سرکاری ملازمین اپنے اپنے دفاتر جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ مائیں اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کی تیاری کر رہی تھیں۔ یہ نوجوان بھی کوٹ پتلون پہن کر یونیورسٹی جانے والا ہی تھا کہ اچانک اسے آواز سنائی دی۔ بیٹا! آج سے آپ نے یونیورسٹی نہیں جانا۔ اس نے پیچھے پلٹ کر دیکھا تو اس کا باپ اسے یونیورسٹی جانے سے منع کر رہا تھا، جو اسے اب تک اپنا پیٹ کاٹ کر بڑے چاہ سے تعلیم دلوا رہا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا۔


مکیش امبانی والد کا حکم مان کر ہندوستان کا امیر ترین شخص بن گیا مکیش کے خیال کے مطابق جب آپ ایک پروڈکٹ پر کام کرتے ہیں تو پھر ناگہانی آفت کی وجہ سے آپ کی پشت زمین سے جا لگتی ہے، اس لیے ایک کاروبار کے بجائے بہت سارے آپ کام کریں، اگر ایک نقصان میں جا رہا ہے تو دوسرا آپ کو نفع دے گا


اس نے اپنے باپ سے پوچھا۔ ابو! آج کوئی خاص بات پیش آئی ہے، جس کی وجہ سے آپ مجھے یونیورسٹی جانے سے روک رہے ہیں۔ یہ بات اس کے لیے اچنبھا تھی، کیونکہ اس کے باپ کی خواہش تھی کہ اس کا بیٹا پڑھ لکھ کر بڑا انسان بنے اور اپنے باپ کا نا م روشن کرے۔ ’’ہاں بیٹا! اب بڑھاپے کے بادل میری طرف امڈنے لگے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرا ہاتھ بٹائیں۔ میرے کام کا بوجھ سہاریں۔ میں چاہتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی آپ میرے کاروبار کو سنبھال لیں۔ ‘‘ باپ کی یہ باتیں سن کر اس نے سر جھکا یا اور سوچنے لگا۔ اس کے دل و دماغ میں خیالات کا ایک طوفان کھڑا ہو چکا تھا۔ وہ گومگو کی کیفیت میں تھا۔ وہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ وہ باپ کو اثبات یا منفی میں جواب دے۔ اس نے بڑی محنت سے پڑھا تھا اور اعلیٰ تعلیم کے لیے دن رات ایک کیا تھا۔ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہتا تھا، لیکن ایک کڑا امتحان اس کے سر ہو چکا تھا۔

مکیش امبانی ایک تاجر ہے اور ہندوستان کا امیر ترین شخص ہے۔ یہ ایک کمپنی کا چیئرمین، مینجنگ ڈائریکٹر اور اس کا سب بڑا شیئر ہولڈر ہے۔ فوربس میگزین 2013 ء کے مطابق یہ دنیا کا 37 واں امیر ترین شخص ہے۔

مکیش امبانی کی کہانی کا آغاز اس دن سے شروع ہو گیا تھا، جس روز اس کے باپ نے یونیورسٹی جانے سے اسے روک دیا تھا۔ مکیش امبانی کا بچپن دوسرے بچوں سے مختلف نہیں ہے۔ اس نے بھی دوسرے بچوں کی طرح تعلیم حاصل کی اور اپنا تعلیمی سفر جاری رکھے ہوئے تھا۔ اس کے سامنے بھی ’’کچھ کرنے‘‘ کا جذبہ تھا۔ اس جذبے اور ولولے کے تحت مکیش نے میٹرک کرنے کے بعد کیمیکل انجینئرنگ کی ڈگری B.E حاصل کی۔ اس کے بعد ایم بی اے کی ڈگری کے لیے اسٹینو فورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا، اس دوران والد کے کہنے پر تعلیمی سفر مؤخر کر دیا۔

ہوا یوں کہ اندرا گاندھی کے دورِ حکومت میں سرکا ر نے 1980 ء میں PFY (Polyester Filament Yarn) مینو فیکچرنگ پرائیویٹ سیکٹر کے لیے کھولی۔ مکیش کے باپ دھرو بھائی امبانی نے لائسنس کے لیے درخواست جمع کروا دی کہ وہ PFF مینو فیکچرنگ پلانٹ لگانا چاہتا ہے۔ اس وقت سخت مقابلے کے فضا تھی۔ Tatas, Birlas اور 43 لوگ ان جیسے اور بھی میدان میں اترے ہوئے تھے۔ قدرت کا ایسا کرنا ہوا کہ دھرو بھائی مکیش کا باپ لائسنس حاصل کرنے میںکامیاب ہو گیا۔ اب مسئلہ یہ پیدا ہو گیا کہ اس پلانٹ کو کون چلائے۔ دھرو بھائی اکیلا تو چلانے سے رہا۔ اس مشکل سے نکلنے کی یہ راہ سوجھی کہ وہ اپنے بڑے بیٹے مکیش کو یونیورسٹی سے نکال کر اپنے ساتھ کام میں شامل کرلے اور اس نے ایسا ہی کیا۔ مکیش کو کہا تو اس نے سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے باپ کے حکم پر سرِتسلیم خم کیا۔ یہی موڑ مکیش کے لیے کامیابی کا سرچشمہ ثابت ہوا۔ اس کے بعد اس کی کامیابی کا سفر شروع ہوا اور آج تک رواں دواں ہے۔ مکیش نے ابتداء میں ’’Reliance‘‘ کو ٹیکسٹائل سے پولیسٹر فائبرس کی طرف لے آیا۔ اس نے دیکھا کہ اس میں نفع اس کی توقع کے مطابق نہیں ہے۔ یہ اپنے کاروبار کو مزید ترقی دینا چاہتا تھا۔ ٹیکسٹائل اور پولیسٹر فائبرس میں مکیش کا تجربہ نہیں تھا اور اسے اس کے صحیح طریقے کا علم بھی نہیں تھا، کیونکہ مکیش نے تو کیمیکل انجینئرنگ میں تعلیم حاصل کر رکھی تھی۔ کچھ ہی عرصے میں اس نے کمپنی کو پٹروکیمیکل کی طرف لے آیا۔ اس میں پٹرولیم کی ریفائننگ کا کام ہونے لگا۔ اس سے آئل، گیس وغیرہ حاصل کی جانے لگی۔

ہر پروڈکٹ کا ایک سیزن ہوتا ہے اور وہ اس موسم میں خوب چلتی ہے اور کمائی بھی زیادہ حاصل ہوتی ہے۔ مکیش کے خیال کے مطابق جب آپ ایک پروڈکٹ پر کام کرتے ہیں تو پھر ناگہانی آفت کی وجہ سے آپ کی پشت زمین سے جا لگتی ہے، اس لیے ایک کاروبار کے بجائے بہت سارے آپ کام کریں، اگر ایک نقصان میں جا رہا ہے تو دوسرا آپ کو نفع دے گا۔ اس طرح آپ اپنے کاروبار کی گاڑی متحرک رکھ سکیں گے۔ مکیش نے اس کے بعد Reliance Infocomm Limited کی بنیاد رکھی اور اس میں انفارمیشن اور کمیونیکشن ٹیکنالوجی پر کام کرنے لگا۔ اس طرح مکیش کامیابی کا سالوں کا سفر مہینوں اور دنوں میں طے کرنا لگا۔