بیسٹ بائی کے بانی رچرڈ شلزے کی کہانی

ماں باپ کے لیے وہ دن خوشی کا سامان لایا جس روز ان کا بیٹا شلزے پیدا ہوا۔ وہ اس خوشی میں اپنے ہمسایوں کو بھر پور طریقے سے شامل نہ کر پائے، کیونکہ غربت اور تنگ دستی نے ان کے گھر میں ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ ان کا گھر ایک جھونپڑی پر مشتمل تھا۔ کھانے پینے کے برتن بھی بقدرِ ضرورت نہ تھے۔ یہ تو اپنی زندگی میں خوشی کا منہ دیکھنے کو ترس گئے تھے، لیکن بچے کی آمد سے ان کے گھر میں خوشی اور ہنسی کی بہار آگئی ۔ شلزے کا باپ ایک مزدور تھا، جو صبح سویرے بیوی بچے کے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے نکل کھڑا ہوتا۔

شام کو گھر لوٹتا تو کھانے پینے کا سامان لے آتا۔ مزدوری نہ ملتی تو فاقہ کرنا پڑتا۔ شلزے آہستہ آہستہ پروان چڑھ رہا تھا۔ اس کے والدین کسمپرسی اور خستہ خالی کے باوجود اپنے بچے کو تعلیم دلوانے کے لیے اسکول بھیجتے۔ شلزے بھی ان کی امیدوں پر پورا اترنے کے لیے اسکول میں پڑھتا رہا۔ اچانک حالات مزید گراوٹ کا شکار ہوئے اور اسے سینٹ پاؤل میں واقع سنٹرل ہائی اسکول کو رنجیدہ دل، نم دیدہ آنکھوں اور بوجھل قدموں کے ساتھ خیر باد کہنا پڑا۔ اس طرح شلزے اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکا۔


٭…شلزے دولت پر سانپ بن کر بیٹھنے کے بجائے اپنی قوم اور تعلیمی اداروں کو نہ بھولا، 2000 ء میں ایک یونیورسٹی کو 50 ملین ڈالر عطیہ دیا ٭…سیلزمین کے حیثیت سے کام کرتے ہوئے شلزے کو سیکھنے کا خوب موقع ملا،25 سال کی عمر میں وہ بہت کچھ سیکھ چکا تھا ٭ شلزے کی کامیابی کی کنجی کم قیمت اور اشیا کی سجاوٹ اور ترتیب تھی ٭


اس کے بعد شلزے روزگار کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا تھا۔ ایک دوست کے کہنے پر U.S ایئر فورس میں بھرتی ہو گیا۔ یہاں پرکام کرتے ہوئے شلزے مطمئن نہیں تھا، لیکن اسے اپنا گھر بھی نظر آ رہا تھا جہاں غربت نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ کھانے کے لیے روٹی، پہننے کے لیے کپڑا اور سر چھپانے کے لیے مکان نہ تھا۔ یہ خیال آتے ہی اپنے دل کو بہلاتا رہتا۔ اس طرح کچھ عرصہ فوج میں گزار دیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کا دل اُچاٹ ہوتا چلا گیا۔ اب اتنی عمر بھی ہو چکی تھی کہ وہ کہیں بھی اچھی ملازمت کے لیے درخواست دے سکتا تھا۔ آخر کار ایک دن وہ فوج کی ملازمت سے دست بردار ہوگیا۔

شلزے گھر میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ رہنے کے بجائے ایک کنزیومر الیکٹرونکس کمپنی میں سیلزمین کی حیثیت سے کام کرنے لگا۔ فوج کی ملازمت کے دوران مختلف علاقوں میں آنا جانا اور مختلف لوگوں سے ملاقات ہوتی رہتی تھی۔ یہ چیزیں سیلزمین کے شعبے میں اس کے لیے کار آمد ثابت ہوئیں۔ سیلزمین کے حیثیت سے کام کرتے ہوئے شلزے کو سیکھنے کا خوب موقع ملا۔ شلزے کا چھوٹی دکان سے لے کر بڑی کمپنی تک کے لوگوں سے ملنا ہوا۔ ان سب کو قریب سے دیکھا۔ ان کے کام کی نوعیت کو سمجھا۔ ان کے مسائل کو بغور ملاحظہ کیا۔ ملازمین کے باس کے بارے میں شکوے اور باس کی ملازمین سے متعلق شکایت اس نے سنیں۔ اس کا معمولی کسٹمرز سے بھی واسطہ پڑتا تھا، وہ بھی بڑی کمپنیوں اور بڑے اسٹورز سے نالاں تھے کہ وہ ایک عام اور غریب آدمی کی دسترس میں نہیں ہیں۔ شلزے ان مسائل پر غور و فکر کرتا کہ وہ ان کو کیسے حل کر سکتا ہے۔ اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ وہ کوئی ایسی کمپنی بنائے، جس میں یہ ملازمین کی تربیت اور ضروریات کا خیال رکھ سکے۔ ہر طبقے کے گاہک اس سے مستفید ہو سکیں۔

25 سال کی عمر میں شلزے بہت کچھ سیکھ چکا تھا۔ 1966 ء میں اپنے گھر میں ہی آڈیو آلات (Audio equipment) کا اسٹور کھول لیا۔جلد ہی اس کے کاروبار کا حجم 9اسٹورز تک جا پہنچا۔ شلزے نے اپنے اسٹورز میں چیزیں اس طرح سجائیں کہ کسٹمرجو چاہے، وہ اپنے ہاتھ اٹھا کر دیکھے، پرکھے ، پسند کرے اور پھر خریدنے پر آمادہ ہوجائے۔ ان اشیا کی قیمت بھی ہمیشہ کم رکھی۔سیلز مینی کے دوران مختلف بڑی کمپنیوں سے تعلق استوار کر لیے تھے۔ اس کی وجہ سے بآسانی مال مل جاتا تھا۔شلزے کی کامیابی کی کنجی کم قیمت اور اشیا کی سجاوٹ اور ترتیب تھی۔ یہاں سے سیلز کی اٹھان نے اسے دنیا کی بڑی کمپنی کا مالک بنا دیا۔ اس نے رینیڈو اسٹور سے نام تبدیل کر کے Best Buy رکھا۔ اب اس کے اسٹورز دنیا بھر میں نظر آتے ہیں۔ صرف اس کے ملازمین کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار ہے۔ شلزے نے اپنے اسٹورز کے لیے ایک فارمیٹ بنایا کہ وہ 18 ہزار اسکوئر فٹ کے اسٹورز بنائے گا۔ کم قیمت پر اشیا دستیاب ہوں گی۔ اپنے ملازمین کی ٹریننگ کروائے گا۔ غریب اور معمولی تنخواہ والا مزدور بھی اس کے اسٹورز تک پہنچ پائے گا۔ اس کے ساتھ وہ اپنی کمپنی کی خوب ایڈورٹائزنگ بھی کرے گا، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہو سکیں اور کمپنی ترقی کی چوٹیاں سر کرتی چلی جائے۔

اس کا فارمیٹ مقبول ہوا اور کنزیومر الیکٹرونکس کی ڈیمانڈ میں رو زبروز اضافہ ہوتا گیا۔ 1966 ء سے شروع ہونے والا کاروبار ایک اسٹور 1989 ء میں 40 اسٹورز تک جا پہنچا۔ شلزے الیکٹرونکس کے ساتھ کمپیوٹر سوفٹ ویئرز اور ہارڈ ویئر بھی سیل کرنے لگا۔ 1994 ء میں پہلے فارمیٹ کو تبدیل کر کے 45 ہزار اور 58 ہزار اسکوائر فٹ کے اسٹور بنوائے۔ 1995 ء میں اسٹورز کی تعداد 155 ہو چکی تھی اور سیل 5 ارب ڈالر کی ہوئی۔

شلزے کے پاس مال و دولت کے انبار لگ گئے، ان پر سانپ بن کر بیٹھنے کے بجائے اپنی قوم اور تعلیمی اداروں کو نہ بھولا۔ 2000 ء میں ایک یونیورسٹی کو 50 ملین ڈالر عطیہ دیا۔ اس کے علاوہ بھی اس نے اپنے گاؤں جو اب شہر کی صورت اختیار کر چکا ہے، میں ایک اسکول اور ایک کالج بنایا، خود تو شلزے اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کر سکا تھا، لیکن دوسرے غریبوں کے بچوں کو ناخواندہ نہیں دیکھ سکتا تھا۔

اگر ہم بھی کوئی کاروبار کرنے سے پہلے کاروباری پیچیدگیوں کی سوجھ بوجھ لے لیں، پھر مستقل بنیادوں پر کام کریں تو ملٹی نیشنل کمپنیوں کی فہرست میں کسی مسلمان کی کمپنی بھی نظر آئے گی، ورنہ دل میں حسرت ہی رہے گی۔