اگست 1966 ء ایک غمگین دن تھا، جس روز 21 سالہ نوجوان اسٹین فورڈ یونیورسٹی امریکا سے واپس اپنے کمرے میں آیا۔ کھانا کھانے کے بعدکچھ دیر آرام کرنے کے لیے لیٹا ہی تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ اس نے ریسیور اٹھا کر کان سے لگایا تو دوسری طرف اس کی ماں رو رہی تھی۔ یہ پریشان ہوگیا اور پوچھنے لگا امی! امی! کیا ہوا؟؟ بیٹا! آپ کے ابو… وہ… وہ… ہمیں تنہا چھوڑ کر چلے گئے۔ کیا مطلب!؟ آپ کے ابو کوہارٹ اٹیک ہوا ہے۔

یہ خبر سنتے ہی ریسیور اس کے ہاتھ سے گر پڑا اور اسے اپنے اردگرد کی چیزیں گھومتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ جب وہ تھوڑی دیر بعد سنبھلا تو فوراً فلائٹ بک کروائی اور اپنا سارا سامان وہیں چھوڑ کر گھر کی طرف چل پڑا، اس امید کے ساتھ کہ وہ واپس آ کر اپنی تعلیم مکمل کر ے گا، لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ باپ کی وفات کی کال اس کی زندگی کو ایک نئی راہ پر ڈال دے گی۔ وہ نوجوان ’’عظیم پریم جی‘‘ ہے۔ اس کے باپ محمد پریم جی کا انتقال 51 سال کی عمر میں ہو گیا تھا۔ اس نے باپ کے کاروبار کا بیڑا اٹھایا اور آج 2014 ء فوربس میگزین کے مطابق یہ ہندوستان کا چوتھا اور دنیا کا 61 واں امیر ترین شخص ہے۔ یہ ایک کمپنی Wipro کا چیئرمین اور مالک بھی ہے۔ یہ کمپنی دنیا کے 66 ممالک میں موجود ہے اور اس کے ملازمین کی تعداد ایک لاکھ 46 ہزار 53 ہے۔

 


٭… اس کا اپنا کوئی وژن نہیں تھا، حالانکہ ترقی کے مواقع موجود تھے اور یہ ان کو ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا، چنانچہ اس نے یہ وژن بنایا کہ خاندان کا نام روشن کرے گا

عظیم پریم جی اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتا تھا، کیونکہ اس کے باپ کا اپنا ذاتی کاروبار تھا، جو اسے سنبھالنا پڑا۔ خوش قسمتی سے اس کے خون میں محنت اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ دوڑتا تھا۔ خود کو والد کا حقیقی جانشین تصور کرتے ہوئے کاروبار میں لگ گیا۔ اس کا دادا بھی تاجر تھا جس نے انڈیا میں رائس ٹریڈنگ کمپنی لگا رکھی تھی۔ اس کے باپ محمد پریم جی نے اسے کوکنگ آئل کمپنی میں تبدیل کر دیا جسے ویسٹرن انڈیا ویجی ٹیبل پروڈکٹس سے جانا جاتا تھا۔

پریم جی نے جب اپنے باپ کی کمپنی کی کمان سنبھا لی تو اس کے لیے ایک مسئلہ تھا۔ باپ نے اسے بزنس کے بارے میں کبھی نہیں بتایا تھا، نہ اس نے کبھی دلچسپی لی تھی، کیونکہ اس نے اپنی توجہ تعلیم پر مرکوز کر رکھی تھی۔ کمپنی کو چلانے کی سوجھ بوجھ حاصل کرنا پریم جی کے لیے بہت ضروری تھا۔ مسئلے کے حل کے لیے اس نے ایک پروفیسر سے ملاقات کی جو بمبئی میں ایک مینجمنٹ اسکول چلا رہا تھا۔ اسے اپنی پریشانی بتائی اور کاروبار کے لیے مفید کتابوں کے بارے میں رہنمائی چاہی۔ پروفیسرنے اسے مختلف کتابیں بتا دیں۔ یہ انہیں بازار سے خرید کر پڑھنے لگا۔ ایک سال تک باقاعدگی سے کتابیں پڑھتا رہا۔ ان سے کاروبار کے بنیادی اصول و ضوابط سیکھنے کو ملے۔ ان کی روشنی میں اس نے اپنی کمپنی کو ایک مربوط اور جدید سسٹم دیا اور قابلِ اصلاح چیزوں کو درست کیا۔

جب کمپنی کیباگ ڈور اس کے ہاتھ میں آئی تو اس وقت کمپنی کے ملازمین کسانوں کے پاس جا جا کے مونگ پھلی اور زرعی اجناس دیکھتے کہ وہ کوکنگ آئل کے قابل ہے کہ نہیں۔ اس طرح کمپنی کے اخراجات بہت بڑھ جاتے۔ اس نے یہ تبدیلی کی کہ اب ملازمین کو کسانوں کے پاس جانے کے بجائے ان سے کہہ دیا کہ وہ اپنی زرعی اجناس کا نمونہ ہمیں دکھا دیا کریں، ہم اسی سے خریدنے کا فیصلہ کرلیں گے۔ اس طریقے سے ان کی کمپنی کے اخراجات میں حیران کن کمی آئی۔ اب ملازمین کھیتوں میں گھومنے کے بجائے کمپنی کے اندر کام کرنے لگے تھے۔دوسری اصلاح پریم جی نے یہ کی کہ کمپنی سے بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا، کیونکہ انڈیا میں 70 کی دہائی میں کرپشن عام تھی۔

ان دواہم اور قابلِ اصلاح چیزوں کے بعد کمپنی سے مناسب منافع حاصل ہونے لگا، لیکن عظیم اس سے مطمئن نہیں تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ کمپنی مزید ترقی کرے لیکن اس کے پاس کوئی وژن نہیں تھا، حالانکہ ترقی کے مواقع موجود تھے اور یہ ان کو ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس نے ایک وژن بنایا کہ خاندان کا نام روشن کرے گا۔ اس کے لیے اس نے ایک دوسری پروڈکٹ صابن (Soaps) اور بیوٹی پروڈکٹس بنانے لگا۔ پھر ایک تیسری پروڈکٹ کنسٹرکشن کے آلات وغیرہ بنانے لگا۔ اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ 1970ء میں ہندوستانی حکومت نے ایک قانون پاس کیا کہ غیر ملکی کمپنیاں ہندوستانی کمپنیوں سے الحاق شدہ ہوں تو وہ اس ملک میں کام کر سکتی ہیں ورنہ نہیں۔ آئی بی ایم وغیرہ کمپنیاں یہاں سے کوچ کرگئیں۔ اس سے آئی ٹی میں ایک خلا پیدا ہو گیا جسے پریم جی نے پُر کرنے کی حامی بھر لی۔ اس کا کہنا ہے کہ اس وقت ہمیں آئی ٹی کے بارے میں بالکل معلومات نہیں تھیں لیکن ایک عمدہ موقع تھا جسے ضائع کرنے کو جی نہ چاہا۔ اپنے عزم کو پورا کرتے ہوئے اس نے بنگلور میں چار ہزار مربع فٹ جگہ پر ایک دفتر کرائے پر حاصل کیا اور آئی ٹی کے ماہرین کی خدمات حاصل کیں اور ایک سال کے اندر اس کی کمپنی wipro نے پہلا کمپیوٹر لانچ کر دیا۔ یہ کمپیوٹر بالکل آئی بی ایم والوں کی طرح تھا اور قیمت اس سے بہت کم تھی۔ عوام کی طرف سے خوب پذیرائی ملی اور جلد ہی اس کی کمپنی ہندوستان میں کمپیوٹر کمپنی کے طور پر مشہور ہو گئی۔

کہتے ہیں دن ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ پریم جی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ 1990 ء میں حکومت نے اپنے قانون میں نرمی پیدا کی تو دوبارہ غیر ملکی کمپنیاں آنے لگیں، جس سے ان کا بزنس بہت متاثر ہوا لیکن اس نے بھی ہمت نہ ہاری۔ بلکہ وہ بھی اپنی کمپنی کی پروڈکٹ دوسرے ممالک میں ایکسپورٹ کرنے لگا اور کمپنی کو گلوبل کمپنی بنا دیا۔ اس نے کہا کہ جب دوسرے ہمارے ہاں آسکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں ان کے پاس جاسکتے؟

آج ہمارے ملک میں بھی غیرملکی کمپنیاں اپنی پروڈکٹس بیچ کرمنافع کما رہی ہیں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنی پروڈکٹ ان ممالک میں پہنچائیں۔ جب یہ جذبہ ہمارے اندر پیدا ہو گا تو ہم بھی ترقی کریں گے۔ ہمارے وطن عزیز میں بھی ہر طرح سے خوش حالی آئے گی۔