یوشی سوک ایکوا (Yoshisuke Aikawa)ایک جاپانی انٹرپرینور، بزنس مین اور سیاست دان تھا۔ اس کے ساتھ یہ نسان (Nissan) کارمیکر کمپنی کا بانی بھی ہے۔ ایکوا نے 6 نومبر 1880ء کو جاپان کے شہر Yamaguchi میں آنکھ کھولی۔ پانچ سال کی عمر میں اسکول جانا شروع کیا۔ ان کے خاندان میں تعلیم کے بجائے سیاست پر زیادہ توجہ دی جاتی تھی۔ ایکوا نے اس کے برعکس سیاست کے بجائے تعلیم اور پڑھائی کو ترجیح دی۔ اس کے دوست بھی یہی کہا کرتے کہ یہ بڑا بن کر سیاست کرے گا۔

ان کی باتوں میں آنے کے بجائے اس نے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا۔ اس نے جب گریجویشن کے لیے یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا اور پولیٹیکل کا مضمون چھوڑ کر انجینئرنگ کو اختیار کیا تو اس کے ہم جماعت حیر ان ہوئے کہ سیاست اور انجینئرنگ میں کیا جوڑ!! بلکہ ایک دن ایکوا اپنی پڑھائی میں مگن تھا کہ اس کا ایک جگری دوست آیا۔ اس نے کتابیں چھین لیں اور کہنے لگا کہ تونے کیا انجینئرنگ شروع کر رکھی ہے؟ آپ کو تو سیاست کرنی ہے، اگر پڑھنا ہی ہے تو اسی سے متعلق پڑھ !


٭ ’’ایکوا‘‘ کی کامیابی کا راز یہ تھا کہ وہ کسی بھی عمدہ موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیتا ٭ اپنے تجربات سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ کتابوں کو پڑھ کر ان سے بھی روشنی حاصل کرو ٭


ایکوا نے 1903ء میں گریجویشن کی ڈگری امپریل یونیورسٹی سے حاصل کی۔ اس کے بعد پریکٹس کے لیے Shibaura نامی شخص کے پاس چلے گئے، جو ٹوشیبا کمپنی کو چلا رہے تھے۔ ایکوا جانتا تھا کہ صرف کتابی باتیں عملی زندگی میں کام نہیں آتیں، جب تک ان کی عملی مشق نہ کر لی جائے۔Practice makes a man perfect ’’عملی مشق انسان کو مکمل بناتی ہے۔‘‘ اس کے بعد کسی میدان میں کود کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا یا جا سکتا ہے۔ اپنی خدمات ملک و ملت کو فراہم کی جاسکتی ہیں۔ یہاں تنخواہ بہت کم تھی، لیکن سیکھنے کے لیے اچھا موقع تھا۔ اپنی خواہشات کو دبا کر تن دہی اور دلجمعی سے کام کرتا رہا۔ ہنر سیکھنے کے ساتھ یہ تھوڑی تھوڑی رقم بھی بچا رہا تھا کہ جب کافی ساری رقم اکٹھی ہو جائے گی تو اعلی تعلیم کے لیے امریکا جائے گا۔ اس کے لیے دن رات محنت کر کے، ایک ایک پائی جمع کی۔ آخر وہ دن بھی آن پہنچا کہ وہ امریکا کی طرف رخت سفر باندھ چکا تھا۔ ایکوا نے امریکا آ کر Cast Iron ٹیکنالوجی کا مطالعہ کیا۔ جب تعلیم مکمل کر چکا تو اپنے وطن جاپان کی طرف اس جذبے اور عزم کے ساتھ لوٹا کہ وہ دل و جان سے اپنے ملک اور قوم کی خدمت کرے گا۔

جب یہ جاپان آیا تواس کے پاس کافی سرمایہ نہیں تھا۔ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے بات چیت کی اور ان کے تعاون سے 1909 ء میں Tobato Foundry کی داغ بیل ڈالی۔ اس فاؤنڈری میں کاروں کے اسپیرپارٹس بنانا شروع کیے۔ جلد ہی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا لی۔ آج یہ کمپنی Metals Company Ltd کے نام سے مشہور ہے۔ ایکوا اپنی قابلیت سے کچھ ہی عرصے میں مشہور ہوگئے۔ Kuhara Mining کمپنی نے اس سے متأثر ہوکر اسے اپنا صدر بنانے کی پیش کش کی۔ ایکوا نے اسے غنیمت جانا۔اس کمپنی کا مالک اس کا برادر نسبتی تھا، ایکوا نے اپنی صلاحتیں یہاں آ کر کھپا دیں، کچھ ہی عرصے میں اس کی محنت رنگ لائی اور کمپنی روز بروز ترقی منزلیں طے کرنے لگی۔

اس کمپنی کی سرپرستی کے ساتھ ایکوا نے ایک اور کمپنی تخلیق کی، جس کا نام Nihon Sangyo تھا، جو مختصر ہوتے ہوتے Nissan بن گیا۔ وہی کمپنی آج اس کی پہچان ہے۔ اس وقت یہ دنیا کی کار میکرز بڑی کمپنیوں میں سے چھٹے نمبر پر ہے۔ اس کی کاریں اور گاڑیاں دنیا بھر میں پائی جاتی ہیں۔ اس کے ملازمین کی تعداد 2013 ء کے مطابق ایک لاکھ 60 ہزار 530 تھی۔

1931ء میں مینچورین واقعے کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ میںتیزی آئی۔ ایکوا نے اس موقع کو غنیمت جانا اور کثیر تعداد میں شیئر خرید لیے۔ اس طرح اور بہت ساری کمپنیوں کے شیئرز بھی خریدے۔ ایکوا اس موقع سے متاثر ہوا اور وہ کہا کرتا تھا کہ موقع کو غنیمت جان کر اس سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے ورنہ ’’لمحوں نے خطا کی صدیوں نے سزا پائی‘‘ والے معاملے سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ایکوا کی کامیابی کا راز بھی یہی تھا۔کسی اچھے اور عمدہ موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیتا۔ 1937 ء میں ایک رشتے دار کی دعوت پر Manchukuo شہر میں آ گئے۔ یہاں آ کر ایکوا نے وہاں کی آرمی کے ساتھ اس شہر کی معیشت کی بہتری کے لیے معاہدہ کیا۔ اس موقع سے بھی فائدہ اٹھایا اور اپنی کمپنی Nissan کا ہیڈ کوارٹر بھی یہاں منتقل کر لیا۔ اس شہر میں ایکوا نے اپنی صلاحیتوں کو منوایا۔ اس کی محنت، کام اور پیار سے ہر شخص متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ مختصر عرصے میں اس کا شمار مینچورین انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کمپنی کے مرکزی لوگوں میں ہونے لگا۔ اس دوران ایکوا نے صنعتی کاوشوں کو صحیح راہ پر ڈالا، جس سے اس شہر کی صنعتیں دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگیں۔

ایک بار ایکوا سے سوال کیا گیا کہ آپ جس علاقے میں جاتے ہیں، وہاں کی صنعت میں ایک نئی جان پڑ جاتی ہے۔ اس کی وجہ کیاہے؟ ایکوا نے مسکرا کر جواب دیا: ’’لوگ اپنے تجربات کی روشنی میں فیصلے کرتے ہیں، جب کہ میں اپنے تجربات کے ساتھ ساتھ پڑھی ہوئی کتابوں سے بھی روشنی حاصل کرتا ہوں۔ یہ دونوں چیزیں مل کر میرے کام کو دوآتشہ کر دیتی ہیں۔‘‘