’’کاش! آج میرا باپ زندہ ہوتا اور اپنی آنکھوں سے دیکھتا کہ میرا بیٹا کہاں کھڑا ہے اور فخر سے سر اٹھا کر کہتا: میرے بیٹے نے میرا خواب شرمندۂ تعبیر کر دیا ہے۔‘‘ رپورٹر نے فِل سے اس کے کسی ارمان کی بابت پوچھا تو اس نے جواب دیا ۔ فِل نائٹ ’’Phil Knight‘‘ ایک امریکی بزنس مین اور سماجی شخصیت ہے۔ یہ ’’NIKE‘‘ کمپنی کا چیئرمین اور بانی ہے۔ NIKE کا تلفظ ’’نائیکی اور ’’نائیک‘‘ دونوں طرح سے کیا گیا ہے۔ ہمارے دیار میں دورسرا زیادہ مشہور ہے۔

اگست 1966 ء ایک غمگین دن تھا، جس روز 21 سالہ نوجوان اسٹین فورڈ یونیورسٹی امریکا سے واپس اپنے کمرے میں آیا۔ کھانا کھانے کے بعدکچھ دیر آرام کرنے کے لیے لیٹا ہی تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ اس نے ریسیور اٹھا کر کان سے لگایا تو دوسری طرف اس کی ماں رو رہی تھی۔ یہ پریشان ہوگیا اور پوچھنے لگا امی! امی! کیا ہوا؟؟ بیٹا! آپ کے ابو… وہ… وہ… ہمیں تنہا چھوڑ کر چلے گئے۔ کیا مطلب!؟ آپ کے ابو کوہارٹ اٹیک ہوا ہے۔

جمعرات کا دن تھا۔ یونیورسٹی میں صبح سے ہی چہل پہل شروع ہو چکی تھی۔ ایک لان میں اسٹیج سجا ہوا تھا۔ خوبصورت شامیانے لگے ہوئے تھے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ طلبہ کی ٹولیاں جگہ جگہ نظر آ رہی تھیں۔ وہ گپ شپ میں مصروف تھے اور بات بات پر قہقہے لگا رہے تھے۔ ان کے چہروں سے خوشی کے آثار صاف دکھائی دے رہے تھے۔وہ خوش اس لیے تھے کہ آج ان سے دنیا کے دسویں امیر ترین شخص نے خطاب کرنا تھا۔ اپنی کامیابی کے راز سے پردہ اٹھانا تھا کہ بارہ سالہ اخبار فروش بچہ کیسے دنیا کا امیر ترین آدمی بن گیا۔

ٹامس باٹا کی کامیابی کا سفر ایک مزدور کے ایک فقرے سے شروع ہوا اور اس کے بعد وہ کسی جگہ رکا نہیں۔ وہ مزدور اب بوڑھا ہو چکا تھا۔ واجبی سی تعلیم تھی، لیکن تجربات سے مالامال تھا۔ وہ زندگی کے پُرپیچ راستوں سے خوب واقف تھا۔ یہ اسی بوڑھے مزدور کے تجربات سے بھرپور فقرہ تھا جس نے اسے عام موچی سے ملٹی نیشنل کمپنی کا مالک بنا دیا، جس کا آج بھی شہرہ ہے۔ ٹامس نے موچی کا کام شروع کیا۔

سرکاری ملازمین اپنے اپنے دفاتر جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ مائیں اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کی تیاری کر رہی تھیں۔ یہ نوجوان بھی کوٹ پتلون پہن کر یونیورسٹی جانے والا ہی تھا کہ اچانک اسے آواز سنائی دی۔ بیٹا! آج سے آپ نے یونیورسٹی نہیں جانا۔ اس نے پیچھے پلٹ کر دیکھا تو اس کا باپ اسے یونیورسٹی جانے سے منع کر رہا تھا، جو اسے اب تک اپنا پیٹ کاٹ کر بڑے چاہ سے تعلیم دلوا رہا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا۔

میں اس بات کا زندہ ثبوت ہوں کہ آپ دیانت دار رہتے ہوئے دولت بھی کما سکتے ہیں
اٹلی کی اس عورت کے لیے وہ دن بہت کٹھن تھا، جس روز اس کا خاوند اس دنیا سے کوچ کر چکا تھا۔ ڈھیروں ذمہ داریاں اس کے کاندھوں پر ڈال دی تھیں۔ چار بچے اور پانچواں بچہ ماں کے پیٹ میں تھا۔ ان کی پرورش کا بوجھ اسے ہلکان کیے جا رہا تھا۔ چھ ماہ کے بعد پانچواں بچہ بھی اس دنیا میں آوارد ہوا، جہاں غربت اور تنگدستی کی حکومت تھی۔ گھر میں فاقے پر فاقہ ہو رہا تھا۔ پانچ سال کا عرصہ اسی کیفیت میں بیت گیا۔