اس نے اپنے والدکے روبرو چند سیکنڈ میں درجنوں سوال داغ دیے۔ اس کا والد اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا۔ یہ صرف اس نوجوان کے سوال نہیں تھے، بلکہ ہر اس بچے کے سوالات ہوتے ہیں جو جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ نہیں پاتا کہ اس کے کاندھوں پر ذمہ داریوں کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے۔ وہ اسے اپنے ساتھ ظلم گردانتا ہے اور تنہائی میں خود کلامی کرتے ہوتے سوالات دہراتا ہے اور موقع ملنے پر پھٹ پڑتا ہے۔ یہی سوال نوجوان کی ترقی، کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ کرتے ہیں۔ دنیا کا ہر نوجوان، بلکہ ہر ذی شعور شخص اگر ان سوالوں کا جواب تلاش کرنے لگے تو اس کا سفر مختصر بھی ہو جاتا ہے اور بامراد بھی۔


جوہن ولرڈ میریٹ نے 17ستمبر 1900ء کو امریکا میں آنکھ کھولی۔ اس کے باپ کا ایک فارم تھا۔ جس میں اس نے مویشی پال رکھے تھے۔ میریٹ جوں جوں بڑھتا اور بڑا ہوتا گیا، اس کا اکثر وقت اپنے باپ کے ساتھ فارم پر کام کرتے گزرنے لگا۔جب یہ اسکول سے واپس گھر آتا تو اس کا باپ اپنے ساتھ کام پر لے جاتا۔ اس کا باپ مال دار ہونے کے باوجود نوکروں کے ساتھ خود کام کرتا اور اپنے اکلوتے بیٹے کو بھی کام میں جوئے رکھتا اور بسا اوقات کہیں جاتا تو فارم کی ذمہ داری میریٹ کو سونپ دیتا کہ وہ اس کی غیر موجودگی میںدیکھ بھال اور نگہداشت کرے۔ آئے روز کی ذمہ داریوں اور کاموں سے پُر زندگی سے میریٹ بہت تنگ آ چکا تھا۔ جب وہ اسکول جاتا تو اس کے ہم جماعت چھٹی کے بعد کھیل کود کا پروگرام بناتے اور کبھی پکنک منانے کے منصوبے کرتے، لیکن میریٹ خواہش کے باوجود دوستوں کے ساتھ کھیل کود پاتا، نہ پکنگ منانے جا سکتا تھا۔ اس کے ساتھی مذاق بھی اُڑاتے کہ یہ اپنے باپ کے ساتھ فارم پر کام کرتے کرتے اپنا مستقبل تباہ کر بیٹھے گا، اسے اپنے کیریئر کی فکر نہیں۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ باپ کی سختی جھیلنے والا اپنے مستقبل اور نام کور روشن کرے گا۔ انہیں کیا پتا تھا کہ فرماں برادر بیٹوں کا مستقبل کبھی تاریک نہیں ہوا کرتا۔ انہیں کیا سمجھ تھی کہ عقل مند باپ اپنے بیٹوں کو آوارہ کے بجائے مصروف دیکھنا چاہتے ہیں۔ تعلیم کے ساتھ انہیں اپنا کوئی پیشہ بھی سکھا دیتے ہیں، جو انسان کی زندگی میں مشکل وقت آ پڑنے پر بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔


ذیلی سرخی)کالج سے واپسی پر اس نے ایک کیبن کے گرد جمگھٹا دیکھا، بس یہی لمحہ اس کی زندگی کا یوٹرن ثابت ہوا


میریٹ اپنے دوستوں کی باتوں سے تنگ آ گیا تھا۔ آخر ایک دن اپنے باپ کے سامنے وہ سب کچھ اُگل دیا جو کافی عرصے سے اس اندر ہی اندر پک رہا تھا۔ ابو! میرے دوستوں اور ہم جماعتوں کے والدین تو ان سے اتنا زیادہ پیار اور محبت کرتے ہیں، لیکن آپ میرے لیے شفقتِ پدری سے خالی ہیں۔ ابھی میری عمر ہی کیا ہے کہ مجھے ہر وقت بیل کی طرح کام میں جُتا رکھتے ہیں۔ طاقت سے زیادہ میرے اوپر ذمہ داری کا بوجھ لادا جاتا ہے۔ باپ نے اسے کوئی جواب دینے کی بجائے اسے اپنے سینے سے لگایا اور کہا کہ وقت آپ کے سوالوں کا جواب دے دے گا۔

ایک دن باپ نے میریٹ کو بلا کر کہا کہ مجھے سان فرانسسکو میں ریل کار کے ذریعے 3 ہزار بھڑیں بھیجنی ہیں، میرا دل چاہتا ہے کہ آپ جائیں اور سفر سے لطف اندوز ہوں اور سان فرانسسکو کی سیر و سیاحت بھی کر لیں۔باپ کے منہ سے یہ سن کر میریٹ بہت خوش ہوا۔ وہ دن کتنا خوش گوار تھا، جب اس نے رخت سفر باندھا۔ آسمان پر کہیں بادل کی ٹکڑیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ اس کا دل بلیوں اچھل رہا تھا۔ والدین نے اسے دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔ اس نے بھی جاتے ہوئے الوداعی نظروں سے دیکھا اور آگے بڑھ گیا۔ یہ سفر اس کی توقعات سے کہیں زیادہ مشکل تھا۔ اس وقت میریٹ چودہ سال کا تھا۔ اس سفر سے وہ لطف اندوز تو نہ ہو سکا، لیکن اس سفر نے اس کے لیے عملی زندگی میں قدم رکھنا آسان بنا دیا۔ اس سفر کے دوران پرانے سوالات کا جواب مل گیا۔ یہی سفر اس کی کامیابی کا پہلا زینہ تھا۔

اس کے بعد میریٹ نے اپنی کالج لائف میں ہی بزنس شروع کر دیا۔ اس دوران بہت سارے بزنس کیے۔ کسی ایک کو مستقل اختیار نہ کیا، لیکن اس کے اندر جذبہ تھا کہ وہ ایسا بزنس کرے گا جو اس کے لیے منافع بخش اور ملک و ملت کے لیے مفید ہو۔

ایک دن وہ کالج سے واپس آ رہا تھا، جب وہ چوک میں پہنچا تو دیکھا کہ لوگوں کا ایک جم غفیر ہے، جو ایک کیبن نما گاڑی کے آس پاس جمع ہے۔ لوگ وہاں سے آئس وغیرہ خرید کر کھڑے کھڑ ے کھارہے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ آئس کریم اور دیگر کھانے پینے کی چیزیں ختم ہو گئیں۔ اس چھوٹے سے بزنس سے متاثر ہوکر میریٹ نے عزم کر لیا کہ وہ یہاں ہوٹل کھولے گا اور اس میں ایسا انتظام کرے گا کہ لوگ بیٹھ کر اور آرام سے کھانا وغیرہ کھاسکیں۔

میریٹ نے اپنے نام پر ہی میریٹ ہوٹل کھولا۔ اسے خوب نفع ہوا۔ اس نے اپنے ہوٹل پر ملازمین رکھ لیے۔ اس نفع بخش بزنس کو دیکھ کر میریٹ نے ہوٹل کھولنے شروع کر دیے۔ اس کے ہوٹلوں کی تعداد کے ساتھ ساتھ ملازمین بھی بڑھتے گئے۔ اب اس کے ہوٹلوں کی تعداد 143 اور 1400 ریسٹورنٹ ہیں، جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کی سالانہ آمدنی 5 ارب ڈالر اور ملازمین کی تعداد 2 لاکھ ہو چکی ہے۔ میریٹ اپنی کامیابی کا سہرا اپنے والد کے سر باندھتا ہے، جس نے اسے بچپن سے محنت کرنے کی عادت ڈالی، جسے وہ بچپن میں سختی اور ظلم سمجھتا تھا۔