لارس ارسن (Lars Ericsson) ایک موجد اور انٹرپرینور تھا۔ اس نے 1876 ء میں اپنے ایک دوست کی مدد سے ایک چھوٹی سی الیکٹرو مکینیکل ورکشاپ کھولی، جس نے ترقی کرتے کرتے ایک دن کمپنی ارسن (Ericsson)کی صورت اختیار کر لی۔ آج اس کی پروڈکٹ دنیا بھر میں پائی جاتی ہے۔ اس کمپنی کے ملازمین کی تعداد ایک لاکھ 10 ہزار سے زیادہ ہے۔ اس کی سالانہ آمدن 230 ارب ڈالر ہے۔ لارس اپنی کامیابی کا سہرا اپنے ملازمین کے سر باندھا کرتا تھا۔ ایک بار اس سے سوال کیا گیا کہ اپنے ملازمین سے بہت شفقت سے پیش آتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ لارس رنجیدہ ہوگیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو چھلکنے لگے، وہ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعدکچھ یوں بولا۔ آئیے! سنتے ہیں۔


میں اپنا بچپن یاد کرتا ہوں، جب میں اپنے گاؤں میں اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلا کرتا تھا۔ہمارا گاؤں بہت خوب صورت تھا۔ ہر طرف سرسبزہ اور شادابی ہوتی تھی۔ زندگی خوشی ہنسی میں گزر رہی تھی۔ صبح سویرے اٹھتا۔ دوستوں کے ساتھ مل کر اسکول پڑھنے جایا کرتا تھا۔ آپس میں ہنسی مذاق بھی ہوتا تھا، لیکن ایک جانکاہ حادثے نے میرے چہرے سے خوشی کے آثار چھین لیے۔ میری مسکراہٹ کافور ہو گی۔ اسکول جانا بھی چھوٹ گیا۔ دوستوں کے ساتھ گاؤں میں گھومنا پھرنا ختم ہو گیا۔ اب میرا سب کچھ لُٹ چکا تھا۔ میرا باپ اس وقت فوت ہوا، جب میری عمر صرف 12 سال تھی۔ باپ کا سایۂ شفقت میرے سر سے اٹھ چکا تھا۔ میں بہن بھائیوں سے سب سے بڑا تھا۔ اب ان کی پرورش کی ذمہ داری بھی میرے کاندھوں پر آپڑی تھی۔ میری ماں گھریلو کام کے ساتھ باہر گاؤں میں بھی محنت مزدوری کرنے لگی۔ یہ دیکھ کر مجھ سے برداشت نہ ہو سکا کہ میں اسکول میں پڑھتا رہوں اور میری ماں باہر کھیتوں میں کام کرتی پھرے۔


ایک یتیم کی دل چُھو لینے والی داستان جو ملازمین کی قدر کے ترقی کی منزلیں طے کرتا چلا گیا انعام اللہ بھکروی ہمیشہ ملازمین کی ضرورت کا خیال رکھا، جس کی وجہ سے انہوں نے مشکل وقت میں مجھے اکیلا نہ چھوڑا


میرا تعلیمی سلسلہ رک گیا تھا اور میں ایک کوئلے کی کان میں کام کرنے لگا۔ میری عمر بھی زیادہ نہیں تھی، اس وجہ سے زیادہ مزدوری بھی نہ ملتی ، حالانکہ کام بہت کرنا پڑتا تھا۔ مجبوری کی وجہ سے میں وہاں کام کرتا رہا۔ اگر مجھے کوئی ڈانٹ پلاتا تو میں خاموشی سے ڈانٹ ڈپٹ سہہ جاتا۔ یہاں سے جو اجرت ملتی، اس سے گھر کا بمشکل گزارہ ہو تا تھا۔ میں پائی پائی جمع کرتا رہا کہ Stockholm میں جا کر کوئی میکنیکل کام سیکھوںگا۔ 9 سال کی مسلسل اور لگاتار محنت مزدوری سے اب اتنی جمع پونجی ہو چکی تھی کہ اسٹاک ہوم میں جا سکتا تھا۔ اب میرے چھوٹے بھائی اتنے بڑے ہو چکے تھے کہ گھریلو ذمہ داریوں میں میرا ہاتھ بٹا سکتے تھے۔ 1876 ء کو اپنے کاندھوں سے گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ اتار کر چھوٹے بھائیوں کے حوالے کیا اور اسٹاک ہوم کا رخت سفر باندھا۔ وہاں پہنچ کر کئی دن ملازمت ڈھونڈنے میں لگ گئے۔ مختلف کمپنیوں کے دَر کھٹکھٹائے، بیسیوں کمپنیوں کی خاک چھاننے کے بعد آخر کار ایک کمپنی Ollers&Co میں نوکری مل گئی۔ اس میں معمولی تنخواہ تھی۔ میرے پاس ہنر تو تھا نہیں۔ میری مثال ایک کورے کاغذ کی سی تھی۔ یہاں جاب مل جانا میرے لیے غنیمت تھا۔ دن گزرنے کے ساتھ کام سیکھتا گیا۔ اس کے بعد میری تنخواہ بھی بڑھ گئی۔ یہاں بھی کوئی برا بھلا کہتا تو خاموش ہی رہتا۔ لڑائی جھگڑے سے کوسوں دور بھاگتا تھا۔ میری کوشش یہ ہوتی تھی کہ جس کے پاس مجھے سیکھنے کے لیے کچھ مل سکتا ہے، اس کے مزاج اور رویے کی پراوہ کیے بغیر اس سے استفادہ کرلوں۔ میری اس عادت سے بہت سارے ملازمین میرے دوست بن گئے۔ وہ مجھے خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ مختلف چیزیں سکھاتے۔ یہاں سے میری ملازمین سے دوستی ہو گئی اور آج بھی اپنی کمپنی میں ملازمین کی قدر کرتا ہوں۔ انہیں کمپنی کی جان سمجھتا ہوں۔ ان کے بغیر کوئی کمپنی ترقی نہیں کر سکتی، بلکہ ان کا وجود ہی کمپنی ہے۔ عام طور پر باس اور منیجرز کا رویہ سنگدلانہ ہوتا تھا۔مجھے اس کا بارہا تجربہ ہوا۔ مجھے بہت دکھ ہوتا تھا، جب ملازمین پر ظلم کیا جاتا تھا۔ انسان سے سیکھنے کے دوران غلطیا ں بھی سرزد ہوتی ہیں۔ کسی ملازم سے غلطی ہو جاتی تو اسے نکال باہر کیا جاتا۔ میرا بہت دل کڑھتا تھا۔

لارس اپنی داستان آگے بڑھاتے ہوئے کہتا ہے کہ جس کمپنی Ollers&Co میں جاب کرتا تھا، وہ ٹیلی گراف کے آلات بناتی تھی۔ اس میں رہتے ہوئے میری پاس اب اتنا ہنر آ چکا تھا کہ سویڈن واپس جا کر اپنا بزنس چلا سکتا تھا، لیکن وطن واپس جانے کے بجائے اسٹاک ہوم میں ہی ایک چھوٹی سی الیکٹرو مکینیکل ورکشاب کی بنیاد رکھی۔ میرے پاس اتنا سرمایہ نہیںتھا کہ اس کے لیے جگہ خرید سکوں۔ میرے پاس صرف چند ایک اوزار اور ایک 12 سالہ لڑکا معاون کے طور پر تھا۔ ابتدائی دنوں میں ٹیلی فون کے آلات وغیرہ کی مرمت کرتا تھا۔ رفتہ رفتہ میرا کاروبار بڑھنے لگا۔ جو بھی گاہک میرے پاس آتا، اس کا کام پوری دیانت داری سے سر انجام دیتا۔ اس طرح کسٹمرز مجھ سے بہت خوش تھے۔ کاروبار کی ترقی کے ساتھ کام بھی بڑھ گیا۔ اب ہم دو آدمی ناکافی تھے۔ ملازمین کی ضرورت پڑی، اور ملازمین رکھ لیے۔ میں ان کی ہر طرح کی ضرورت کا خیال رکھا کرتا تھا۔ اس سے مجھے یہ فائدہ ہوا کہ کوئی ملازم مجھے چھوڑ کر نہ جاتا، بلکہ دلجمعی اور دیانت کے ساتھ کام کرتا۔ میں اپنی کامیابی کا راز ملازمین کو سمجھتا ہوں۔ آپ کا رویہ اور برتاؤ ان کے ساتھ جتنا اچھا ہو گا، یہ کام بھی اچھے طریقے سے سر انجام دیں گے۔ ان کو میں نے کبھی حقیر نہ سمجھا۔ 1880ء میں یعنی چار سال کے بعد ملازمین کی تعداد 10اور 1984 ء میں ان کی تعداد تقریبا ایک سو ہو گئی۔

میری ایک چھوٹی سی ورکشاپ نے 6 سال کے بعد ایک Ericsson کمپنی کی شکل اختیار کر لی۔ مجھے یقین ہے یہ ہمیشہ اپنی کامیابی کا سفر جاری رکھے گی۔ ایک بار پھر کہوں گا کہ ملازمین کو حقیر نہ سمجھا جائے۔ یہی آپ کی کمپنی ہیں۔ آپ کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان پر سرمایہ کاری کریں، اس کا نفع دگنا چوگنا پائیں گے۔