ٹیکساس میں اپنا ہوٹل کھولے گا۔ اپنے ارادے کی تکمیل کے لیے وہ کمر بستہ ہو گیا۔ بینک میں ملازمت یا تجارتی کمپنی شروع کرنے کے بجائے اس نے ہوٹل بنانے اور خریدنے کا سوچ لیا۔ ہلٹن کی جیب میں صرف 5000 ہزار ڈالر تھے۔ اس نے بیس ہزار ڈالر بینک سے قرض لیا اور پندرہ ہزار ڈالر اپنے دوستوں سے جمع کر لیے۔ چند ہی دنوں میں ہلٹن نے ٹیکساس کے شہر سیسکومیں ایک ہوٹل خرید لیا۔ اس کا کاروبار آہستہ آہستہ پھلنے پھولنے لگا۔

اس نے ابتدا سے ہی گاہکوں کا اعتماد حاصل کرنے کی طرف خاص توجہ دی۔ صارفین کی خدمت کے لیے مستعد عملہ اور باقی سہولیات کا بھرپور خیال رکھا۔ اس سے لوگوں کا اعتماد ہلٹن انتظامیہ پر بڑھ گیا۔ دس سال کا عرصہ ہی گزرا تھا کہ ہلٹن ٹیکساس میں سات بڑے بڑے ہوٹلوں کا مالک بن چکا تھا۔ یہ وہی شہر تھا جہاں ایک دہائی قبل ہلٹن کو رات ٹھہرنے کے لیے ہوٹل میں ایک کمرہ میسر نہ آیا تھا۔

یہ پہلا امریکی ہوٹل ہے جس نے یورپ، اسپین، استنبول، سعودیہ اور دبئی میں اپنی شاخیں کھولیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہلٹن کے ہوٹلوں میں موجود کمروں کی تعداد 10,2000 ہے۔ جو جدید تقاضوں اور سہولیات سے لیس ہیں۔ ہلٹن ہوٹلز کا مرکزی دفتر کیلی فورنیا کے شہر بیفرلی میں واقع ہے۔ جو ریاست ہائے متحدہ امریکا میں 34 سے زائد ہوٹل براہ راست کنٹرول کرتا ہے۔ جبکہ آسٹریلیا سمیت دنیا کے دیگر ملکوں میں 18 سے زائد ہوٹلوں کے سلسلے بھی یہیں سے کنٹرول ہوتے ہیں۔

پوری دنیا میں ان کی مختلف شاخوں کا سلسلہ 180 کے عدد کو چھوتا ہے۔ اس کامیابی کے بعد ہلٹن نے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ کنسٹرکشن کا پورا شعبہ ترتیب دیا۔ انجینئروں کی ایک ٹیم، نقشہ نگار اور دیگر عملہ بھرتی کیا تاکہ تعمیرات میں کسی دوسرے کا محتاج نہ رہا جائے۔ نیو یارک سٹی میں لوگوں کا عام خیال تھا کہ ایک شہر میں ایک کمپنی کی دو برانچیں یا ایک کمپنی کے دو ہوٹل کھل جائیں تو ان کی آمدن میں کمی آ جاتی ہے، لوگوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ ہلٹن نے نیو یارک سٹی میں دو ہوٹل کھول کر اس خیال کا شیرازہ بکھیر دیا۔

ہلٹن ہوٹل وہ پہلا امریکی ہوٹل ہے جس نے نیو یارک میں اپنے شیئرز بیچے۔ ترقی یافتہ ممالک میں سب سے زیادہ برانچیں رکھنے کا اعزاز بھی اسی کو حاصل ہے۔ دنیا میں سب سے پہلے ہوٹلوں میں Gift Center کھولنا بھی اسی کا کارنامہ ہے۔ گفٹ سینٹر جیسی دیگر کئی سہولیات اور گاہکوں کی خدمت میں انتظامیہ نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ 1959 ء میں ہوٹل انتظامیہ نے ایئر پورٹس اور ہوائی اڈوں میں اپنے ہوٹل کھولنے کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے ایئر پورٹوں میں یہ سہولت دسیتاب نہ ہوتی تھی۔ اس وقت دنیا کے پچاس سے زائد ایئر پورٹوں میں Hilton Hotels اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ کونر ڈہلٹن کی کامیابی کے تین راز ہیں: تعمیری سوچ ، خیال کو حقیقت بنانے میں سنجیدگی اور چیلنجز کا کھلے دل سے مقابلہ۔

کہا جاتا ہے اگر ہلٹن کو اس رات ہوٹل میں آرام کے لیے کمرہ مل جاتا تو آج دنیا Hilton Hotels کے پورے سلسلے کے وجود سے محروم ہوتی۔ ہلٹن کو جب کمرہ دینے معذرت کی گئی تو اس نے مثبت اور تعمیری سوچ سوچی۔ اس نے کہا: میں اپنا ہوٹل کھولوں گا۔ اس نے اپنے خیال کو پھر محض خیال نہ رکھا بلکہ عملی جامہ پہنا کر دنیا کو حیران کر دیا۔ اس کے پاس ہوٹل بنانے کے لیے سرمایہ نہ تھا لیکن وہ گھبرایا نہیں بلکہ بینک اور اپنے دوستوں کی مدد حاصل کی۔ یوں وہ اپنے عزم میں کامیاب ہو گیا۔ آج کیلی فورنیا، نیویارک، شکاگو اور واشنگٹن کے بڑے ہوٹلوں میں کامیاب ہلٹن ہوٹلز سر فہرست نظر آتے ہیں۔ کامیابی اسی شخص کے قدم چومتی ہے جو سوچتا ہے، پھر خیال کو حقیقت کا جامہ پہنانے میں سنجیدہ ہو جاتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے اس کی سوچ خود بخود حقیقت بننا شروع ہو جاتی ہے۔

1979 ء میں کونرڈ ہلٹن انتقال کر گیا لیکن اپنے پیچھے کامیابی کے سنہرے اصول چھوڑ گیا۔ اسے ایک کمرے میں آرام کرنے سے محروم کیا گیا تھا، ہلٹن نے کئی لوگوں کے لیے کمرے بنا کر ثابت کر دیا کہ تعمیری سوچ کے حامل شخص کا دنیا میں کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس نے ثابت کر دیا کہ ہر چیز کی ابتدا سوچ سے ہوتی ہے۔ پھر انتھک محنت، روز شب کی تگ و دو اور عزم مصمم اس خیال کو حقیقت میں بدل دیتے ہیں۔